آم کھائیں لیکن احتیاط کے ساتھ

آم کھائیں لیکن احتیاط کے ساتھ

 دانیال حسن چغتائی

آم ایک ایسا موسمی پھل ہے جسے پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے اور یہ غلط بھی نہیں۔ آم بچوں اور بڑوں کا شروع سے ہی پسندیدہ اور مرغوب پھل رہا ہے۔ یہ مشہور ہے کہ حلوائیوں کا کام بھی ان دنوں میں ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ یہ پھل اپنے بہترین ذائقے خوشبو اور غذائیت کے حوالے سے ہر عام و خاص میں پسند کیا جاتا ہے۔ یہ اپنے رنگ کی کشش اور ذائقے کی وجہ سے بہت زیادہ نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بڑی رغبت سے سوغات سمجھ کر کھایا جاتا ہے۔ پاکستانی آم کی کچھ قسمیں بیرون ملک بہت زیادہ مقبول ہیں۔
یہی صحت بخش اور خوش ذائقہ پھل حضرت انسان کی زیادہ دولت کمانے کے چکر میں صحت کے لیے خطرہ بن رہا ہے اور بجائے فائدہ دینے کے ممکنہ مہلک بیماریوں کے پیدا کر نے کا سبب بن جاتا ہے۔ آئندہ جب آپ مارکیٹ میں آم خریدنے جائیں تو یہ اطمینان کر لیں کہ آپ صحت مند آم ہی خرید رہے ہیں یا یہ آم انتہائی خطرناک ممکنہ بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔ کیونکہ جو آم آپ کو نہایت خوشنما اور دلکش معلوم ہو رہے ہیں، ہو سکتا ہے وہ اپنے ساتھ انتہائی خطرناک بیماریاں لیے ہوں۔ اس کی وجہ اس پھل میں پائی جانے والی کوئی قدرتی بیماری یا نقص نہیں بلکہ حضرت انسان کے لالچ کی وجہ سے اس کے پکانے کے مصنوعی طریقے کی وجہ سے اس میں منتقل ہونے والے خطرناک کیمیائی اجزاء ہیں جو لاعلمی یا دانستہ طور پر ایک صحت مند موسمی پھل میں منتقل ہو رہے ہیں۔ جب مارکیٹ میں آم لینے جائیں تو اطمینان کر لیں کہ یہ مہلک اور پابندی والے مصنوعی طریقے سے تو پکائے نہیں گئے۔ مارکیٹ میں فروخت ہونے والے اکثر آم بہت زیادہ دلکش رنگت لیے ہوئے ہوتے ہیں جو خریداروں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ بہت زیادہ چمک دمک اور یکساں رنگت رکھنے والے آم خریدنے سے گریز کریں۔ کیونکہ ہو سکتا ہے یہ مصنوعی طریقے سے پکائے گئے ہوں۔

 

عام طور پھلوں کو پکانے کے دو بنیادی طریقے ہیں۔ قدرتی طریقہ جس میں پھل کو درخت کے ساتھ ہی رہنے دیا جا تا ہے جس میں وہ خود کار نظام سے پکتا ہے۔ دوسرا مصنوعی طریقہ، جس میں مختلف کیمیکل کے استعمال سے پھلوں کو پکایا جاتا ہے۔ قدرتی طریقے سے پکے ہوئے پھلوں کا ذائقہ مصنوعی طریقے سے پکے ہوئے پھلوں کی نسبت بہتر ہوتا ہے کیونکہ پھل پکنے تک درخت کی شاخ سے منسلک رہتا ہے اور اس میں اہم غذائی اجزاء کی مقدار بڑھتی رہتی ہے جبکہ مصنوعی طریقے سے پھلوں کو پکانے کے لئے درخت سے پکنے سے پہلے ہی توڑ لیا جاتا ہے لہذا اس میں اہم غذائی اجزاء کی مقدار کم ہوتی ہے۔

 

