سی ایس ایس امتحان کے مایوس کن نتائج، اصل وجوہات اور تدارک کے ذرائع

سی ایس ایس امتحان کے مایوس کن نتائج، اصل وجوہات اور تدارک کے ذرائع

تحریر: جمشید خان

وطن عزیز پاکستان میں ہر سال سی ایس ایس یعنی سنٹرل سپیریئر سروسز (Central Superiir Services) کے نام سے مقابلے کے ایک اہم اور قدرے مشکل امتحان کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس امتحان کو پاس کر کے ملک کے مختلف محکموں کو جوائن کرنے والے افسران ''بیوروکریٹس'' کہلاتے ہیں۔ یہی ملک کے سیاہ و سفید کے اصل اور حقیقی مالک ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سارے پاکستانی والدین آنکھوں میں یہ خواب سجائے اور آرزوئیں لئے پھرتے رہتے ہیں کہ کاش ان کا بیٹا سی ایس ایس پاس کر  کے اعلی افسر بن جائے۔ 

 

فارن آفس، پولیس سروسز، ٹیکس و ریونیو، ڈی ایم جی اور کسٹم ڈیوٹی ان محکمہ جات میں ٹاپ درجے کے محکمے ہیں جن میں جانے کا ہر کسی کا دل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ صوبائی سطح پر پی ایم ایس کے امتحان کا انعقاد بھی ہوتا ہے جس کو پراونشل منیجمنٹ سروسز (Provincial Management Services) کہتے ہیں۔ ان دونوں قسم کے امتحانات میں بیٹھنے کیلئے کم ازکم کوالیفیکیشن گریجویشن BA, BSc یا اس کے برابر ڈگری ہوتی ہے۔ پی ایم ایس کے امتحان کو پاس (کوالیفائی) کرنے والے بھی بیوروکریٹس بنتے ہیں لیکن ان کے اختیار میں صوبائی محکمے ہوتے ہیں لیکن سول سرونٹ حیثیت کی بنیاد پر یہ بھی مرکزی محکموں میں عارضی طور پر تعینات ہو سکتے ہیں۔ بیوروکریسی کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر بحث ایک الگ موضوع ہے لیکن اس تحریر میں ہم کسی اور خاص پہلو سے اس پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ تحریری امتحان، اس کے سلیبس، اس کے12  پرچے، نفسیاتی ٹیسٹ اور حتمی انٹرویو کے  لحاظ سے  سی ایس ایس اور پی ایم ایس میں کوئی خاص فرق نہیں لیکن یہاں ہمارا واحد اور خاص موضوع سی ایس ایس ہے۔ 

 

سی ایس ایس کے امتحان کا نتیجہ ہر سال قابلِ افسوس حد تک مایوس کن ہوتا ہے۔ اس سال بھی اس امتحان کے ''شاندار'' نتائج نے ہر پاکستانی کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ کچھ کم40  ہراز پاکستانی امیدواروں نے اس امتحان کیلئے اپلائی کیا جن میں 23 ہزار امتحان سے غائب ہوئے جبکہ17  ہزار امتحان میں بیٹھ گئے۔ تحریری امتحان میں صرف364  پاس ہوئے اور یوں یہ نتیجہ صرف 2.11 فیصد آیا۔ تحریری امتحان12  پرچوں پر مشتمل ہوتا ہے جن میں انگریزی مضمون، انگریزی، کرنٹ افیئرز، پاکستان افیئرز، ایوری ڈے سائنس اور اسلامیات لازمی مضامین ہوتے ہیں اور ہر ایک پرچے میں40  نمبر لینا ضروری ہوتا ہے بقیہ چھ مضامین اختیاری ہوتے ہیں جن کے الگ الگ گروپ ہوتے ہیں۔ یہ گروپ غالباً40  تا45  مضامین میں سے بنے ہوئے ہوتے ہیں جن میں ایک امیدوار اپنی مرضی کے گروپس میں سے6  سو نمبروں پر مشتمل6  اختیاری پرچوں کے مضامین کا انتخاب کرتا ہے۔ اختیاری مضامین میں سے کچھ مضامین کے نمبر100  اور کچھ کے200  ہوتے ہیں۔ ان چھ اختیاری مضامین کا پاسنگ پرسنٹیج33  ہوتا ہے لیکن کل12  پرچوں کا مجموعہ(Aggrigate) 50  فیصد یعنی کل600  نمبر ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگرچہ آپ کے ایک لازمی مضمون کو پاس کرنے کیلئے آپ کو صرف40  نمبر درکار ہیں لیکن ایگریگیٹ کو قائم رکھنے کیلئے دوسرے مضمون میں60  نمبر لینے ہوں گے۔ اس طرح ایک اختیاری مضمون کو آپ33  نمبر سے پاس کریں گے لیکن مجموعے کو قائم رکھنے کیلئے دوسرے اختیاری مضمون میں67  نمبر لینے ہوں گے۔ یاد رہے لازمی مضامین کاAggrigate) ) الگ اور اختیاری مضامین کا الگ ہوتا ہے۔ اسی طرح لازمی مضامین کے اندر  کرنٹ افیئرز، پاکستان افیئرز اور ایوری ڈے سائنس کے تین مضامین کا مجموعی طور پر اپنا الگAggrigate  ہوتا ہے جو کہ120  نمبر ہیں۔ ان تینوں مضامین کو جنرل نالج کہتے ہیں۔ المختصر اس امتحان میں آپ کو ہر صورت توازن قائم رکھنا ہوتا ہے۔ 

