ملکی ترقی کیلئے نفرت نہیں جدوجہد کی ضرورت ہے 

ملکی ترقی کیلئے نفرت نہیں جدوجہد کی ضرورت ہے 

3 اپریل کے بعد سے پاکستان تحریک انصاف اپنی ساکھ بچانے کیلئے پورے ملک میں جلسوں کا ناختم ہونے والا سلسلہ شروع کئے ہوئیہے جس میں کبھی خط کا زکر کیا جاتا ہے تو کبھی  اس موقع پر کی جانیوالی تقاریر سے آئین شکنی جھلکتی ہے ایسے میں ملک میں انارکی پھیلانے کی باتیں بھی اخبارات کی زینت بنتی رہی ہیں جنہیں حکمرانوں نے باعث تشویش قرار دیتے ہوئے اہم اقدامات کا عندیہ دیا ہے اور پی ٹی آئی سربراہ عمران نیازی کی جانب سے کئے جانیوالے تمام جلسوں میں تقایر کو آئین شکنی اور غنڈہ گردی سے تشبینہ دی گئی ہے، گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وفاقی وزراء خرم دستگیر اور اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بھی اس کی توثیق کی اور پی ٹی آئی کے اقدامات کو آئین شکنی کے ساتھ ساتھ غنڈہ گردی قرار دیا جس سے نوجوان نسل متاثر ہو رہی ہے خصوصاً ایسے نازک حالات میں جب ملک کو کئی قسم کے چیلنجز کا ھبی سامنا ہو، دنیا بھر کے دیگر ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں جہاں آج حالات انتہائی گھمبیر ہو چکے ہیں اور اب ایک بار پھر عمران خان کی طرف سے پنجاب کے اندر آئین شکنی کی شازش کی جا رہی ہے جو خطرناک ہو سکتی ہے، ان کے جلسوں میں حکومت مخالف بیانیہ پیش کیا جاتا ہے جس پر قانون لازمی طور پر حرکت میں آئے گا، پی ٹی آئی سربراہ کے جلسوں میں جو زبان استعمال ہو رہی ہے اس کو لگام دینے کیلئے گزشتہ روز بھی وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بات کی تھی جو ملک کو دو لخت کر سکتی ہے لیکن ان کے علاوہ آئینی عہدیدار صدر مملکت، سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور گورنر پنجاب بھی آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں اور ان عہدوں کے اختیارات کا ناجائز استعمال آئین پاکستان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے، وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف لندن دیگر وزرا  کے ہمراہ نجی دورے پر جا رہے ہیں، جہاں ان کی ملاقات سربراہ ن لیگ نواز شریف سے ہو گی یہ ایک عام بات ہے کیونکہ سیاسی پارٹیوں کے اندر مشاورت کا عمل جاری رہتا ہے جو سیاسی صورتحال سمیت ملکی بہتری کیلئے ہوتے ہیں لیکن پی ٹی آئی اسے بھی اچھالنے کی کوشش کرے گی کیونکہ ان کے ہاں یہ اصول نہیں وہاں صرف فرد واحد کا طوطی بولتا ہے جو وہ کہتاہے وہی ہوتا ہے ایسے میں مشترکہ سوچ کیسے پروان چڑھ سکتی ہے، یہی وہ عوامل ہو سکتے ہیں جن کی وجہ سے عمران خان دور میں دیگر سیاسی جماعتوں کا اتحاد ٹوٹا اور برسر اقتدر جماعت کا ساتھ دینے والی پارٹیوں نے اپنی اپنی راہ لی، اس کے باوجود بھی تحریک انصاف کے پاس اگر عوام کو دکھانے کیلئے کچھ ہے تو وہ اپنی تقریروں میں ان کا زکر کرے کیوں خالی ایک جھوٹا خط لہرایا جاتا ہے، شومئی قسمت اب عوام پر عمران خان کا جادو نہیں چلنے والا، اب کی بار حالات مختلف ہیں، قانون شکنی کرنیوالوں کے گرد ایسا شکنجہ کسیں گے جس سے آئندہ کسی کو ایسی جرات نہیں ہو سکے گی کہ قانون شکنی کا سوچ سکے۔ وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق گزشتہ حکومت سے ملنے والا تحفہ مہنگائی ایسا گھمبیر مسئلہ ہے جسے تدبر کیساتھ حل کرنے کیلئے کوشش کر رہے ہیں، چینی، آٹا اور گھی کی قیمتوں پر نظر رکھنے کیلئے وزیراعظم نے ایک مانیٹرنگ میکینزم بنا دیا ہے اور صوبوں سے بھی اس سلسلے میں مکمل رابطہ ہے، وفاقی کابینہ نے 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت سمیت کئیی اہم فیصلے کئے گئے ہیں حالانکہ ایک وقت تھا کہ ہم گندم برآمد کرتے تھے لیکن بدقسمتی سے اب درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔ پچھلے چار سالوں کے دوران گندم کی کاشتکاری کے دوران کسانوں کو کوئی مراعات نہیں دی گئیں، ڈی اے پی کی بوری 2600 روپے سے 10 ہزار روپے تک قیمت میں بک رہی ہے جو زراعت سے وابستہ لوگوں پر ظلم کے مترادف ہے۔ موجودہ حکومت کو ان چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت ہے ان کو سابق حکمرانوں کی طرح چور چور کا راگ الاپنے  کی بجائے پریکٹیکلی اقدامات پر فوکس کرنا ہوگا تب کہیں جا کر ان کے بیانئے کو تقویت مل سکتی ہے نہیں تو حالات جو کل تھے آئندہ بھی وہی رہیں گے۔