جعلی وزیراعظم اپنی نااہلی کا ملبہ پچھلی حکومتوں پر نہیں ڈال سکتے، میاں افتخار

جعلی وزیراعظم اپنی نااہلی کا ملبہ پچھلی حکومتوں پر نہیں ڈال سکتے، میاں افتخار

دیربالا۔۔۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ جعلی وزیراعظم اپنی نااہلیوں کا ملبہ پچھلی حکومتوں پر ڈال کر ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ اقتدار میں آنے سے قبل عمران خان کہا کرتے تھے کہ جب مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے تو وزیراعظم چور ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت نے محض تین سال میں مہنگائی اور بے روزگاری کا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔حالیہ ہوشربا مہنگائی اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ وزیراعظم پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا چور ہے۔ اے این پی مہنگائی کے خلاف 25 اکتوبر کو تحصیلوں کی سطح اور 10 نومبر کو پشاور میں عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ کرے گی۔

 

تحصیل واڑئ دیر بالا میں تنظيمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ مرکز میں اپنی کوتاہیوں کا بوجھ ماضی کی حکومتوں پر ڈالنے والوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ صوبے میں پچھلے آٹھ سال سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔موجودہ حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں نے ملک کو بحرانوں سے دوچارکردیا ہے۔ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی ایماء پر عوام کا جینا محال کیا جارہا ہے۔روزانہ کے حساب سے عوام پر نت نئے ٹیکس لگائے جارہے ہیں۔ایکسپورٹ اور کارخانے بند جبکہ کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔ ملکی خزانہ موجودہ حکومت کی ناکام پالیسیوں کی باعث خالی پڑا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ دنیا میں عوام ٹیکس دیتے ہیں تو ان کو صحت، تعلیم اور دیگر سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جارہا ہے لیکن ان کو پرامن زندگی جینے کا حق بھی نہیں دیا جارہا، صحت ، تعلیم اور دیگر ضروریات زندگی تو بہت دور کی بات ہے۔ ریاست مدینہ کے نام پر عوام سے دھوکہ کیا گیااور آج عوام اپنے بچوں سمیت خودکشیوں پر مجبور ہیں۔آج بنگلہ دیش جیسا ملک بھی معاشی ترقی میں پاکستان سے آگے ہے۔انہوں نے کہا کہ تبدیلی اور نئے پاکستان کے نام پر پاکستان کے عوام کو سبز باغات دکھائے گئے۔اسٹیبلشمنٹ نے ایک ایسے شخص کو ملک پر مسلط کردیا ہے جسکی حیثیت میانوالی سے ایک سیٹ جیتنے کی بھی نہیں۔ دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آنے والے نے اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر ملک اور عوام کا بیڑا غرق کردیا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ یہ جنات ہی کی برکت تھی کہ جب پی ٹی آئی نے ڈی چوک پر قبضہ کیا تو مہینوں ٹی وی چینلز پر روزانہ انکی تشہیر کی جاتی۔ آج جب ڈاکٹرز، اساتذہ ، طالبعلم اور سرکاری ملازمین سمیت عام عوام اپنے حقوق کیلئے احتجاج کرتے ہیں تو ان پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے۔آج میڈیا کو پابندیوں میں جکڑ دیا گیا ہے اور اپوزیشن کا بلیک آؤٹ کیا جاتا ہے۔  پی ٹی آئی نے اپنے چال چلن سے پاکستان کے سیاسی کلچر کو آلودہ کردیا گیا ہے۔  

 

نیب آرڈیننس بارے میاں افتخار حسین نے کہا کہ جہانگیر ترین سمیت جن لوگوں نے ملکی خزانے پر ڈاکہ ڈالا ان کو این آر او دے دیا گیا۔ نیب آرڈیننس لاکر اور چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کرکے پارلیمان کی تضحیک کی گئی۔ چینی ، آٹے اور پٹرول سمیت دیگر سکینڈلز میں ملوث افراد کو فرار کا محفوظ راستہ دیا گیا۔نیب کو سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔وزیراعظم سمیت موجودہ حکومت کے وزراء مالم جبہ سکینڈل، بی آر ٹی، ہیلی کاپٹر کیس اور فارن فنڈنگ کیس  میں ملوث ہے لیکن ان کو کچھ نہیں کہا جارہا ہے۔ جعلی وزيراعظم کو صادق اور امین قرار دینے والا سابق چیف جسٹس خود ڈیم فنڈ کا چور ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سب سے سستی پن بجلی خیبر پختونخوا پیدا کرتا ہے لیکن اس صوبے کے عوام آج بھی اس سہولت کو استعمال کرنے سے محروم ہیں۔اے این پی نےصوبائی خودمختاری اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کی شکل میں اپنے عوام کے حقوق کا حصول ممکن  بنایا لیکن آج بھی اس پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔حالات کا تقاضہ ہے کہ عوام موجودہ حکومت کے خلاف نکلے اور ان سے اپنے حقوق کا حساب کتاب کرے۔ اے این پی اس مٹی کی وارث ہے اور اپنے عوام کے حقوق کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

 

اجلاس میں کمیٹی اراکین  ملک واصل خان، متوکل خان ایڈووکیٹ، ضلعی صدر راجہ امیر زمان، جنرل سیکرٹری افتخاراحمد  اور تحصیل صدر شفیع االلہ  بھی موجود تھے۔ اس موقع پر کیپٹن (ر) مسلم خان ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی سے مستعفی ہوئے اور عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