ہر گھر میں ایک ''نسیم'' چاہئے

ہر گھر میں ایک ''نسیم'' چاہئے

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ بیگم نسیم ولی خان آمریت کے خلاف ایک توانا جمہوری آواز تھیں اور انہوں نے قومی تحریک کی قیادت ایسے حالات میںکی جب پوری قیادت جیلوں میں تھی اور انہوں نے ایسے کھٹن حالات میں اپنا لوہا منوایا۔ اے این پی کی سابق صوبائی صدر بیگم نسیم ولی خان کی پہلی برسی پر جاری پیغام میں اے این پی سربراہ اسفندیارولی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پہلی منتخب رکن پارلیمنٹ کا اعزاز حاصل کرنا آسان نہیں تھا، آج ہر سیاسی ورکر بیگم نسیم ولی خان کے نقش قدم پر چلے تو سیاسی و جمہوری نظام مضبوط ہو سکتا ہے، اے این پی کیلئے باعث افتخار ہے کہ بیگم نسیم ولی خان جیسی قیادت نصیب ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بیگم نسیم ولی خان نے ایک ایسے دور میں قیادت کی جب پختونخوا میں خواتین کا سیاست تو کیا گھر سے باہر نکلنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا اور اپنی محنت سے انہوں نے ثابت کیا کہ اگر حوصلہ و ہمت ہو تو پشتون خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کھڑی ہو سکتی ہیں۔ ان کی پہلی برسی پر ہم جمہوریت اور پارلیمانی روایات کی مضبوطی کیلئے ان کی جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں۔ بلاشبہ بیگم نسیم ولی خان اپنے دور کی اہم شخصیات میں سے ایک تھیں جنہیں اس خطے کی تاریخ لکھنے والا کوئی بھی مورخ بہ آسانی نظرانداز نہیں کر سکے گا۔ بلکہ آمریت کے خلاف اور جمہوریت کی بحالی کے لئے ان کی جدوجہد کو سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک و قوم بالخصوص پشتون جن حالات سے گزر رہے ہیں، اور مستقبل میں ملک و قوم کو جو جو خدشات لاحق ہیں انہیں مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں ہر گھر میں بیگم نسیم ولی خان جیسی خواتین پیدا کرنا ہوں گی، ہمیں اپنی بچیوں، اپنی نوجوان نسل کو ایسی خواتین رہنماؤں اور ان کی جدوجہد و کامیابیوں سے روشناس کرانا ہو گا، انہیں سیاسی شعور دینا ہو گا اور سیاسی عمل میں ان کی شرکت کو یقینی بنانا ہو گا تاکہ نا صرف قوم سیاسی طور پر باشعور اور فعال ہو جائے بلکہ کل اگر قوم پر کوئی افتاد پڑتی ہے تو مردوں کے ساتھ ساتھ ہماری خواتین بھی اس کا مقابلہ کر سکیں۔ اس کے لئے ہمیں گھر گھر ایک مہم چلانا ہو گی، قوم کو خواتین کے سیاسی عمل میں کردار اور اس کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہو گا اور سب سے بڑھ کر سیاسی میدان میں ان خواتین کے لئے جگہ پیدا کرنا ہو گی، انہیں ''سپیس'' دینا ہو گا اور ان کے لئے یکساں مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ظلم و جبر کی اس طویل رات کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے، ملک و قوم کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