عمران حکومت میں ڈالر اور قرضوں کی اڑان

عمران حکومت میں ڈالر اور قرضوں کی اڑان

تحریر: اعجاز احمد

اس وقت پاکستانی عوام ماضی اور موجودہ حکمرانوں کی غلط اقتصادی اور معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ناکردہ سزا بے روزگاری اور مہنگائی کی شکل میں بھگت رہے ہیں۔ عمران خان نے2018  کے عام انتخابات سے پہلے جو وعدے اور دعوے کئے تھے اور جس نرالے انداز میں موصوف سابق حکومتوں اور حکمرانوں کو ان کے غلط اقتصادی اور معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ہدف تنقید بناتے تھے، پی ٹی آئی حکومت، سابق حکمرانوں سے10  قدم آگے نکل گئی ہے۔ وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ ہم نے آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر قرضے کے حصول کے لئے عوام پر 350 ارب روپے مزید ٹیکس لگانے کے لئے حامی بھر دی ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ موجودہ مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔ 

 

اگر ہم تجزیہ کریں تو سٹیٹ بینک آف پاکستان  کے مطابق ستمبر 2021 سے پاکستان پر 399 ٹریلین یعنی3  لاکھ99  ہزار ارب روپے قرضہ ہے جس میں150  ٹریلین یعنی1  لاکھ50  ہزار ارب روپے صرف پی ٹی آئی یا عمران خان کے دور حکومت میں لئے گئے۔ جو قرضہ ماضی کے حکمرانوں نے گذشتہ71  سالوں میں لیا عمران خان نے پونے4  سال میں لیا۔ اور یہی وجہ ہے کہ آئی ایم  ایف نئے قرضے کے حصول اور پچھلے قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی کے لئے غریب اور پسے ہوئے طبقات پر ٹیکس پہ ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔ جس وقت2019  میں پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضے کے حصول کے لئے رجوع کیا تو آئی ایم ایف نے پاکستان اور ایف بی آر کو2018-19  کے لئے4300  ارب روپے ٹیکس کا ہدف دیا۔ اسی طرح 2019-20 میں قرضے کے حصول کے لئے پاکستان اور ایف بی آر کو5500  ارب روپے کا ٹارگٹ دیا۔ اور پاکستانی عوام مزید1720  ارب روپے کا غیرحقیقی بوجھ ڈالا گیا۔ قارئین کے علم میں ہے کہ پاکستان کے وزیر خزانہ، وزیر اعظم اور سٹیٹ بینک کے گورنر شوکت ترین، شوکت عزیز، معین قریشی اور باقر رضا آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی ایجنسیوں کے ایجنٹ اور دلال ہوتے ہیں اور بدقسمتی سے وہ پاکستانیوں کے مفادات کے بجائے آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی ایجنسیوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں جس کی وجہ ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو دیدہ و دانستہ کم کر کے وطن عزیزکے قرضوں اور مہنگائی میں بے تحاشا اضا فہ کر دیا جاتا ہے۔ 

 

اگر ماضی قریب کے مطلق العنان حکمران، آمر، سابق صدر پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف کے سال1999  سے2008  تک9  سالہ دور حکومت میں ڈالر اور روپے کی قدر کا موازنہ کریں تو ان کے9  سالو ں میں ڈالر کی قیمت 52 روپے دسے بڑھ کر82  روپے ہوگئی تھی۔ نتیجتاً ان کے 9 سالہ دور حکومت میں ڈالر کی قدر میں 30 روپے اضافہ اور روپے کی قدر میں30  روپے کمی واقع ہوئی۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے2008  سے2013  تک5  سالہ دور حکومت میں ڈالر ریٹ82  روپے سے99  روپے تک پہنچ گئی۔ ان5  سالوں میں ڈالر ریٹ میں 17 روپے اضافہ اور روپے کی قدر میں اتنی ہی کمی ہوئی۔ پاکستان مسلم لیگ کے2013  سے 2018 تک5  سالہ دور اقتدار میں ڈالر ریٹ99  روپے سے  بڑھ کر116  روپے تک پہنچ گیا یعنی ان5  سالوں میں بھی ڈالر کی قدر میں 17 روپے اضافہ ہوا۔ دوسری جانب 2018 انتخابات کے لئے نگران حکومت کے3  ماہ کے دور حکومت میں ڈالر ریٹ 116 روپے سے123  روپے تک پہنچ گیا۔ باالفاظ دیگر 3 ماہ کے دور حکومت  میں ڈالر کی قدر میں8  روپے اضافہ اور روپے کی قدر اتنی ہی کم ہوئی۔ اب وزیر اعظم عمران خان کے پونے4  سالہ دور اقتدار کو اگر دیکھیں تو اس میں ڈالر ریٹ123  روپے سے175  روپے تک پہنچ گیا ہے یعنی ان کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں ڈالر ریٹ میں سب سے زیادہ یعنی50  بلکہ باون روپے ریکارڈ اضافہ اور روپے کی قدر میں اتنی ہی کمی واقع ہوئی۔ 

 

پی ٹی آئی کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں نہ صرف قرضوں میں اضافہ ہوا بلکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر زبردستی آئی ایم ایس کے ساہوکاروں نے کم کر دیا جس سے صرف قرضوں اور مہنگائی میں ہی بے تحاشا اضافہ نہیں ہوا بلکہ عوام کی حالت بھی فقیروں جیسی ہوگئی ہے۔ اگر واقعی خان صاحب پاکستان کو اندرونی اور بیرونی قرضوں کی دلدل سے نکالنا اور وطن عزیز کو معاشی اور اقتصادی طور پر مضبوط کرنا چاہتے ہیں توکپتان کو چاہئے کہ وہ  کرپٹ پانامہ اور دوسرے لیکس اور اس کے اردگرد مہنگائی کے مافیازکو پکڑیں اور ان سے وصولی کریں جس کا ذکر عمران خان الیکشن سے پہلے جلسوں اور دھرنوں میں کیا کرتے تھے اور آج مسند اقتدار پر بیٹھ کر بھی ان کے حوالے دے رہے ہوتے ہیں بلکہ اپنی ناکامیوں کا طوق ہمہ دم ان کے گلے میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔ 

 

عوام کو کسی سیاسی پارٹی یا سیاسی شخصیت سے کوئی سر وکار نہیں، وہ مہنگائی اور بے روزگاری سے انتہائی نالاں اور تنگ ہیں۔ عمران خان اگر اپنے حریفوں کو شکست دینا اور سیاسی طور پر زندہ رہنا چاہتے ہیں تو وہ بے روزگاری اور مہنگائی پر فی الفور قابو پا لیں۔ اگر خان نے یہ کام کئے تو ان کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ اگر ناکام ہوئے تو پھر ان کی حکومت کے دن بھی گنے جا چکے ہیں۔