حکومت نے قبائلی اضلاع کے ترقیاتی بجٹ کا چوتھا کوارٹر ریلیز نہیں کیا : تیمور سلیم جھگڑا

حکومت نے قبائلی اضلاع کے ترقیاتی بجٹ کا چوتھا کوارٹر ریلیز نہیں کیا : تیمور سلیم جھگڑا

پشاور : صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ تمام پارٹیز قبائلی اضلاع کو بھول گئے ہیں، ہم نے بجٹ بڑھا کر 77 ارب کردیا، امپورٹڈ حکومت نے قبائلی اضلاع کے ترقیاتی بجٹ کا چوتھا کوارٹر ریلیز نہیں کیا۔

 

وزیر خزانہ خیبر پختونخوا تیمور سلیم جھگڑا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے تین ساڑھے تین سال تمام سیاسی جماعتوں نے ہماری وفاقی حکومت پر تنقید کی کہ عمران خان نے قبائلی اضلاع کیساتھ انصاف نہیں کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ حال یہ ہے کہ امپورٹڈ حکومت نے قبائلی اضلاع کے ترقیاتی بجٹ کا چوتھا کوارٹر ریلیز نہیں کیا۔ کہاں ہے وہ قبائلی اضلاع کے حقوق کے چیمپئین جو ہر وقٹ ٹی وی پر تنقید کرتے تھے۔ قبائلی اضلاع کا انضمام، انتخابات کوئی معمولی کام نہیں تھا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کے تین فیصد بجٹ دیگر صوبوں کے نہ ماننے کی وجہ سے ممکن نہیں ہوا ہے۔ انضمام سے قبل قبائلی اضلاع کا بجٹ بتیس ارب روپے تھا، جو کہ انضمام کے بعد 21‪-22 میں 77 ارب پر جا پہنچا ہے۔

 

صوبائی وزیر نے کہا کہ تین سال میں قبائلی اضلاع کے بجٹ میں تین گنا اضافہ کیا۔ ترقیاتی بجٹ انضام سے قبل اکیس ارب کچھ تھا۔ انضمام کے بعد 19‪-20 کے بجٹ میں ترقیاتی بجٹ 37 ارب پر جا پہنچا۔ اسی طرح 2‪1-22 کے مالی سال میں 54 ارب روپے کی تشخیص کی گئی۔

 

تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کے حق کے حصول کیلئے فنانس ڈویژن کو خط لکھوں گا۔ قبائلی اضلاع کے سترہ ارب روپے کے فنڈز وفاق نے روک لئے ہیں۔ قبائلی اضلاع کیلئے صحت کارڈ پلس میں شامل ہونے کیلئے قبائلی اضلاع کے فنڈز ابھی تک جاری نہیں ہوئے۔

 

انہوں نے کہا کہ اس پر پچھلے وفاقی حکومت میں اکتفا ہوگیا تھا، جس پر ابھی تک وفاقی حکومت خاموش ہے۔ ریاست سب کی ایک جیسی ہے اور سب شہریوں کے حقوق کی نگہبان ہے۔ آج مجبورا ہمیں پریس کے ذریعے عوام کو آگاہ کرنا ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت نے نیٹ ہائیڈل پروفٹ کا ایک روپیہ تک جاری نہیں کیا۔ وفاق چھوٹے صوبوں کے حقوق سلب کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔ صوبہ تین سے پانچ ارب زیادہ زیادہ سے دے سکتا ہے۔ قبائلی اضلاع کا بجٹ کے حوالے سے آج بات کریں گے۔

 

صوبائی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن تین سال تنقید کی کہ قبائلی اضلاع میں کام نہیں کی۔ امپورٹڈ حکومت نے قبائلی اضلاع کے فنڈز کو جاری نہیں کیا۔ تمام پارٹیز قبائلی اضلاع کو بھول گئے ہیں۔ مشکلات حالات میں قبائلی اضلاع میں کام کیا۔ انضمام سے پہلے 32 ارب بجٹ تھا۔ اب بڑھا کر 77 ارب کردیا۔