دوہرا کردار

دوہرا کردار

تحریر: حمیرا علیم

''اونچی آواز میں پڑھو سب شاباش!'' قاری صاحب نے سب کو گھرکتے ہوئے کہا تو مسجد میں قرآن پڑھنے آنے والے سب بچوں نے اور زور زور سے ہلتے ہوئے باآواز بلند قرآن پڑھنا شروع کر دیا۔ قاری صاحب ایک باریش اور عمررسیدہ شخص تھے اس لئے سارے محلے کے لوگ اپنے بچوں کو انہی سے قرآن پڑھنے کیلئے مسجد بھیجتے تھے۔ ہر عمر کے بچے بچیاں ان میں شامل تھے۔ تیرہ سالہ ہالہ اپنے دو چھوٹے بھائیوں کے ساتھ آتی تھی۔ قاری صاحب اسے خصوصی توجہ سے پڑھاتے تھے۔

 

آج بھی جب سب بچے جانے لگے تو انہوں نے ہالہ سے کہا۔ ''ہالہ! تم بھائیوں کو دوسرے بچوں کے ساتھ بھیج دو اور خود رک کر اپنا سبق اچھی طرح یاد کر مجھے سنا کر جانا۔'' ''مگر قاری صاحب! ماما ناراض ہوں گی۔ مجھے بھائیوں کے ساتھ ہی جانا ہے، میں کل اچھی طرح سبق یاد کر کے آؤں گی۔'' ہالہ نے گھبرا کر کہا۔ اسے اکیلے میں قاری صاحب کے ساتھ رکتے ہوئے وحشت ہو رہی تھی۔ مگر قاری صاحب نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔ ''نہیں! تم آج سبق یاد کئے بغیر نہیں جا سکتی۔'' اتنے میں سب بچے مسجد سے نکل گئے تو قاری صاحب نے ہالہ سے کہا۔ ''ذرا پانی کا ایک گلاس لے کر میرے کمرے میں آؤ۔'' ہالہ کچھ دیر وہیں کھڑی انگلیاں مروڑتی رہی پھر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی پانی کا گلاس اٹھائے قاری صاحب کے کمرے کی طرف چل دی۔ ''یہ لیں قاری صاحب!'' اس نے گلاس ان کے بستر کے ساتھ پڑی تپائی پہ دھر کر واپس جاتے ہوئے کہا، وہ فوراً سے پیشتر اس کمرے سے نکل جانا چاہتی تھی۔ مگر قاری صاحب نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی گود میں بٹھا لیا اور اس کا منہ چومنا شروع کر دیا۔ 

 

ہالہ کسمسا کر ان کی گرفت سے نکلنے کیلئے زور لگانے لگی۔ا سے قاری صاحب سے نفرت ہو رہی تھی۔ جب کبھی وہ اسے سبق یاد کرنے کیلئے روکتے تھے اس کے ساتھ عجیب و غریب حرکات کرتے تھے۔ اب بھی آہستہ آہستہ ان کے ہاتھ اس کے جسم پر رینگنے لگے تھے۔ ''قاری صاحب مجھے چھوڑیں۔ مجھے گھر جانا ہے۔'' ہالہ نے روہانسی ہو کر کہا۔ ''چلی جانا! چلی جانا! تھوڑی دیر میں سبق یاد کر کے چلی جانا۔'' انہوں نے اپنا شغل جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ''ماما پوچھیں گی کہ میں لیٹ کیوں آئی ہوں۔ میں انہیں بتا دوں گی آپ میرے ساتھ گندے گندے کام کرتے ہیں۔'' اس نے روتے ہوئے کہا تو قاری صاحب نے اسے بالوں سے پکڑ کر جھٹکا دیتے ہوئے کہا۔ ''خبردار! جو کسی سے کچھ بھی کہا تو دونوں بھائیوں سمیت ذبح کر کے رکھ دوں گا تمہیں۔'' ہالہ نے اور زور سے رونا شروع کر دیا۔ ''نہیں! نہیں! میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی، آپ مجھے اور میرے بھائیوں کو مت ماریے گا۔'' اس کے رونے پر قاری صاحب نے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ کر اس کی چیخوں کا گلہ گھونٹتے ہوئے اپنا شیطانی عمل جاری رکھا۔ کچھ دیر بعد پھر دھمکا کر اسے گھر بھیج دیا۔

 

