مولانا رومی کے زندگی بدل دینے والے چالیس اصول

مولانا رومی کے زندگی بدل دینے والے چالیس اصول

    تحریر: محمد ظاہر

دراصل چالیس کا عدد بنفسہ اپنے اندر ایک وسیع وعریض مفاہیم و مطالب کا پورا جہان رکھتا ہے، روحانی اور علامتی طور پر چالیس کا لفظ پختگی پر دلالت کرتا ہے۔ مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں نبوت بارگاہِ الہی سے عطا ہونا محض ایک اتفاق نہیں بلکہ قدرت کاملہ کے اصولوں کا ایک مظہرنامہ ہے۔ بعینہ کسی بھی معاملے، عادت یا چیز میں پختگی کے حوالے سے چالیس کا لفظ یا عدد ایک مکمل و واضح استعارہ قرار دیا جاتا ہے جس کی مثال صوفیا اور بزرگان دین کے چالیس روزہ چلے سے دی جا سکتی ہے جس کے اختتام پر کسی بھی روحانی عمل یا وظیفے کے اثرات کماحقہ پختگی سے ہونا ایک لازمے کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ اسی طرح نماز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی بے نمازی شخص متواتر چالیس روز پنج وقتہ نماز اداکرتا رہے تو اس کے بعد اس کی نماز پڑھنے کی عادت پختہ  ہو جائے گی۔  
 حسن اتفاق سے ایلف شفق نے محبت کے چالیس اصول نامی جو کتاب لکھی ہے، وہ بھی رومی اور شمس تبریز کے حوالے سے دراصل ایک ناول ہے جس میں چالیس اصول چالیس چراغوں کی طرح جگمگاتے ہیں۔ یہ اصول کون کون سے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں۔
پہلا اصول: آفتاب کی دلیل خود آفتاب ہی ہے اگر تجھ کو دلیل چاہیے تو اس کی طرف سے رخ نہ پھیر۔
دوسرا اصول: اگر تم چشم نمناک کے متمنی ہو تو آ بدیدہ ہو کر معافی مانگنے والے پر رحم کرو اور اگر تم رحم کے خواستگار ہو تو پہلے خود کمزوروں پر رحم کرو۔
تیسرا اصول: جناب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں تمیز کرنے کے بارے میں فرمایا ہے کہ آ دمی اپنی زبان کے بند رکھنے میں مخفی ہے۔
چوتھا اصول: ایسا شیر بن جانا آسان ہے جو صفوں کو درہم برہم کر دے، بہادر شیر وہ ہے جو اپنے نفس کو مغلوب کرے۔ 
جناب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا: اے علی! تم اللہ کے شیر ہو، بہادرہو، لیکن اپنی شیر مردی پر اعتماد نہ کرو بلکہ کسی کامل کی صحبت میں رہو تم اپنی عقل، معرفت اور کیفیت باطن سے قرب حاصل کرو نہ کہ ان لوگوں کی طرح محض اپنے کمال و اعمال پر بھروسہ رکھو۔ 
چھٹا اصول: تفرقہ روح حیوانی میں ہوتا ہے روح انسانی تو نفس واحد ہے۔ 
ساتواں اصول: صبر نے ایمان سے شرف پایا ہے چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ جس میں صبر نہیں تو اس میں ایمان بھی نہیں۔ جناب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس شخص کو خدا نے ایمان نہیں دیا جس کے اندر صبر نہ ہو۔ 
آٹھواں اصول: میں نے دنیائے جستجو میں کوئی اہلیت اچھے اخلاق سے بہتر نہیں دیکھی۔
نواں اصول: دوست کی مثال سونے کی ہے اور بلا گویا آگ ہے۔ خالص سونا آگ میں خوش ہوتا ہے کیونکہ وہیں اس کے جوہر کھلتے ہیں۔
دسواں اصول: جس شخص نے کوئی چیز تلاش کی، اسے مل گئی جب وہ کوشش کے ساتھ طلب میں لگ گیا۔ 
گیارہواں اصول: دل سوائے اِس دریائے نور کے اور کچھ نہیں بھلا اتنا تو سوچ کہ دل خداوند تعالی کا مطمح نظر ہو اور اس وقت اندھا بھی ہو۔ 
بارہواں اصول: بے منہ دھلا شخص حور کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا۔ آنحضرت پاک صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جسم کی پاکیزگی کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
تیرہواں اصول: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دین نصحیت یعنی خیرخواہی ہے، وہ نصحیت لغت میں خود غرضی کی ضد ہے۔
چودہواں اصول: خدائی ٹکسال کا بنا ہوا سکہ جو کبھی کھوٹا نہیں ہوتا ہمیشہ جاری رہنے والا ہے، وہ اعمال صالحہ کا سکہ جس سے اس دنیاوی سکے نے چمک پائی، درخشانی اور آب وتاب حاصل کی، وہ سکہ جس سے دل غنی ہو جائے، جو روشنی میں چاند پر غالب ہے۔
پندرہواں اصول: حق تعالی نے مجھے حکم دیا ہے کہ اے بادشاہ عادل خبردار! کسی فریق مقدمہ کا بیان دوسرے فریق کے بغیر مت سن جب تک دونوں فریق پیش نہ ہوں، حاکم کے آگے حق ظاہر نہیں ہو سکتا، مدعی اکیلا اگر سو فریادیں بھی کرے خبردار! مدعا علیہ کی پیشی کے بغیر اس کی بات نہ سن۔ 
