پشتو ادب کے نامور شاعر و ادیب تسکین مانیروال صوابی میں سپردخاک

پشتو ادب کے نامور شاعر و ادیب تسکین مانیروال صوابی میں سپردخاک

صوابی(نمائندہ شہباز) پشتو ادب کے نامور شاعر، ادیب، دانشور، مصنف اور بزرگ ریٹائرڈ ٹیچر تسکین مانیر وال انتقال کر گئے‘ انہیں پیر کے روز اپنے آبائی قبر ستان مانیری پایاں صوابی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

 

جنازہ میں ادیبوں، دانشوروں، شعراء، اساتذہ، مقامی صحافیوں اور دیگر دوست و احباب سمیت ہر مکاتب فکر کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

 

مرحوم ریٹائرڈ ٹیچر محمد ادریس اور چیف انجینئر پیسکو چلاس انور شاہ کے بھائی جب کہ تنویر جمال، کامران خان اور مصطفی جلال کے چچا، سابق تحصیل ناظم واحد شاہ، مفرق شاہ، خالد شاہ، فقیر شاہ، شاہد اور عارف کے چچا زاد اور جے یو آئی (نظریاتی)کے مرکزی رہنما حاجی نجیم خان ایڈوکیٹ، پرنسپل فدا محمد اور انور خان کے سالے تھے۔

 

مرحوم کی رسم قل کل بروز بدھ جامعہ مسجد ڈاگئی چم مانیری پایاں میں ادا کی جائے گی۔

 

دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان، جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک اور سیکرٹری ثقافت خادم حسین نے پشتو کے معروف شاعر تسکین مانیروال کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحوم ایک خوددار شخصیت کے مالک تھے اور ساری زندگی درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ قلم کے ذریعے پشتو زبان و ادب کیلئے انکی خدمات کو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔

 

مرحوم کی وفات پشتو ادب کیلئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔انکی وفات سے پشتو ادب میں پیدا ہونے والا خلا بمشکل پورا ہوگا۔ عوامی نیشنل پارٹی دکھ اور درد کی اس گھڑی میں غمزدہ خاندان کے ساتھ شریک ہے۔ اللہ تعالی مرحوم کو جنت میں اعلی مقام اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