''ہالہ! بیٹا آج پھر آپ نے سبق یاد نہیں کیا تھا۔ آج بھی آپ کو لیٹ چھٹی ملی ہے۔'' ماما نے اسے آتے دیکھ کر پوچھا تو وہ بغیر جواب دیئے کمرے میں چلی گئی۔ ماما نے اسے حیرت سے دیکھا اور اس کے چھوٹے بھائی کو فیڈر پلانے لگیں۔ ''اسے کیا ہو گیا ہے۔ گھر پہ تو قاری صاحب سے اچھی خاصی پڑھتی تھی جب سے مسجد جانے لگی ہے نجانے کیا ہو گیا ہے اسے۔'' ماما نے سوچا مگر چھوٹے کے رونے پر اس کی طرف متوجہ ہو گئیں۔ ہالہ نے باتھ روم کا دروازہ بند کر کے پانی کا نل کھولا اور گھٹ گھٹ کر رونے لگی۔ ''اگر میں ماما کو بتاؤں گی تو قاری صاحب مجھے اور بھائیوں کو مار دیں گے۔ میں کیا کروں۔ بس اب میں مسجد نہیں جاؤں گی۔'' اس نے دل میں مصمم ارادہ کرتے ہوئے سوچا۔ 

 

اگلے دن جب ماما نے اسے بھائیوں کے ساتھ مسجد جانے کیلئے کہا تو اس نے بہانہ بنا دیا۔ ''ماما میرے پیٹ میں درد ہے۔ کل چلی جاؤں گی۔'' ماما نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا پھر کچھ کہے بغیر اس کے بھائیوں کو مسجد چھوڑنے چلی گئیں۔ واپس آ کے وہ ہالہ کے کمرے میں گئیں اور اس کے ساتھ بیڈ پہ لیٹ کراس کے گرد بازو لپیٹنے ہوئے اسے پیار کیا اور اس کے بال سہلانے لگیں۔ ''ہالہ! آپ کو معلوم ہے نا کہ ماما بابا آپ سے بہت پیار کرتے ہیں۔'' ہالہ نے بنا کچھ کہے سر اثبات میں ہلایا تو ماما نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ''اور یہ بھی پتہ ہے نا کہ ماما بابا آپ کے بیسٹ فرینڈز بھی ہیں۔ آپ ان کے ساتھ کوئی بھی بات شیئر کر سکتی ہیں۔ ادھر دیکھو میری طرف۔'' ماما نے اس کا چہرہ اپنے طرف موڑتے ہوئے کہا تو اس نے یکدم رونا شروع کر دیا۔ ماما نے اسے اپنے ساتھ چپکاتے ہوئے تسلی دی۔ ''ڈونٹ وری بے بی! کوئی آپ کو کچھ نہیں کہہ سکتا۔ مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے۔'' ماما کی بات سن کر ہالہ نے ڈرتے ڈرتے ماما کو سب بتا دیا۔ ''ماما! آپ قاری صاحب کو کچھ مت کہنا وہ مجھے اور بھائیوں کو مار دیں گے۔'' اس نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا۔ ماما کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ انہوں نے مٹھیاں بھنچتے ہوئے اسے پیار کیا۔ ''بس میرا بچہ! بس چپ کر جاؤ۔ میرے ہوتے ہوئے کوئی آپ کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔ اور اس قاری کو تو میں دیکھ لوں گی۔ بس آپ رونا بند کرو۔'' انہوں نے اٹھتے ہوئے اسے پیار کیا اور اس پہ کمبل ڈال کر اسے سونے کیلئے کہہ کر کمرے سے نکل گئیں۔

 

شام کو بابا آفس سے آئے تو ماما نے ان سے بات کی۔ ''میں اس بوڑھے کو گولی مار دوں گا۔ اس خبیث کی عمر دیکھو اور حرکتیں دیکھو۔'' بابا غصے سے بل کھاتے ہوئے باہر کو لپکے تو ماما نے ان کو بازو سے پکڑ کر روکا۔ ''ہوش سے کام لیں۔میں نے آپ سے اس لئے بات نہیں کی کہ آپ اس شیطان کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ کر پھانسی چڑھ جائیں۔ ہمیں اس کا اصل چہرہ سب کے سامنے لانا ہو گا نجانے اور کتنے بچے ہوں گے جو اس کی ہوس کا شکار ہوں گے۔'' ماما کی بات سن کر بابا بیٹھ گئے۔ ''تو پھر کیا کریں۔'' انہوں نے پوچھا تو وہ بولیں ''میں بتاتی ہوں۔'' یہ کہہ کر وہ دھیمے لہجے میں ان کو کچھ بتانے لگیں۔