سولہواں اصول: جب موت سے نفرت جاتی رہے تو وہ موت ہی نہیں صرف ظاہراً موت ہے ورنہ حقیقت میں نقل مکانی ہے۔
سترہواں اصول: میں تم کو امتحان کئے بغیر بھی جانتا تھا لیکن سنی ہوئی بات آنکھوں دیکھی کے برابر کب ہو سکتی ہے۔ اٹھارہواں اصول: جب احمق کا جواب خاموشی مناسب ہے تو پھر تم تقریر کو یہ طول کیوں دے رہے ہو۔ 
انیسواں اصول: اسی طرح دنیا اگرچہ خوب شگفتہ نظر آتی ہے مگر باآ واز بلند اپنا عیب سب سے کہہ رہی ہے، اے استاد ہونے کے مدعی! اس بننے بگڑنے والے عالم میں بننا فریب ہے اور بگڑنا نصحیت ہے۔
بیسواں اصول: عقل دو طرح کی ہے، کسبی جس کو تم اس طرح حاصل کرتے ہو جس طرح بچہ مدرسے میں کتاب کے مطالعہ، استاد کی تعلیم اور خود اپنے غور وفکر سے علوم معانی اور دیگر علوم سیکھتا ہے، دوسری قسم کی عقل حق تعالی کا انعام ہے جس کا سرچشمہ روح کے اندر ہے۔ 
اکیسواں اصول: اے عزیز! خدا کی رحمت سے جنت کے آ ٹھ دروازے ہیں جن میں سے ایک توبہ کا دروازہ ہے۔
بائیسواں اصول: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سینوں میں نور کی یہ نشانی بیان فرمائی ہے کہ جس کے سینے میں نور معرفت ہوتا ہے وہ اس دنیا سے نفرت کرتا ہے اور عاقبت کی طرف رغبت رکھتا ہے۔ 
تئیسواں اصول: کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے، جو امتوں کے چراغ ہیں، نہیں فرمایا تھا کہ دنیا اور آخرت دونوں آپس میں سوکنیں ہیں۔
چوبیسواں اصول: زندگی میں تمہارے تین رفیق ہیں، ایک وفادار ہے اور دو بہانہ ساز۔ دو بہانہ سازوں میں سے ایک وہ یار دوست ہیں جو زندگی میں ساتھی تھے اور دوسرا مال و اسباب اور تیسرا رفیق وفادار ہے اور وہ ہے اعمال حسنہ۔
پچیسواں اصول: مال سانپ کی مانند ہے اور دنیاوی ٹھاٹھ باٹھ اژدہا کی طرح ہے، مردانِ حق کا سایہ ان دونوں کے لئے بمنزلہ زمرد کے ہے۔
چھبیسواں اصول: اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی یوں تشریح فرمائی ہے کہ جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے اللہ تعالی کو پہچان لیا۔
ستائیسواں اصول: جلد بازی شیطان کا مکر ہے صبر اور احتساب رحمان کی مہربانی ہے۔
اٹھائیسواں اصول: اپنے آپ کو عشق ونظر کی تعلیم دو جو یوں اثر انگیز ہو گی جیسے پتھر پر لکیر،
 انتیسواں اصول: شیطان گویا بھیڑیا ہے اور تو مثل یوسف ہے، اے برگزیدہ! یعقوب علیہ السلام کے سے محب کا دامن نہ چھوڑ بھیڑیا اکثر اس وقت بکری کو پکڑتا ہے جب بکری ریوڑ سے الگ ہو کر چلتی ہے۔
تیسواں اصول: ماہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ میرے اصحاب ستارے ہیں راہرو کے لیے قابل تقلید ہیں اور سرکش کو مار بھگانے کے لیے چوٹ ہیں۔
اکتیسواں اصول: جاہل اگر تم سے ہمدلی کا اظہار بھی کرے انجام کار جہالت کی وجہ سے تم کو نقصان اور صدمہ پہنچائے گا۔ بتیسواں اصول: اے شیخ الاسلام! جو بات آپ اپنے لیے پسند نہیں کرتے اس کو اپنے دینی بھائی کے لیے کیوں پسند کرتے ہو؟ تینتیسواں اصول: ہر ولی کو نوح اور کشتی بان اور اس کی صحبت کو کشتی سمجھو اور اس مخلوق کی صحبت کو طوفان جانو۔ 
.چونتیسواں اصول: جبھی تو رسول اللہ نے، جو کامیابی کے بادشاہ ہیں، یہ فرمایا ہے کہ اے اہلِ نعمت! سخاوت کرنا نفع حاصل کرنا ہے۔ 
پینتیسواں اصول: بلاشبہ ہر زبان دل کا پردہ ہی ہے چنانچہ جب وہ پردہ تکلم کے لیے حرکت کرتا ہے تو چہرہ نظر آ جاتا ہے۔ چھتیسواں اصول: تمہارا کہنا صحیح ہے لیکن اے سیب کی سی خوشبو والے عاقل، ڈرواس شخص کی برائی سے جس کے ساتھ تم نے احسان کیا ہے۔
سینتیسواں اصول: تم نماز کے انڈے سے (عبرت کا) بچہ پیدا کرو ایک بے تعظیم و بے ادب مرغ کی طرح ٹھونگیں نہ مارو۔ 
اڑتیسواں اصول: بشارت ہے اس شخص کو جو موت سے پہلے مر گیا یعنی اس کو اس باغ کی اصل کا سراغ مل گیا۔
انتالیسواں اصول: اگر تم اس طرح مومن بن جاؤ جو اللہ کے نور سے دیکھتا ہے تو پھر تم خطا اور سہو سے باہر نکل جا۔
 چالیسواں اصول: جس شخص نے محنت کی سختی برداشت کی اس نے خزانہ پا لیا، جس کسی نے کوشش کی وہ بزرگی پا گیا۔