نسل پرستانہ اور خواتین مخالف ٹوئٹس پر انگلش فاسٹ بولرکو کھیلنے سے روک دیا گیا

نسل پرستانہ اور خواتین مخالف ٹوئٹس پر انگلش فاسٹ بولرکو کھیلنے سے روک دیا گیا

صرف 6 روز قبل ٹیسٹ کرکٹ میں ڈیبیو کرنے والے انگلش فاسٹ بولر اولی رابنسن کو کرکٹ کھیلنے سے روک دیا گیا ۔

اولی رابنسن کےخلاف13-2012 میں متنازع بیانات پرڈسپلنری ایکشن شروع کیا گیا تھا،رابنسن کے ٹوئٹس نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے دوران سامنے آئے تھے جس میں ان پر  نسل پرستانہ اور خواتین مخالف متنازع بیانات کا الزام ہے۔

بعد ازاں روبنسن نے متنازع ٹوئٹس پرغیر مشروط معافی بھی مانگی تھی۔

انگلش کرکٹ بورڈ(ای سی بی) کے مطابق  رابنسن انکوائری مکمل ہونےتک بین الاقومی کرکٹ نہیں کھیل سکیں گے، انہوں نے گزشتہ ہفتے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا اور اس دوران ان کے نو سال پرانے ٹوئٹ سامنے آئے جس کے بعد انہیں  نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر کردیا گیا۔

اس حوالے سے  رابنسن کا کہنا ہے کہ نو برس پہلے جو ٹوئٹ کیے اس پر شرمندہ ہوں۔

انگلش کپتان کا کہنا ہےکہ جو ٹوئٹس سامنے آئے وہ قابل قبول نہیں،اولی رابنسن نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔

 دوسری جانب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن  اولی رابنسن کی حمایت میں سامنے آگئے۔

برطانوی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ  انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اولی رابنسن کے معاملے پر بہت آگے بڑھ گیا ،رابنسن کی معطلی کا بہت سخت فیصلہ کیا گیا، دوبارہ سوچنا چاہیے۔