 

تحریری امتحان کے بعد دو اور اسٹیجز آتے ہیں جوPsychological  ٹسٹ و انٹرویو اور حتمی انٹرویو کے ہوتے ہیں۔ ان دونوں مرحلوں کے کل300  نمبر ہوتے ہیں۔ یعنی کل ملاکر1500  نمبر بنتے ہیں۔ انٹرویو کے پاسنگ مارکس صرف120  ہیں۔ اگلا اور آخری مرحلہ پوسٹنگ کا ہوتا ہے جو میرٹ پر ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) نے کل 250 آسامیوں یا پوسٹوں کا اشتہار دیا تھا لیکن پاس ہونے والے امیدواروں کی تعداد300  ہے تو ان میں سے میرٹ پر آنے والے پہلے 250 امیدواران کی سیلیکشن ہو گی جبکہ بقیہ50  امیدواران کو ان کے ایڈریسز پر میرٹ پر نہ آنے اور پوسٹوں کی کمی کے باعث معذرت کے خطوط روانہ کر دیئے جائیں گے۔ 
جیسا کہ متذکرہ بالا سطور میں اس امتحان کے ہر سال کے مایوس کن نتیجے کا ذکر کیا گیا لیکن ذیل کے سطور میں، میں اس کی وجوہات اور تدارک کے ذرائع پر بات کرنا چاہوں گا۔

 

سی ایس ایس  کا امتحان ایک غیر ملکی زبان انگریزی میں لیا جاتا ہے۔ یہ زبان جسمانی غلامی کے ختم ہونے کے بعد ذہنی اور نفسیاتی غلامی کی علامت کے طور پر پاکستان میں رائج ہے۔ علم اور علمی استعداد کیلئے کسی خاص زبان کا ماہر ہونا قطعاً لازمی نہیں۔ کوئی بھی زبان ''ما فی ضمیر'' بیان کرنے کا میڈیم یا ذریعہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں چھوٹی بڑی کل33  زبانیں بولی جاتی ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان تمام زبانوں کا رسم الخط ایک جیسا ہے۔ پنجابی، پشتو، سندھی، سرائیکی، عربی، فارسی، گوجری، کشمیری، گلگتی وغیرہ ایسی زبانیں ہیں جن کے حروف تقریباً ایک جیسے ہیں۔ ان تمام زبانوں کے اختلاط و اشتراک سے تین چار سو سال پہلے جو نئی زبان وجود میں آئی ہے وہ ''اردو'' ہے۔ ہر میٹرک پاس پاکستانی کیلئے اردو زبان لکھنا، اسے پڑھنا، ما فی ضمیر بیان کرنا، دوسرے کو سمجھنا اور سمجھانا انتہائی آسان ہے۔ پاکستان کے1973  کے آئین میں لکھا ہے کہ15  سال بعد اردو پاکستان کی دفتری اور سرکاری زبان ہو گی۔ یہی بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی تعلیمات بھی تھیں لیکن افسوس کہ ہم بحیثیتِ قوم پچھلے33  سالوں سے آئینِ پاکستان کے ساتھ غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ 

 

اشرافیہ کی بھی یہی سازش ہے جس پر ہماری عدالتوں نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ حکومت کا سب سے اہم اور سپریم ادارہ ''پارلیمنٹ'' بھی اس حوالے سے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے اور اِس جرم میں برابر کا شریک ہے۔ انگریزی کے ساتھ ہماری کوئی ذاتی دشمنی تو نہیں البتہ پاکستان میں اہلیت، قابلیت اور کردار سازی کے راستے میں یہ زبان سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس کا ثبوت ہم خود ہر سال سی ایس ایس کے امتحان میں فراہم کرتے ہیں۔ اگر ہم واقعی پاکستان کے ساتھ مخلص ہیں اور قومی یک جہتی ہماری منزل ہے تو ہمیں اپنے مقابلے کے اعلی امتحانات اپنی قومی زبان اردو میں لینے ہوں گے۔ چھ بڑی صوبائی اور علاقائی زبانوں کا آپشن بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر چونکہ انگریزی زبان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اس لئے اسے بھی اختیاری پرچے کے طور پر رکھنے میں کوئی قباحت نہیں۔
نوٹ: مضمون نگار گورنمنٹ کالج پشاور کے شعبہ سیاسیات سے بطور لیکچرار وابستہ ہیں۔