بدعنوانی کا خاتمہ اور وزیراعلیٰ کی ہدایات

بدعنوانی کا خاتمہ اور وزیراعلیٰ کی ہدایات

مختلف صوبائی محکموں کے ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے بعض سرکاری اداروں میں بدعنوانیوں اور کرپشن کی عوامی شکایت پر نوٹس لینے، مسائل حل کرنے اور بدعنوان اور مالی بے ضابطگیوں میں ملوث سرکاری افسوان و اہلکاران کی فہرستیں مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ گڈ گورننس اور بدعنوانی کا خاتمہ موجودہ صوبائی حکومت کا بنیادی ایجنڈا ہے اور اسی میں کامیابی کا راز مضمر ہے، کرپشن کا خاتمہ اور اداروں کی بہتری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ملوث سرکاری اہلکاروں کی برطرفی تک کے اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسائل کی درستگی کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات درست نہج پر جا رہے ہیں۔ حکومتی اقدام کا مقصد عوامی شکایات کا ازالہ کرنے سمیت ان کا دوبارہ سے سرکاری اداروں پر اعتماد بحال کرنا اور ان کی داد رسی کرنا ہے۔ اخباری بیان کے مطابق خصوصی اجلاس میں صوبائی کابینہ اراکین سلیم جھگڑا، شہرام ترکئی، ریاض خان، پرنسپل سیکرٹری امجد علی اور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز موجود تھے۔ ایسے میں کئی ایک اہم مسائل زیر بحث لائے گئے جن میں ضم اضلاع میں گورننس کی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا اور ساتھ ہی ہدایت کی گئی کہ ایسے کسی بھی کرپٹ اور غیرذمہ دار افسران و اہلکاران کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹایا جائے ساتھ ہی عندیہ دیا کہ بدعنوانی میں ملوث ورکرز کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر متعلقہ انتظامی سیکرٹری کو بھی گھر کا راستہ دکھایا جائے گا۔ ایسے اقدامات سراہے جانے چاہئیں جن سے عوام میں اعتماد پیدا ہو گا کہ ان کی شکایتوں کو سنا جانے لگا ہے  اور اس پر عوام کی دادرسی کرتے ہوئے ان افسران و اہلکاروں کو، جن کی وجہ سے عوام پریشان ہوں، نشانے پر لانے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ ایسے میں ان کرپٹ اور بدعنوانی میں ملوث سرکاری ملازمین کو ہٹائے جانے کے سلسلے میں فوری قانونی ترامیم کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے اور ان لوگوں کی کھوج کیلئے خفیہ اداروں کو بھی حرکت میں لائے جانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اجلاس میں شریک سیکرٹریز کو ہدایات دیتے ہوئے وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ کسی بھی قسم کے سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر کارروائی عمل میں لائیں اور اداروں کے معاملات درست کریں، اس سے جہاں اداروں کی کارکردگی درست ہو گی وہاں عوام کا اعتماد بھی بحال کیا جا سکے گا اور ایسے میں مسائل حل ہونے میں بھی آسانی رہے گی، ضم اضلاع کی گورننس میں بہتری لانے کیلئے دو مہینوں لانے کا عندیہ دیتے ہوئے کسی بھی عہدہ پر مسلسل براجمان رہنے کی بجائے ان کے فوری تبادلے کی ہدایات بھی کیں اور ورکس ڈیپارٹمنٹس کے سیکرٹریز کو تعمیراتی کاموں و منصوبوں پر کام کے معیار کو یقینی بنانے کیلئے بھی ہدایات جاری کیں۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے یہ ہدایات بلاشبہ لائق صد تحسین ہیں تاہم ان ہدایات پر من و عن عمل درآمد بھی ہونا چاہئے تاکہ حق حقدار کو ملے اور ملک کے غریب عوام بھی سکھ کا سانس لے سکیں کہ اب کی شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے افسران کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ حکومتی اقدامات نہ صرف برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کامیاب کوشش ہو گی بلکہ اس  سے کئی دیگر مسائل بھی ختم کئے جا سکتے ہیں لیکن اس پر بھی بس نہیں ہوتا، کرپشن اور عوامی مسائل حل کرنے کیلئے حکومت کو ایک اور قدم بھی اٹھانا ہو گا، حکام کو آٹا اور چینی چوروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا ساتھ میں مہنگائی کے بنیادی عناصر کی بھی بیخ کنی کرنا ہو گی، سبزیوں کے بھاؤ بھی آسمان کو چھونے لگے ہیں، ان پر بھی قابو پانے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کے بروقت سدباب یا خاتمہ کیلئے سنجیدہ کوششوں سے ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے گا، تبھی عوام کو یقین ہوگا کہ حکومت کو ان کے مسائل کا احساس ہو چکا ہے۔