مصنوعی طریقے سے پھلوں کو پکانے کے لیے پاکستان میں عام طور پر ایک کیمیکل استعمال کیا جاتا ہے جسے کیلشیم کاربائیڈ (CaC2) کہا جاتا ہے۔ کیلشیم کاربائیڈ کی مدد سے آموں کو پکانے کا طریقہ آج کل منڈیوں میں بہت زیادہ مقبول ہے کیونکہ آم کا قدرتی طریقہ سے پکنے کا عمل بہت زیادہ وقت لیتا ہے۔ جبکہ کیلشیم کاربائیڈ کے طریقے سے یہی عمل تقریباً 24 گھنٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔ لیکن اس طریقہ سے پکنے والا آم صحت کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ عام طور پر آم مئی کے آخر میں مکمل استعمال کے قابل ہو جاتا ہے۔ لیکن تاجر حضرات اور فروٹ مارکیٹ میں موجود کمیشن ایجنٹ زیادہ منافع کمانے کے چکر میں آم کی تڑوائی اس کے مکمل ہونے سے پہلے ہی کروا لیتے ہیں۔ پھر اس کچے آم کو مصنوعی طریقے سے کیلشیم کاربائیڈ کو استعمال کرتے ہوئے پکایا جاتا ہے تا کہ مارکیٹ میں جلدی لایا جا سکے کیونکہ شروع سیزن میں آم کا مارکیٹ ریٹ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

 

کیلشیم کا رہا ئیڈ ایک ایسا کیمیکل ہے جو صنعتوں میں مختلف کاموں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ CaC2 فضا میں موجو دنمی سے مل کر حرارت پیدا کرتی ہے اور ساتھ ساتھAcetylene  اور کیلشم ہائیڈروآکسائیڈ گیس پیدا کرتی ہے، Acetylene gas بہت زیادہ خطرناک اور شعلے سے جلنے والی گیس ہے جو عام طور پر دھاتوں کو کاٹنے کے کام آتی ہے۔ صنعتی استعمال کے لیے بنائے جانے والے CaC2 کیلشیم کاربائیڈ میں آرسینک (arsenic) اور فاسفورس (phosphorous) کے ذرات بھی موجود ہوتے ہیں۔ یہ دونوں کیمیکل صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ اس طریقے سے آم پکانے کے لیے کیلشیم کاربائیڈ کی معمولی مقدار کاغذ کی تھیلی میں ڈال کر آموں کی پیٹیوں میں رکھ دی جاتی ہے جو فضا میں موجود نمی سے عمل کر کے گیس خارج کرتی اور آم کو جلدپکنے میں مدد دیتی ہے۔ اس گیس کی فطرتEthylene کیس ہی کی طرح ہوتی ہے جو سائنسی طریقے سے آم کو پکانے کے لیے استعمال کی جاتی اور غیر مضر ہوتی ہے۔ اس کی ایک ایک مخصوص مقدار ہوتی ہے اور یہ پھلوں کو مضر صحت بھی نہیں بناتی۔ اس گیس کوplant hormone  بھی کہتے ہیں۔ بہت سارے پھل قدرتی طریقے سے پینے کے عمل کے دوران Ethylene gas خارج بھی کرتے ہیں۔ کیلشیم کاربائیڈ کی مقدار چونکہ نامعلوم ہوتی ہے اور اس کو اندازے سے کاغذ میں لپیٹ کر آموں کے درمیان رکھ دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے پیدا ہونے والی گیس کی مقدار بھی نامعلوم ہی ہوتی ہے اور سی زیادہ خطرناک عمل ہے۔

 

