اسلام کی خاتون اول: حضرت خدیجة الکبریٰ

اسلام کی خاتون اول: حضرت خدیجة الکبریٰ

 ماں جی اللہ والے

عام روایت کے مطابق اُم المومنین حضرت سیدہ خدیجة الکبریٰ عام الفیل سے پندرہ برس قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد خویلد بن اسد کا شمار مکہ کے امیر ترین تاجروں میں ہوتا تھا۔ امیر گھرانے میں پیدا ہونے کی وجہ سے حضرت خدیجہ کی پرورش بڑے نازو نعم میں ہوئی۔ اس قدر نازو نعم میں پرورش پانے کے باوجود آپ اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار کی مالک تھیں۔ آپ  بچپن سے ہی نہایت نیک اور شریف الطبع تھیں اسی لئے آپ کا لقب ''طاہرہ'' پڑ گیا۔ چونکہ آپ  لکھنا پڑھنا بھی جانتی تھیں اس لئے جب آپ کے والد کا انتقال ہوا تو کاروبار کی تمام تر ذمہ داریاں آپ نے اپنی عقلمندی اور ہمت سے اس بخوبی سے سنبھالیں کہ کاروبار شام سے یمن تک پھیل گیا۔ آپ کے بڑے بڑے تجارتی قافلے شام اور یمن کے لئے سامان تجارت لے کر روانہ ہونے لگے، کاروبار روزبروز وسیع تر ہوتا گیا جس کی دیکھ بھال کے لئے ایک بڑا عملہ رکھا گیا، اس عملہ میں عربی، یہودی اور عیسائی شامل تھے۔ آپ کے اعلیٰ اخلاق، نیک نامی اور بے شمار دولت کی بناء پر مکہ کے بڑے بڑے سرداروں نے آپ کو نکاح کے لئے پیغامات بھجوائے لیکن آپ خاموش رہ کر ان کو پیغامات کو ردکرتی رہیں۔
جب کاروبار اور زیادہ بڑھ گیا تو بڑے بڑے تجارتی قافلے کسی بے حد ایماندار اور قابل شخص کی نگرانی میں بھیجنے کی ضرورت پیش آ گئی۔ ابن ہشام اور دیگر روایات کے مطابق آپ کے قابل اعتماد غلام میسرہ نے مشورہ دیا کہ اس مرتبہ تجارتی قافلہ حضرت محمد بن عبداللہۖ کی نگرانی میں بھجوایا جائے کیونکہ وہ مکہ کے سب سے دیانت دار اور صادق و امین کے لقب سے پکارے جاتے ہیں۔ حضرت خدیجہ نے اس مشورے پر غور کرنے کے بعد اپنے غلام میسرہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تاکہ آپۖ کی اس حوالے سے رضامندی معلوم کی جا سکے۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پہلے اپنے چچا ابو طالب سے مشورہ کیا اور پھر حضرت خدیجہ کی جانب سے دی گئی پیشکش کو قبول فرماتے ہوئے ان کے تجارتی قافلوں کو اپنی نگرانی میں لے جانے کی حامی بھر لی۔ جب نبی اکرمۖ تجارتی قافلے لے کر روانہ ہوئے تو حضرت خدیجہ  کا غلام میسرہ بھی ہمراہ روانہ ہوا۔ تجارتی قافلہ شام کے لئے روانہ ہوا اور دو ماہ بعد تجارت کے بعد قافلہ واپس آیا تو غلام میسرہ نے حضرت خدیجہ کو سفر کا حال بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہترین اخلاق، راست گوئی اور غیرمعمولی خوبیوں کا بھی بتایا جسے سن کر حضرت خدیجہ بے حد متاثر ہوئیں۔ آپۖ کی دیانت داری اور تجارتی حکمت عملی کی وجہ سے اس مرتبہ تجارت میں منافع بھی بہت زیادہ ہوا تھا۔ حضرت خدیجہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دیانت داری، اعلیٰ اخلاق و کردار سے متاثر ہو کر اپنی عزیز ترین سہیلی نفیسہ کے ذریعے آپۖ کو نکاح کا پیغام بھجوایا۔ آپۖ نے اپنے چچا ابو طالب کی اجازت اور رضامندی کے بعد نکاح کا پیغام قبول کر لیا۔ شادی کے بعد اُم المومنین حضرت خدیجہ نے اپنی ساری زندگی حضورۖ کی خدمت میں وقف کر دی۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا ہوئی تو اس بات کا علم سب سے پہلے حضرت خدیجہ  کو ہوا اور آپ نے ہی نبوت کی سب سے پہلے تصدیق کی اورسب سے پہلے اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل کی، اس طرح آپ کو دنیا کی پہلی مسلمان خاتون ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ نے اپنی تمام دولت دین اسلام کے لئے وقف کر دی۔
صحیح بخاری کی روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت جبرائیل نے آپۖ سے کہا کہ ''حضرت خدیجہ برتن میںآپۖ کے کھانے یا پینے کے لیے کچھ لا رہی ہیں، آپۖ ان کو اللہ کا اور میرا سلام پہنچا دیں۔'' گویا حضرت خدیجہ  کو تمام قربانیوں اور آپۖ سے محبت و معاونت کا صلہ دنیا میں ہی مل گیا تھا۔ جب خاندان بنو ہاشم، شعب ابی طالب میں پناہ گزین ہوا تو اُم المومنین اس مشکل وقت میں بھی پیچھے نہ ہٹیں اور تین سال اس گھاٹی میں آپۖ کے ساتھ محصور رہ کر ہر طرح کے مصائب اور تکلیفیں برداشت کرتی رہیں، یہ زمانہ اتنا سخت اور تکلیف دہ تھا کہ پتے کھا کھا کر گزارا ہوتا تھا۔ تین سال تک صبر آزما وقت گذارنے کے بعد جب شعب ابی طالب سے نکلے تو چند روز بعد اُم المومنین حضرت سیدہ خدیجة الکبریٰ 10 امضان المبارک کو وفات پا گئیں۔ آپ کی وفات پر نبی کریمۖۖ نے اس سال کو عام الحزن یعنی غم کا سال قرار دیا۔ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد حضرت جبرائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ''انہیں جنت کے گھر کی خوش خبری دے دیں جس میں نہ کسی قسم کی گونج ہو گی نہ تکلیف (صحیح مسلم)۔'' حضرت خدیجة الکبریٰ کی سیرت اور کردار خواتین کے لئے ہمیشہ مشعل راہ ہے۔ یہ مضمون لکھتے ہوئے کوئی غلطی ہو گئی ہو تو اللہ کے حضور معافی کی طلبگار ہوں۔