معدنیات کے بعد جنگلات: سازش کون کر رہا ہے؟

معدنیات کے بعد جنگلات: سازش کون کر رہا ہے؟

عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ہماری معدنیات کو تباہ کرنے کے بعد اب ہمارے جنگلات کو بھی جلایا جا رہا ہے، خیبر پختونخوا کے وزیراعلی کا تعلق جنگلات کے علاقے سے ہے، وہاں پر بھی جنگلات جلائے گئے جس کو پوچھنے والا کوئی نہیں، مرکزی حکومت نے نوٹس لیا لیکن خیبر پختونخوا کے حکمران ابھی تک سوئے پڑے ہیں۔ پشاور پریس کلب کے سامنے کوہ سلیمان کے جنگلات میں لگی آگ کے بجھانے میں غفلت کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت ختم کرنے کا رونا رونے والے جان لیں کہ جنگلات ہمارا اثاثہ ہیں، بلین ٹری سونامی کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا لیکن جنگلات کے تحفظ کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا جا رہا، پختونخوا کے جنگلات میں بھی آگ لگنے کے کئی واقعات رونما ہوئے لیکن کوئی تحقیقات نہیں ہوئیں، معدنیات، جنگلات سمیت قومی وسائل کو تباہ کرنے کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی، کوہ سلیمان پر چلغوزے، زیتون اور صنوبر کے درخت جلائے گئے ہیں، ذمہ دار کون ہیں؟ تخمینہ لگایا جائے، جو نقصان ہوا ہے اس کا مداوا کیا جائے اور جنگلات کو محفوظ کیا جائے۔ خیال رہے کہ بلوچستان کی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ دو ہفتے قبل خیبر پختونخوا کے علاقوں ڈی آئی خان، مغل کوٹ و سابقہ قبائلی علاقوں میں آگ لگی تو پختونخوا حکومت نے خود بجھانے کی کوشش کی نہ ہی بلوچستان حکومت کو اس آگ سے متعلق کوئی اطلاع دی اور آگ اگلے چند دنوں میں بلوچستان میں داخل ہو کر ہر طرف تباہی پھیلانے لگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکمرانی سے محروم کرنے پر ملک پر ایٹم بم گرانے کی باتیں کرنے والوں پر عائد کردہ اس الزام کی تحقیقات ازحد ضروری ہیں، ساتھ ہی پشتون قوم کو بھی خود سے یہ سوال پوچھنا چاہئے کہ ان کے وسائل کو اس طرح بیدردی سے راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوتا دیکھ کر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے والوں کو پشتونوں کی فکر ہے نا ہی پشتون وطن کی، انہیں اگر فکر ہے تو صرف اپنے ذاتی مفادات کی، اقتدار کی، اور اس مقصد کے لئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ صرف پختونخوا یا بلوچستان ہی نہیں، خدانخواستہ پورا پاکستان بھی جل کر راکھ ہو جائے تو انہیں کوئی دکھ نہیں۔ میاں افتخار حسین کے مطابق ان جنگلات میں نایاب جانور زندہ جل کر مر گئے، تین افراد بھی شہید ہوئے، کئی ابھی تک لاپتہ ہیں، جنگلات، معدنی وسائل، قومی وسائل اور قومی حقوق کیلئے اسلام آباد تک احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے بھی اس امر پر زور دیا ہے کہ پشتونوں کے جنگلات ہزاروں سال پرانے ہیں جن کی حفاظت حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے، پختونخوا، بلوچستان اور مرکزی حکومت کی خاموشی سے ثابت ہو رہا ہے کہ پشتون خطے کا درد کوئی محسوس نہیں کر رہا۔ ایمل ولی خان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کوہ سلیمان میں لگی آگ نہ بجھانا غفلت نہیں ارادتاً پشتون خطے کے وسائل کا ضیاع ہے، اب بھی وقت ہے کہ اگر آپ کے پاس وسائل نہیں تو بین الاقوامی برادری سے اپیل کریں، آگ ابھی تک لگی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو سال سے پختونخوا کے مختلف جنگلات میں بھی مسلسل آگ لگنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، اسی آگ میں جانور، قیمتی درخت اور نایاب پرندے جل رہے ہیں، ذمہ داری لینے والا کوئی نہیں، بلوچستان اور پختونخوا میں چلغوزے، دیار، صنوبر، بنج کے درخت کھربوں کے آمدن کے ذرائع ہیں، یہ درخت اور جنگلات لاکھوں لوگوں کے آمدن کا ذریعہ تھا جو ختم کر دیا گیا۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ جنگلات بنانے میں دہائیاں لگتی ہیں، ایسی غفلت کہیں بھی قابل برداشت نہیں، یہاں پر ایک ایسی ذہنیت موجود ہے جو پشتونوں کی سرزمین کو قبرستان بنانا چاہتی ہے، ایسے حالات میں ایمرجسنی لگائی جاتی ہے اور فوری اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔ صوبائی صدر اے این پی کا مزید کہنا تھا کہ پہلے روز اگر حکومتیں جاگ جاتیں، مختلف اداروں سے مدد مانگی جاتی تو کوہ سلیمان میں یہ تباہی نہ ہوتی، انہوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے اور غفلت کا مظاہرہ کرنیوالوں کو قرارواقعی سزا دی جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ملک عزیز کو درپیش خطرات کے پیش نظر غفلت و لاپرواہی کے مرتکب عناصر رحم کے قابل بالکل بھی نہیں، اور ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے ہی نپٹنا چاہئے۔