زمانہ، حال اور ذہن

زمانہ، حال اور ذہن

تحریر: ڈاکٹر سردار جمال

وقت ہمیشہ ”حال“ ہوتا ہے، نہ تو کبھی ماضی ہوتا ہے اور نہ ہی کبھی مستقبل ہوتا ہے۔ وقت نہ تو کہیں سے آتا ہے اور نہ ہی کسی طرف جاتا ہے۔ وہ تو پہلے سے یہاں ہے اور ہمیشہ یہاں رہے گا۔ یہ ہوس ہوتی ہے، خواہش ہوتی ہے، امید ہوتی ہے کہ کسی طور، کسی صورت حال میں خوش ہو۔ گوتم بدھ نے تمام خواہشات ترک کر دیں، تمام امیدیں ترک کر دیں، تمام آرزوئیں پرے کر دیں تو دفعتاً وہ گوتم سدھارتھ سے ایک بدھ بن گیا۔ وہ پہلے ہی سے ایسا تھا لیکن وہ ادھر ادھر تلاش کرتا پھرا، ادھر کہیں تھا، اندر باہر لیکن کائنات ایسے ہی بنی ہے۔ یہ بابرکت وسعت ہے، یہ سچ ہے، یہ الوہی ہے۔ انسان مصیبت زدہ رہتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنی خواہش کے حوالے سے بنیادی سچ کو نظر انداز کرتا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھ لینا چاہئے تب یہ سوترا سہل ہو جائیں گے۔ بدھ نے بیان کیا ہے کہ ایک آدمی نے جذبے کو قابو کرنے میں ناکام ہو کر سوچا کہ اپنے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے۔ بدھ نے اس سے کہا ”اپنے جسم کو نقصان پہنچانے سے بہتر ہے کہ اپنے برے خیالات پر قابو پا لو۔ ذہن آقا ہے۔ جب آقا خود پرسکون ہو تو رعایا خودبخود اس کی پیروی کرے گی۔ اگر ذہن جذبوں سے پاک نہیں ہو گا تو ہاتھ پیر کاٹنے سے تم کیا حاصل کر لو گے۔“ بہت سی چیزوں کو سمجھنا ہو گا۔ اول بدھ کے حوالے سے ایک بہت بڑا مغالطہ عام ہے کہ وہ جسم کے خلاف تھا۔ یہ قطعی طور پر غلط ہے۔ وہ کبھی جسم کا مخالف نہیں رہا البتہ وہ کبھی جسم کے واسطے نہیں رہا۔ یہ حقیقت ہے لیکن وہ جسم کا مخالف نہیں تھا۔ یہ سوترا اس امر کو واضح کر دے گا۔ وہ کہتا ہے اپنے ذہن کو قابو رکھو۔ اور اس آدمی جیسے ایک نہیں بہت سے لوگ ہیں، لاکھوں لوگوں نے سچ، خدا، مسرت کی تلاش میں اپنے جسموں کو برباد کر ڈالا ہے۔ لاکھوں لوگوں نے یہ تصور کیا کہ جسم ان کا عدو ہے، ان کا دشمن ہے۔ اس میں ایک خاص منطق ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کہ ان کی مصیبت کی وجہ ان کا جسم ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ ایسا جسم کی وجہ سے ہوتا ہے کہ تم میں شہوت ہوتی ہے۔ ایسا جسم کی وجہ سے ہے کہ تم لالچی ہو، یہ جسم کی وجہ سے ہے کہ  تم دولت کے طلب گار ہوتے ہو، ایسا جسم کی وجہ سے ہے کہ تم تعلق استوار کرنے کے خواہاں ہوتے ہو۔ لوگ سوچتے ہیں کہ جسم کی وجہ سے ساری کی ساری مصیبتیں رونما ہوئی ہیں بس کیوں نہ جسم کو تباہ کر دیا جائے؟ کیوں نہ خودکشی کر لی جائے؟ کئی ایسے فرقے موجود ہیں جو خودکشی پرست ہیں، جو کہ خودکشی کی تبلیغ کرتے ہیں، جو کہتے ہیں اس جسم کو ختم کرنا ہو گا۔ اگر تم جرات مند ہو تو ایک ہی جست میں اس جسم سے چھٹکارہ پا لو۔ اگر تم جراتمند نہیں ہو تو پھر آہستہ آہستہ، قسطوں میں جسم کو کاٹو، یوں جسم سے نجات پا لو۔ انقلاب سے پہلے روس میں ایک ایسا فرقہ ہوتا تھا جو کہ بہت مقبول تھا اور وہ تبلیغ کرتا تھا کہ لوگوں کو اپنے جنسی اعضا کٹوا دینے چاہیئں اور ہزاروں لوگ ان کے پیروکار بن گئے تھے۔ صرف اپنے جنسی اعضا ہی تو کٹوانا پڑتے تھے۔ تصور یہ تھا کہ اپنے جنسی اعضا کو کٹوانے سے تم جنس سے ماورا ہو جاؤ گے۔ یہ احمقانہ تصور تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ جنس جنسی اعضا میں موجود نہیں ہوتی ہے یہ تو ذہن میں ہوتی ہے۔ تم جنسی اعضا کو کٹوا سکتے ہو لیکن جنس اس کے باوجود موجود ہو گی۔ درحقیقت اب یہ زیادہ نیورانی ہو جائے گی کیونکہ اس کی آسودگی کا کوئی راستہ نہیں ہو گا۔ دنیا بھر میں ایسے فرقے موجود ہیں جو فاقہ کشی کی تبلیغ کرتے ہیں۔ کچھ وقت کے لیے، ایک ماہ کے لیے فاقہ کشی مدد گار ثابت ہوتی ہے، صحت بخش ثابت ہو سکتی ہے، صفائی کا، تطہیر کا عمل ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن لمبے لمبے فاقوں سے جسم تباہ ہو جاتا ہے۔ لیکن اس طرح کے فرقے موجود ہیں جو فاقہ کشی کے حوالے سے خبط کا شکار ہیں۔ لہذا مسئلہ جسم نہیں مسئلہ ذہن میں ہے۔ اگر ذہن آپ کے قابو میں ہو تو سب ٹھیک ورنہ مسئلہ گھمبیرتا رہے گا کیونکہ تصور کے تین مراحل ہوتے ہیں۔ اول تصور الفاظ کے بغیر ہوتا ہے، یہ خیال میں تشکیل نہیں پایا ہوتا۔ اگر تم وہاں اسے گرفت کر پاؤ تو تم اس سے آزاد ہو سکتے ہو۔ دوسرا مرحلہ وہ ہوتا ہے جب یہ الفاظ میں داخل ہو جاتا ہے۔ جب یہ تشکیل پذیر ہو جاتا ہے۔ تمہارے اندر ایک خیال ابھرتا ہے۔ لوگ اتنے خوابیدہ ہیں کہ انہیں دوسرے مرحلے میں آگاہی حاصل ہوتی ہے جب خیال ایک شے بن چکا ہوتا ہے، جب یہ پہلے ہی خام جسم میں داخل ہو چکا ہوتا ہے اور جسم اس کا حامل ہو چکا ہوتا ہے، تب تم آگاہ ہوتے ہو۔ سادہ سی بات ہے کہ اس سے انسان کی جہالت ظاہر ہوتی ہے۔