قوم پے یہ احسان کریں

قوم پے یہ احسان کریں

تحریر: کڈوال ناصر
ڈھیٹ بن جانا بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں، بہت مشکل کام ہے۔ جب کوئی اپنے ہر غلط کام پر ڈٹ کر الٹا اسے صیحح اور اچھا ثابت کرنے پر تلا رہے، اسے ڈھیٹ کہا جاتا ہے۔ عام زندگی میں ایسے لوگ ہمیں ملتے تو ہیں مگر خال خال، وہ بھی معاشرے میں ہر چھوٹے بڑے کی نظر میں بہت گرے ہوئے ہوتے ہیں۔ کوئی شخص اس طرح کے ڈھیٹ پنے کو نہ اپنے لیے اچھا سمجھ سکتا ہے نہ اپنے کسی عزیز، قریبی رشتہ دار یا دوست کے لیے، مگر دوسری جانب یہی عمل اپنانے والوں کو ہم لوگوں میں سے اکثر و بیشتر لوگ سیاسی داؤ پیچ کے نام سے یاد کر کے بڑے فخریہ انداز میں پیش کرتے ہیں، جو سیاسی شخص جتنا ڈھیٹ پنا دکھاتا ہے اس کے پیروکار اسے بڑا تیس مار خان سمجھتے ہیں۔ اصول جو کبھی سیاست میں شائستگی کا تھا اب ڈھیٹ پنے میں آ کر  تبدیل ہو چکا ہے۔ ایک سیاستدان جتنا زیادہ جھوٹ بولے گا اس کے  پیروکار اتنا اسے سر آنکھوں پر بٹھا کر گھمایا کرے گا۔ سیاسی تاریخ یا تو ہمیں شاید معلوم نہیں یا پھر جہاں تک ہمیں معلوم ہے ڈھیٹ پنے کی تمام تر خوبیاں اور صلاحتیں پہلے زمانے میں صرف اور صرف آمروں میں ہوا کرتی تھیں جو اپنے اقتدار اور قوت کے نشے میں مست پڑے رہتے تھے، جنہیں اپنے سوا کچھ بھی نہ نظر آتا تھا اور نہ اپنے سوا کچھ درست دکھتا تھا، ہر فیصلہ خودغرضی اور اپنے اقتدار کے نشے میں سرمست ہو کر کرتا تھا۔ جنرل مشرف کا دور تو بہت پرانا نہیں اور نہ اس کے کارنامے کسی دھندلے اور گرد سے ڈھکی کتاب سے دیکھنے کی بات ہے بلکہ ابھی دس بارہ سال قبل کی بات ہے۔ اور آج جنرل مشرف خود نشان عبرت بنا پڑا ہے، اس کے مستی اور نشے سے سرشار اقتدار میں جو بھی ہوا وہ بھی ہم سب کے سامنے ہے۔ مشرف سے پہلے فوجی آمروں کے ڈھیٹ پنے کو گر ہم صرف تاریخ کے اوراق میں دیکھتے ہیں مگر مشرف کے ستائے ہوئے اکثر لوگ آج بھی ہمارے سامنے ہیں۔ مشرف کے بعد یا اس سے پہلے کسی سیاسی پارٹی یا پارٹی کی لیڈرشپ کے متعلق تجربہ نہیں تھا کہ کبھی سیاسی لیڈرشپ بھی آمر بننا پسند کرے گی۔ پھر2018  میں یہ تجربہ بھی دیکھنے بلکہ بھگتنے کو ملا۔ پاکستانی آمریت کی نرسری، عسکری اسٹبلشمنٹ اور عدلیہ کی گٹھ جوڑ سے ایک سیاسی آمر سامنے لایا گیا جو اقتدار سے قبل آمریت کی اکیڈیمی میں زیرتربیت رہا، آہستہ آہستہ تین سال کی انتھک محنت سے نرسری کے مالیوں نے نیا پودہ پاکستانی اقتدار کے ایوانوں کو دے ڈالا، یہ پودہ نرالا اس لیے بھی تھا کہ اس کی افزائش تو ویسے سیاست کے نام پر ہوئی تھی مگر اندر سے آمریت کے کلوروفل سے کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی تھی، اس نرالے پودے کی افزائش کرنے والے مالی کچھ عرصہ بعد خود ایسے حیران و پریشان ہوئے جو بعد میں روز ایک اجتماعی دعا اپنے نرسری میں اس نئے چمتکار پودے سے جان چھڑانے کی کرتے تھے۔ مالیوں کے اس آمرانہ پودے کو پچھلے مہینے اقتدار کے ایوانوں سے بڑا بے آبرو کر کے، زور زبردستی نکال دیا گیا، خود بھی یہ چمتکار اور اس کے پیروکار بھی آج تک اسی سوچ و فکر میں ہیں کہ کہیں کوئی ایسا طریقہ مل جائے جس سے واپس یہ نالائق اعظم اقتدار پر براجمان ہو جائے، یہ اب ممکن تو نہیں کیونکہ جب وقت کسی کے خلاف ہو جاتا ہے تو پھر ایوب، یحیی، ضیا اور مشرف جیسے فوجی ڈکٹیٹرز بھی تاریخ کی گرد میں کھو جاتے ہیں، یہ دو پیسوں کا کپتان بے چارہ تو بہت معمولی سا آمر تھا جو دوسروں کے کاندھوں پر سوار ہو کر آیا تھا، جس کی کل جمع پونجی مشرف سے بچے ہوئے کھوٹے سکے تھے یا پھر وہ موسمی لوٹے جن کی اوقات ایک ٹیلیفون کال ہوتی ہے۔ نہ تو کوئی شعوری سیاستدان ساتھ تھا اور نہ کوئی لالچ کے بغیر ایسا کوئی ساتھی رہ گیا ہے جو دوبارہ اس خودساختہ آمر کو سہارا دے۔ کچھ اگر پیچھے بچتا ہے تو وہ صرف اور صرف ڈھیٹ پنا جو اس سے پہلے پاکستانی سیاست میں معیوب اور بری بات سمجھی جاتی تھی۔ اس سے بھلا اور اچھا موقع کیا مل سکتا ہے کپتان اور اس کے حواریوں کو، پچھلے تین سال مہنگائی پر چپ سادھے جیسے ڈھیٹ بن کر آج ڈالر اور مہنگائی کا ذکر کر رہے ہیں ایسا ہی اپنا یہی ڈھیٹ پنا آگے جاری و ساری رکھیں گے، معاشرے کا چین و سکون غارت کریں گے، بدتمیزی، بداخلاقی سارے معاشرے میں ایسی سرایت کر جائے گی جس کو دیکھ کر تاریخ انسانی شرمسار ہو گی۔ سچ کے مقابلے میں جھوٹ، اخلاق کے مقابلے میں بداخلاقی فخریہ طور پر پیش ہو گی اور انسان اور انسانیت اس آمر کے کردار اور پیروکاروں سے پناہ مانگتی پھرے گی۔ اس تمام معاشرتی گراوٹ کا ذمہ دار کپتان سے زیادہ نرسری کے وہ مالی ہیں جو پچھلے ستر برس اقتدار کے اس کھیل میں تجربات کرتے آ رہے ہیں۔ خیر ہمیں کیا ہم تو ویسے خوامخواہ ہیں ان میں، ہم تو غدار ابا و اجداد کی اولاد ہیں، یہ ریاست تو ان لوگوں کی ہے جو دن رات پہرہ دے کر اس کو محفوظ کرتے آ رہے ہیں، جو نہ کسی امریکہ کو خاطر میں لاتے ہیں اور نہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی مائی کا لعل اس ریاست کی معیشت کو کمزور کر سکتا ہے بلکہ جو بھی کرنا ہے وہ ان صاحبان نے خود کرنا ہے، ان کے پاس ہر سیاہ و سفید کا لائسنس جو ہے۔ اپنے اس لائسنس سے صاحبان نرسری و اقتدار کو ایک اچھا موقع ملا ہے کہ وہ توبہ تائب ہو کر سیاست کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نہ صرف خیرباد کہیں بلکہ اپنے لائے ہوئے اس نابغے کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں، نہ صرف اس نابغے کو بلکہ شیخ رشید اور باقی ان جیسے اپنے ناکارہ اور ڈھیٹ لوگوں کو بھی، جو ''معاشرے میں انسانیت کے نام پر داغ ہیں''، ساتھ لے جائیں اور اس معاشرے پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ احسان کریں جس سے شاید ان کے پچھلے سارے گناہ معاف ہو جائیں۔