نفرت بھی جنم نہ لے؟

نفرت بھی جنم نہ لے؟

                                                                     کڈوال ناصر
کل پرسوں چودہ اگست2022  کا دن تھا۔ جی ہاں! وہی چودہ اگست جس دن پاکستان میں آزادی کا دن منایا جاتا ہے۔ صبح دس بجے جب انٹرنیٹ کھولا تو ہرنائی کے علاقے کھوسٹ پر رونما ہونے والے واقعے کے شہید خالق داد بابر کی تصاویر دیکھنے کو ملیں۔ ایک لمحے کے لیے تصاویر کو دیکھا پھر خبر پڑھی۔ خبر کے مطابق کھوسٹ ہرنائی کے مضافاتی علاقے میں ایف سی کی فائرنگ سے عوامی نیشنل پارٹی کا کارکن خالق داد شہید، نو مزید افراد زخمی۔ خبر بہت افسوسناک تھی، کچھ لمحے کے لیے ایسے لگا جیسے کوئی وزنی چیز آ کے لگی ہو، سر چکرانے لگا۔ ادھر ادھر فیس بک پر مزید معلومات دیکھنے لگا، کہیں سے خاص خبر نہیں مل رہی تھی۔ آخر ہرنائی سے یونیورسٹی کے وقت کے دوستوں کے نمبر ڈھونڈنے لگا، ایک دو نمبر مل ہی گئے، رابطہ کیا تو ایک دوست نے معلومات دیں اور سارے واقعے سے آگاہ کیا۔ واقعہ کچھ ایسا ہے، لیکن سب سے پہلے میں ہرنائی اور اس کے مضافاتی علاقوں کا بتاتا چلوں، معدنیات سے بھرے ہوئے ہیں، ہرنائی کا ہی ایک علاقہ جو کوئٹہ سے بالکل لگا ہوا ہے ''زرغون غر'' جس میں کچھ عرصہ قبل گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ ہرنائی کے اکثر پہاڑوں سے کوئلہ نکلتا ہے۔ کھوسٹ میں بھی کوئلے کے وسیع ذخائر ہیں۔ آج سے کافی سال پہلے یہاں کے پہاڑ پنجاب کے کچھ لوگوں کو الاٹ کر کے دیئے گئے تھے، وہ لوگ پنجاب اور اسلام آباد میں بیٹھ کر ہرنائی کے مقامی لوگوں کی دولت کو لوٹتے رہے جب آہستہ آہستہ لوگوں میں شعور آنے لگا تو مقامی لوگوں نے مزاحمت کرنا شروع کی جس کے سبب جب باہر کے لوگوں کو تو پہلے کی طرح سارے پہاڑوں کی الاٹمنٹ مشکل ہو گئی تو اب ایک نیا ڈرامہ ان علاقوں میں شروع کر دیا گیا ہے۔ کبھی کسی فوجی یا ایف سی کے کیمپ پر حملہ کر کے اسی بہانے مقامی لوگوں کو تنگ کرنا شروع کیا جاتا ہے تو کبھی آپریشن کے نام پر مقامی لوگوں کو آئے روز تنگ کیا جا رہا ہے۔ عید قربان کے بعد بھی ہرنائی کے قریب ضلع زیارت میں ایک فوجی اور اس کے ساتھی کے اغوا اور پھر ہلاکت کے بعد کھوسٹ اور زیارت کے درمیان آبادی کو آپریشن کے نام پر تنگ کیا جاتا رہا۔ چودہ اگست کی صبح صادق کھوسٹ کے ایک جوان جو نماز کے لیے گھر سے نکلا تھا پر ایف سی نے فائر کیا جس سے جوان زخمی ہو کر اپنے گھر کے دروازے میں گر پڑا، گھر والوں نے جب اپنے زخمی کو دیکھا تو بھاگ کر باقی خاندان والوں کو اطلاع دی، زخمی ہونے والے جوان کے چچازاد اور بھائی نے گاڑی میں اپنے زخمی کو ڈالا تو جونہی انھوں نے گھر سے باہر گاڑی نکالی تو ایف سی نے گاڑی پر سیدھا فائر کیا جس سے پہلے سے زخمی جوان کے چچازاد کو بھی گولی لگی، گاڑی واپس ریورس کر کے گھر کے اندر کر دی، اردگرد کی آبادی نے فائرنگ سنی، سب لوگ گھروں میں محصور تھے، جب روشنی زیادہ ہو گئی اور قریب کی آبادیوں سے لوگ آئے جب انھیں اس افسوسناک واقعے کا پتہ چلا تو سب سے پہلے ہرنائی کے ہسپتال زخمیوں کو لے جانے کی کوشش کی گئی، سارے راستے ایف سی نے اس بہانے بند کیے ہوئے تھے کہ رات کو ہمارے چیک پوسٹ پر حملہ ہوا ہے جس کا اہل علاقہ کو نہ کوئی خبر تھی اور نہ رات کو آس پاس کے علاقوں میں سے کہیں سے فائرنگ کیکوئی آواز سنائی دی تھی۔ جب زخمیوں کو بھی جانے نہ دیا گیا تو اہل علاقہ نے ایک جگہ جمع ہو کر ایف سی قلعہ کی طرف زخمیوں کو اٹھا کر احتجاجی مارچ کیا، ایف سی قلعہ کے سامنے پہنچ کر اہل علاقہ نے نعرہ بازی کی، جیسا کہ ہمیشہ سے احتجاجوں میں ہوتا ہے، سارے علاقائی لوگ تھے نہ کوئی مسلح تھا ان کے درمیان اور نہ کسی کے ہاتھ میں کوئی ڈنڈا تھا مگر ان پرامن لوگوں پر ایف سی نے ایک بار پھر فائرنگ کی جس میں آٹھ افراد کو گولی لگی، ان آٹھ افراد میں عوامی نیشنل پارٹی کا کارکن نوجوان خالق داد بابر شہید ہو گیا۔ جب ہرنائی سمیت تمام علاقوں کو خبر پہنچی تو احتجاج کی کالیں آنا شروع ہوئیں، اسی دوران الیکٹرانک میڈیا پر آئی ایس پی آر کی جانب سے ایک افسوسناک خبر چلائی گئی۔ خبر کے مطابق تیرہ اور چودہ اگست کی رات ایف سی کے چیک پوسٹ پر حملہ ہوا جس میں دو فوجی شہید اور کئی دہشت گرد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پرامن لوگوں کو ایک تو مارا گیا اوپر سے انھیں میڈیا پر دہشت گرد بھی کہا گیا، اور چاپلوس سیاستدان اپنے علاقائی کارکنوں سے معلومات لینے کے بجائے اس خبر کو دھڑا دھڑ شئیر کر رہے ہیں۔ یہ علاقہ معدنیات سے بھرا ہونے کے ساتھ ساتھ کوئٹہ کے بھی قریب ہے، پچھلے سال پیش آنے والا مانکی ڈیم واقعہ بھی اس مقام کے قریب ہے۔ یہ علاقہ کئی وجوہات کی وجہ سے کافی اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔ ایک تو فوج نے ہرنائی کے علاقے ''زرغون غر'' جہاں گیس دریافت ہوئی ہے، اس کے کئی ہزار ایکڑ رقبے پر قبضہ کیا ہوا ہے، اب پچھلی قوم پرست حکومت کے دوران ایک توDHA  کے لیے اسمبلی سے ناجائز قانون سازی کروائی اور لوگوں کی ملکیت پر قبضے جمانے لگے ہیں اور دوسری جانب کوئٹہ کے سیاحتی علاقہ ''ہنہ'' کے پہاڑوں اور مضافات پر قبضہ کرنے کے پلان بنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے ایک مہینے تک ہنہ کے علاقائی لوگ احتجاجی دھرنے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ مانکی ڈیم کا منصوبہ کئی عشروں سے زیرالتوا ہے۔ یہ منصوبہ کوئٹہ شہر کو پینے کا پانی فرہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، مانکی ڈیم کے پانی کے منصوبے کا پروگرام ابDHA  کے لیے مختص کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے اس ڈیم پر کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ہرنائی کا زرغون غر اور کھوسٹ بھی ان علاقوں سے متصل ہیں۔ جب زور زبردستی لوگوں کو اپنے وطن اور علاقوں سے بیدخل کیا جائے گا تو اس کا ردعمل بہت خطرناک ہو گا، فوج اور فوجی ادارے کچھ ہوش کے ناخن لیں۔ علاقائی لوگوں کو یہاں تک تنگ نہ کریں جس کی وجہ سے کل بلوچ آزادی پسندوں کی طرح پشتون بھی آزادی کا نعرہ لگا کر پہاڑوں پر چڑھیں، شریف اور تعلیم یافتہ ہوں گے یہ لوگ مگر بے غرت نہیں۔ یہ یاد رکھیں! یہاں ان عوامل کی وجہ سے روز روز نفرت بڑھ رہی ہے، فکر و سوچ باغیانہ بن رہے ہیں، جب اتنا ظلم ہو گا تو نفرت بھی جنم نہ لے؟ یہ تو ممکن ہی نہیں اور اس پر کسی کا شکوہ بھی نہیں بنتا۔ اب تک تو پشتون دیر سے لے کر ہرنائی تک پرامن احتجاج کر کے ہی ایف سی اور فوج کی قبضے گیری کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اگر یہی ظلم اور پھر میڈیا پر بھی انہی مظلوموں کو دہشت گرد پیش کیا جانے لگا تو بہت مشکل ہو گا ان شریف اور تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے کہ وہ یہ ظلم اور بدنامی مزید برداشت کریں۔