 

ایک ہفتے بعد پولیس نے قاری صاحب کو اس وقت رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا جب وہ ایک دس سالہ بچی کو ہراساں کر رہے تھے۔ جب انہیں گرفتار کر کے پولیس اسٹیشن لے جایا گیا تو ایک چینل کے رپورٹر نے ایس ایچ او سے پوچھا۔ ''آپ نے اس شیطان کو کیسے پکڑا؟'' ''بس جی ان جیسے دوہرے چہروں اور کردار والے لوگوں کو بے نقاب کرنا ہی ہماری جاب ہے۔ آپ اس بات کو چھوڑیں کہ کیسے پکڑا یہ دیکھیں کہ ہم نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہے۔ اس کے موبائل سے کئی بچوں کی ویڈیوز بھی ملی ہیں جنہیں یہ ہراساں کرتا رہا ہے۔ اسی جیسوں کیلئے کہا جاتا ہے۔ شکل مومنانہ کرتوت کافرانہ۔'' 

 

رپورٹر نے پوچھا ''کیا ہم مجرم سے کچھ سوالات کر سکتے ہیں؟'' ''جی جی ضرور!'' کہہ کر ایس ایچ او اپنے کام میں مصروف ہو گیا جبکہ رپورٹر نے قاری سے پوچھا۔ ''آپ ایک معزز قرآن ٹیچر تھے لوگ اپنے بچوں کو آپ کے پاس اس اعتماد سے بھیجتے تھے کہ وہ آپ کے پاس محفوظ ہیں مگر انہیں کیا پتہ تھا کہ وہ دودھ کی رکھوالی پہ بلی کو بٹھا رہے ہیں۔ ذراخوف خدا نہیں تھا آپ میں، مسجد میں بیٹھ کہ آپ یہ گھناؤنا فعل کرتے رہے۔ چلیں یہ گناہ تو کیا ہی لیکن اس کی ویڈیو بنانے کا کیا مقصد تھا؟'' قاری نے ندامت سے سر جھکاتے ہوئے جواب دیا۔ ''شیطان نے مجھے بھٹکا دیا۔ میں تنہائی میں ان ویڈیوز کو دیکھ کر حظ اٹھاتا تھا۔'' ''یہ دیکھیے ناظرین یہ ہے بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا جس کے دوہرے کردار کی وجہ سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔ معصوم بچوں کی زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں۔ ایسے دوغلے لوگوں کو سرعام پھانسی دینی چاہیئے تاکہ ان جیسے دوسرے مجرموں کو عبرت حاصل ہو۔''

 

ہالہ کی ماما نے ٹی وی آف کرتے ہوئے شوہر کو مسکرا کر دیکھا جنہوں نے تھمز اپ کرتے ہوئے بیوی کو داد دی۔ ''گریٹ جاب! مان گئے بھئی آپ کی ترکیب۔ سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی۔'' ماما نے مسکراتے ہوئے سوچا۔ ''شکر ہے جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ہم اس شیطان کو پکڑ پائے ورنہ نجانے کتنے بچوں کو تباہ کر دیتا وہ۔'' انہی کے کہنے پہ ان کے شوہر نے مسجد میں جدید ایل ای ڈی لائٹس لگوانے کے بہانے قاری کے کمرے میں اسپائی کیم بلب لگا دیا اور اس کی ویڈیو کو ایک چینل کے رپورٹر تک پہنچا دیا، باقی سب کچھ اس نے ہی کیا تھا۔ یوں اس کا دوہرا کردار سب کے سامنے بے نقاب ہو گیا تھا۔ نوٹ: حقیقی واقعات پہ مبنی کہانی ہے۔ میرا مقصد کسی بھی قاری کی تذلیل کرنا نہیں۔ اسی سے ملتا جلتا واقعہ یونیورسٹی لیول پہ بھی ہو چکا ہے، اس کے بارے میں بھی میں نے کہانی لکھی ہے اس لئے پلیز یہ اعتراض مت کیجئے گا کہ میں نے ایک عالم دین پہ الزام لگایا ہے۔ میں ان تمام اساتذہ اور علما کرام کا بہت احترام کرتی ہوں جو حقیقتاً اپنے پیشے سے مخلص ہیں لیکن ان جیسے لوگوں سے شدید نفرت کرتی ہوں جو اس معزز پیشے کی آڑ میں اپنی ہوس پوری کرتے ہیں۔