محاذ آرائی کا خاتمہ بہت ضروری ہے 

محاذ آرائی کا خاتمہ بہت ضروری ہے 

ملک میں جاری سیاسی محاذ آرائی یا متحارب سیاسی جماعتوں کے مابین اقتدار کے لئے جاری کشمکش کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ ماضی کے مختلف ادوار میں ملک و قوم اس قسم کے بحرانوں سے دوچار ہوئے ہیں مگر اس قسم کے بحرانوں اور کشمکش میں سیاسی رہنماؤں، دانشوروں، سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے اہم عہدیداروں حتی کہ بیرون ممالک کے سفارتکاروں اور دوستوں نے اس قسم کی سیاسی محاذ آرائی اور متحارب  سیاسی جماعتوں کے مابین مصالحت کے لئے مداخلت کر کے افہام و تفہیم میں کردار ادا کیا ہے۔ ہر کوئی اس حقیقت سے اختلاف کر سکتا ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں مملکت عزیز امریکہ سمیت کئی ایک عالمی قوتوں اور جاسوسی اداروں کے لئے بہت زیادہ اہمیت کا حامل تھا مگر اب حالات کافی تبدیل ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ اسی وجہ سے پچھلے چار نہیں بلکہ نو برسوں سے ملک میں جاری سیاسی کشمکش پر بیرونی ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں اب ملک کے اپنے باشندوں بالخصوص سیاسی قائدین، دانشوروں اور دیگر طبقوں سے تعلق رکھنے والوں کے نمائندوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ پہل کریں اور ملک میں جاری سیاسی، معاشی اور انتظامی بحران کو استحکام میں بدل دیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سیاست کی اس نئی روش میں عدلیہ، انتظامیہ اور حتی کہ فوج جیسے ادارے بھی اتنے مدخل ہو گئے کہ ان اداروں سے منسلک افراد اب کسی بھی طور پر غیرجانبدار نہیں رہے۔ اداروں سے منسلک بہت سے لوگ اب کھلم کھلا سیاسی محاذ آرائی کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کے مابین سیاسی اختلافات اب تقریباً ذاتی عداوت میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ کچھ سیاسی جماعتیں اور رہنماء اس سیاسی کشمکش اور محاذ آرائی کا حصہ نہیں ہیں مگر ان کا موقف دونوں فریقین کے لئے بہت زیادہ سخت بلکہ متعصبانہ دکھائی دیتا ہے اور ان کے اس سخت موقف کو مدنظر رکھتے ہوئے مصالحت کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ ماضی میں متحارب سیاسی جماعتوں یا اداروں سے منسلک بعض اکابرین نے پہل کر کے مصالحت کرنے میں کامیابیاں حاصل کی ہے۔ موجودہ قیادت میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی محمود خان اگرچہ مکمل طور پر محاذ آرائی میں فریق ہیں مگر پھر بھی ان سے مصالحت کے لیے کردار ادا کرنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ سیاست کے میدان میں محمود خان نے کم گو اور شریف النفس رہنماء کی حیثیت حاصل کی ہے، اگر انہوں نے مصالحت کے لئے پہل کی تو پی ڈی ایم کی قیادت سے بھی انہیں مثبت جواب ملے گا۔ مصالحت کے لئے پہل کا آغاز پاکستان تحریک انصاف ہو سے ہونا چاہیے کیونکہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہٹ دھرمی کی سیاست ہی سے ملک میں جاری سیاسی کشمکش میں دن بدن اضافہ ہوا اور ہوتا جا رہا۔ کوئی مانے یا نہ مانے یہ سیاسی کشمکش کسی بھی طور پر عمران خان یا ان کی جماعت، پاکستان تحریک انصاف کے فائدے میں نہیں ہے۔