 CaC2 کی مدد سے آم پکانے کے طریقے پر بہت سے ممالک میں پابندی ہے اور اس عمل کو غیرقانونی تصور کیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی متعلقہ حکام اور صحت کے حوالے سے کام کرنے والے اداروں کو اس پر سخت ایکشن لینا چاہیے اور اس طریقے سے پھلوں کو پکانے کے عمل پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔ اس حوالے سے پاکستان کی تمام منڈیوں اور گوداموں میں جہاں اس طریقے سے پھلوں کو پکایا جاتا ہے، مانیٹرنگ کرنی چاہیے اور ساتھ ساتھ آگاہی کے پروگرام بھی ترتیب دینے چاہئیں اور اس کے علاوہ ماہرین غذائیات کی مدد سے متبادل طریقوں کے بارے میں آگاہی دینی چاہیے تاکہ عوام الناس کی صحت کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

 

مصنوعی طریقہ سے پھلوں کو پکانے کی ایک بڑی وجہ اور بھی ہے جس کا تذکرہ نہ کرنا آم کے کاروبار سے منسلک فارمز کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ قدرتی طریقے سے آم درختوں پر ہی پکنے کے لیے چھوڑ دیا جائے تو تیز ہوا اور آندھی کی وجہ سے آم درختوں سے گر کر ضائع ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے فارمز کو نقصان ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ اسی وجہ سے عام طور پر کیلشیم کاربائیڈ کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس نقصان سے بچنے کے لیےEthylene کیس کی مدد سے پکانے والے چیمبر کا ہونا ضروری ہے تا کہ کنٹرولڈ ماحول اور محفوظ طریقے سے آموں کو پایا جا سکے۔ 

 

سوال یہ ہے کس طرح معلوم ہو کہ بازار میں فروخت ہونے والے آم (Cac2) کیلشیم کاربائیڈ کی مدد سے پکے ہوئے ہیں یا قدرتی طریقے سے؟ ہم یہاں اپنے قارئین کی خدمت میں نہایت آسان سا طریقہ بیان کر دیتے ہیں جس کی مدد سے کوئی بھی عام شخص بآسانی معلوم کر سکتا ہے کہ جو آم وہ خریدنے لگا ہے وہ کس طریقے سے پکے ہوئے ہیں۔
ا۔ اگر بکنے والا آم یکساں رنگت والا ہے یعنی وہ آم پورے طور پر یکساں رنگ لیے ہوئے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ وہ آم کیلشیم کاربائیڈ کی مدد سے پکایا گیا ہے۔
2۔ کیلشیم کاربائیڈ کی مدد سے پکے ہوئے آم پر دو سے تین دن کے بعد کالے دھبے ظاہر ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ کو کالے دھے والے آم فروخت ہوئے نظر آئیں تو سمجھ لیجیے کہ وہ کیلشیم کاربائیڈ کی مد د سے پکے ہوئے ہیں۔
3۔ قدرتی طریقے سے پکنے والے آم کا کچھ حصہ ہرا اور کچھ حصہ رنگ دار ہوتا ہے۔ یہ مکمل طور پر یکساں رنگت والے نہیں ہوتے۔
احتیاطی تدبیر
چونکہ قدرتی اور محفوظ طریقے سے پکے ہوئے آم تلاش کرنا ذرا مشکل کام ہے لہذا آم کے شوقین اور دلدادہ افراد کو چاہیے کہ وہ خود ہی درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کر لیں تاکہ صحت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ کم سے کم ہو۔
 ا۔ تمام پھل خاص طور پر آم جو کیلشیم کاربائیڈ کے عمل سے پائے جاتے ہیں استعمال کرنے سے پہلے اچھی طرح دھولیں اور چند منٹ تک ان کو ٹونٹی کے نیچے پڑا رہنے دیں تاکہ تمام خطرناک کیمیائی اجزاء سے کسی حد تک پاک ہو جائیں۔
2۔ ایسے آم خریدنے سے گریز کریں جو اپنے وقت سے پہلے ہی مارکیٹ میں بکنے کے لیے موجود ہوں۔
3۔ آم کھانے سے پہلے مندرجہ بالا طریقے سے دھو کر ٹکڑوں میں کاٹ کر کھائیں نہ کہ ثابت ہی کھا لیں۔