ملا لہ کے بیان پر اپنے ھم خیال دوستوں سے اختلاف

 ملا لہ کے بیان پر اپنے ھم خیال دوستوں سے اختلاف

تحریر: حماد حسن

عوام کی حاکمیت، پارلیمان کی بالادستی، سول سپر میسی، عدالتی نظام کی بہتری، انصاف کی یکساں فراہمی اور اظہار رائے کی آزادی کے لئے ایک طویل عرصے سے بحیثیت ایک لکھاری یا صحافی جو کچھ لکھا اس پر ہمیشہ سینہ تان کر فخر بھی کیا اور اپنے نظریات اور کمٹمنٹ سے لمحہ بھر کو پیچھے بھی نہیں ہٹا، یہی وہ حقیر سی جدوجہد تھی جس نے ہمیشہ عزت اور شہرت سے نوازا۔ اسی جدوجہد کے قافلے میں بہت سے نام ایسے ہیں جن کی جدوجہد، عزت اور نام کے سامنے ھم جیسے لوگ حیرت فروشی ہی کرتے رہتے ہیں لیکن چونکہ ھم سب ایک ہی منزل کے مسافر  اور ایک ہی قافلے کے رفیق ہیں اس لئے محبتوں اور ھمدردیوں  کے سلسلے بھی یکجا ہیں لیکن ضروری یہ بھی نہیں کہ ہر حوالے سے ہمارا فکری سمت ایک ہی رخ میں ہو اور ھم اختلاف کی جرآت سے بھی محروم ہو جائیں۔ میں پہلے بھی کئی بار ڈنکے کی چوٹ پر اپنے اختلافی نوٹ  کو واضح کر چکا ہوں خصوصاً جب گلالئی اسماعیل نے خیبر پختونخواہ کے ضلع صوابی میں پردے کیلئے خواتین کی اوڑھنے والی روایتی چادر (جسے مقامی زبان میں چیل کہتے ہیں) کا مذاق اڑایا۔ یاد رہے کہ میرا اور گلالئی اسماعیل دونوں کا تعلق بھی صوابی سے ہے بلکہ اس کے والد پروفیسر اسماعیل اچھے دوست بھی ہیں، چیل کا مذاق اڑانے کے بعد گلالئی اسماعیل نے مذہبی اور روایتی اقدار کو بھی اپنی تنقید کا  نشانہ بنایا تو میرے تمام ھم قافلہ رفقاء اور میں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے تھے۔ اور اب تازہ معرکہ ملالہ یوسفزئی کے اس بیان کے حوالے سے درپیش ہے جو ملالہ نے ایک میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے دیا کہ نکاح کی بجائے کسی مرد اور خاتون کے لئے پارٹنرشپ میں رہنا زیادہ اچھا ہے۔ چونکہ یہ بات ملالہ یوسفزئی نے کی اس لئے لازم ٹھہرا کہ جو کوئی بھی  شخص اسٹبلشمنٹ کے جبر، آمریت پسندی، غیرآئینی اقدامات کے خلاف اور جمہوریت، سول سپر میسی اور اظہار رائے کی  آزادی کیلئے کسی جدوجہد کا حصہ ہے تو فوری طور پر ملالہ کے بیان کی تائید کرے اور اپنی جدوجہد پر مہر تصدیق ثبت کرے اسی لئے بہت سے ایسے دوست بھی ملالہ یوسفزئی کی وکالت کرنے لگے جو ذہنی اور فکری طور پر ملالہ کے بیان کی تائید نہیں کرتے لیکن ”مجبوری“ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بیان کا ھماری سیاسی اور جمہوری جدوجہد سے کون سا تعلق ہے اور یہ کون سا کمک فراہم کر رہی ہے جس کی حمایت لازم ہے البتہ یہ ملالہ یوسفزئی کا ذاتی خیال ہے جسے بیان کرنے کا اسے یقیناً حق بھی حاصل ھے لیکن اسے جمہوری جدوجہد سے وابستہ قافلے کا مشترکہ بیانیہ نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی اس کی حمایت کی جائے گی کیونکہ ہر معاشرے کے اپنے اپنے مذہبی، سماجی اور فکری اقدار ہوتے ہیں جسے وہ معاشرہ اپنے ارتقائی عمل میں بھی ساتھ لے کر چلتا ہے اسی لئے تو جمہوریت کی بنیادی نرسری برطانیہ نے جمہوریت سے ھم آھنگ ہونے کے باوجود بھی بادشاہت یا چرچ کو مکمل طور پر اکھاڑنے کی بجائے اسے آئینی تحفظ اور بقاء فراہم کیا کیونکہ وہ معاشرے اپنی اقدار کے حوالے سے حد درجہ حساس اور ذمہ دار ہیں۔ یہ صورتحال  سویڈن اور ڈنمارک جیسے فلاحی اور انتہائی ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہے۔ گویا جمہوریت اور ترقی ایک الگ چیز ہے جبکہ اپنے اقدار سے جڑے رہنا ایک الگ معاملہ! بات  یہ ہے کہ کیا ملالہ یوسفزئی جہاں مقیم ہے اس معاشرے کی بنیادی اقدار پر بھی  اس طرح کی تنقید کر سکتی ہیں جس طرح کی تنقید یا یکسر مختلف نقطہ نظر ماری اقدار کے بارے میں پیش کر رہی ہیں؟ ذرا برطانوی بادشاہت کو بھی جمہوریت کے راستے کی دیوار کہہ کر تو دکھائے. لیکن اہم سوال یہ ہے کہ ملالہ یوسفزئی کے بیان کی تائید آخر کیوں کی جائے، کیا یہ بیان ھمارے معاشرے کے مطالبے پر دیا گیا؟ کیا ملالہ کے نظریات کو یہ معاشرہ قبول کرنے پر آمادہ ہے؟ کیا ملالہ کو یہ استحقاق حاصل ہے کہ اس کی رائے سے اختلاف نہ کیا جائے؟ اگر ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو پھر ملالہ یوسفزئی بے شک برطانیہ جیسے کھلے ڈھلے معاشرے میں کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہیں تاھم اس سے اتفاق اور اختلاف کرنے والے لوگ اپنی اپنی رائے بھی دیتے رہیں گے اور یہ حق بھی  سب کو حاصل ہے۔ جاتے جاتے تلخی سے بچتے ہوئے کوئی سوال بھی اٹھاتے جائیں تو کیا برائی ہے۔ اس ملک (پاکستان) میں ایک طویل عرصے سے سیاسی کارکن، صحافی، دانشور اور سیاسی لیڈرز جمہوریت اور آئین کی بالادستی کیلئے انتہائی مشکل جدوجہد کر رہے ہیں، خورشیدشاہ سے خواجہ آصف تک کئی سیاسی رہنماء آج بھی زندانوں میں پڑے ہیں، کتنے صحافیوں کو بے روزگار کیا گیا، کتنے صحافیوں کو اٹھایا گیا، کتنوں پر حملے ہوئے اور کس کس کو خطرناک دھمکیوں کا سامنا ہے، جس سیاسی رہنماء نے بولنے یا سر اٹھانے کی کوشش اسے نیب کے مقتل میں لایا گیا، عدالتوں میں گھسیٹا گیا اور مقدمات کی بھر مار کر دی گئی، ووٹ کا حق آر ٹی ایس سسٹم نامی بلا نے ہڑپ کر لیا، آئین اور قانون وہ خنجر بن گئے ہیں جس سے صرف ”دشمنوں“ کا سر اڑایا جاتا ہے سو ملالہ یوسفزئی سے گزارش ہے کہ اس وطن اور معاشرے کا مسئلہ نکاح اور پارٹنرشپ قطعاً نہیں کیونکہ ان معاملات کو وہ  اپنے مذہبی، سماجی اور معاشرتی حدود سے باھر نکل کر طے کرنے پر تیار ہی نہیں البتہ اس ملک اور معاشرے کا مسئلہ آئین اور قانون کی پامالی، ریاستی جبر، اظہار رائے کی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق سے محرومی ہی ہے.جس کے لئے جمہوری سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی، دانشور اور صحافی ایک انتہائی مشکل جدوجہد سے گزر رہے ہیں، سیاسی رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے اور صحافیوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ چونکہ ملالہ یوسفزئی کا تعلق بھی میری طرح یوسفزئی قبیلے سے ہے اور ملالہ بخوبی جانتی ہے کہ اس قبیلے کی دلیر حربی تاریخ بھی غضب کی ہے اس لئے وہ اپنے نام کا لاج رکھتے ہوئے اپنی پیش رو ملالوں (ایک ملالہ نے بونیر اور دوسری ملالہ نے کابل کے نواح میں لڑتے ہوئے تاریخ رقم کی تھی) کی مانند رضاکارانہ طور پر اس میدان کارزار کا رخ کریں گی جہاں آئین و قانون، جمہوریت کی سربلندی، آزادی اظہار رائے کیلئے ایک معرک برپا ہے۔ ملالہ بہن دنیا دیکھ رہی ہے کہ ھم کمزور بھی ہیں اور گھیرے میں بھی ہیں لیکن ھم نے پھر بھی ہتھیار نہیں پھینکے، پھر بھی میدان نہیں چھوڑا کیونکہ ھماری تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ایسے ہی کسی کڑے وقت میں پہاڑوں کی اوٹ سے کوئی ملالہ نمودار ہوتی ہے اور پانسہ پلٹ دیتی ہے۔ نکاح اور پارٹنرشپ سے فی الحال کیا لینا دینا ہمیں تو اس مشکل گھڑی میں  آپ کی کمک کی ضرورت ہے۔


نوٹ: حماد حسن یہ کالم ایک غیرملکی ویب سائٹ  کیلئے لکھتے ہیں ”شھباز“ جسے خصوصی اجازت کے تحت شائع کرتا ہے۔