ٹرانس جینڈر قانون کے بانی

ٹرانس جینڈر قانون کے بانی

کریم خان
اِس وقت ہمارا ملک ہر طرح کے مصائب میں گرا ہوا ہے جن میں قدرتی آفات، ہماری اجتماعی غلطیاں، ہمارے سیاستدانوں کی چھینا چھانی، ہمارے اداروں کی کمزوریوں کے علاوہ بیرونِ ممالک کے قرضوں کے ناقابلِ برداشت بوجھ نے ہمیں دنیا میں رسوا کر رکھا ہے۔ اب حالیہ بارشوں کی وجہ سے سیلابوں نے تو اس ملک کی کمر ہی توڑ دی ہے۔ عوام بیچاری کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر، ہر طرف بیماریاں  پھیلتی ہی جا رہی ہیں۔ ادویات ناپید، بھوک افلاس ہر طرف پھیلا ہوا۔ مہنگائی ہے، جو کسی طور قابو میں نہیں آ رہی۔ مہنگائی کا بوجھ روز بہ روز عوام کے لیے ناقابلِ برداشت بنتا جا رہا ہے۔ ایسے میں چاہیے تھا کہ ہمارے سیاسی قائدین، ہمارے اکابرین سر جوڑ کے بیٹھتے اور ان حالات سے باہر نکلنے کے لیے کوئی حل نکالتے۔ اِس ملک اور اِس ملک کے عوام کے لیے کچھ سہولیات دینے کے طور طریقے ڈھونڈتے، لیکن عوام کی کس کو پڑی ہے۔ جو اقتدار میں ہیں، وہ چپکے رہنے کے لیے کوشاں ہیں اور جو اقتدار سے باہر ہیں، وہ ہر اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح اقتدار کے مسند پہ پہنچا جائے۔ عوام مرتی ہے تو مرے۔ موجودہ گٹھ جوڑ  حکومت آئی تھی، مہنگائی کو قابو کر کے کم کرنے کو، ملک میں پھیلتی ہوئی بے حیائی کو کنٹرول کرنے کو اور ملک میں اسلامی روایات کی پاسداری قائم دائم رکھنے کو، کیونکہ اس گٹھ جوڑ میں جمعیت علما اسلام اور دیگر مذہبی سیاسی پارٹیاں بھی شامل تھیں اِس لیے اِن سے توقع رکھنا عوام کا حق بنتا تھا۔ لیکن اِن کے ہوتے ہوئے بھی   کچھ خاص واضع  قانون بنتے نظر نہیں آ رہے ہیں، ہر روز مذہبی لحاظ سے بھی کوئی نہ کوئی مسئلہ سر اٹھائے کھڑا ہوتا ہے۔


ہم اپنی لوکل زبان میں کہتے ہیں کہ کٹا کھلا ۔ اِس بار اور اِن حالات میں ایک ایسا کٹا کھلا کہ جس نے پوری قوم کو ہیجان میں متبلا کر دیا، کیونکہ کٹا جو کھلا ہے، اسے پیدا کرنے والے کل کے حزبِ اقتدار و حزبِ اختلاف اور آج کے حزبِ اقتدار و حزبِ اختلاف تھے۔ اِس کٹے کا نام ہے ٹرانس جینڈر۔ حالانکہ اس کٹے کی رسی21  اگست2017  کو روبینہ خالد (پی پی پی)،  روبینہ عرفان (پی ایم ایل ق)، سمینہ عابد (پی ٹی ئی) اور کلثوم پروین (پی ایم ایل ن) نے پہلی بار  مل کر کھولا تھا۔ یہ بل8  مئی 2018 کو قومی اسمبلی میں پیش ہوتا ہے۔ اس وقت مسلم لیگ نواز کا یہ آخری دور تھا۔ نواز شریف صاحب وزارتِ عظمی سے اتارے جا چکے تھے اور سید خاقان عباسی وزیرِ اعظم کی حیثیت سے آخری ایام گزار رہے تھے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر ان دنوں جناب ایاز صادق صاحب تھے۔ جب یہ بل قومی اسمبلی میں ان چاروں پارٹیوں کی چار محترماؤں نے پیش کیا تو اس وقت اسمبلی میں جمعیتِ علما اسلام  کی واحد ممبر محترمہ نعیمہ کشور صاحبہ موجود تھیں، ا نہوں نے کھڑے ہو کے اس بل کی مخالفت کی اور اس بل کو کمیٹی میں بھیجنے کی استدعا کی لیکن اسپیکر نے  پراسس جاری رکھا اور ان چاروں پارٹیوں کے اتحاد سے 2018 میں یہ ٹرانس جینڈر بل قومی اسمبلی سے منظور ہوا۔ یہ بل عمران خان کے دورِ حکومت میں نافذ رہا اور اِس بل سے 30 ہزار لوگوں نے فائدہ اٹھا کر اب تک جینڈر کو چینج کیا ہے۔15  نومبر2021  کو جماعت اسلامی کے سینیٹر جناب مشتاق احمد صاحب نے اس بل میں6  ترامیمی ایکٹ جمع کیے لیکن پی ٹی آئی کی وزیر برائے انسانی حقوق شیری مزاری نے ترامیمی بل کی مخالفت کی۔ تب اسی دن سینیٹ کے چیئرمین جناب صادق سنجرانی نے یہ بل کمیٹی کو بھیج دیا۔15  نومبر2021  کو عمران خان کی حکومت میں کمیٹی کو بھیجے گئے بل پہ (پی ڈی ایم) کے دورِ حکومت میں نو ماہ بعد پہلی بار اس بل پر (قائمہ کمیٹی سینٹ برائے انسانی حقوق) میں اجلاس ہوا جس میں سینیٹر مشتاق احمد نے دلائل پیش کیے جس کی تائید کی گئی اور کمیٹی  نے اپنی طرف سے بھی کچھ اعتراضات جوڑے۔ عوام میں یہ خبر تب عام ہوئی جب سینٹ میں مشتاق احمد صاحب نے اس پہ بحث کی۔ علما بھی شاید یہی چاہتے ہیں کہ عوام میں یہ خبر پھیلے اور مخالفت میں ملک کے کونے کونے سے احتجاج کی آوازیں اٹھنے لگیں۔ اب مشتاق احمد صاحب کے ترامیمی بل پر سینٹ میں  ممکن ہے کہ آخری اجلاس اکتوبر2022  کو ہو۔ اِس بل پر مذہبی جماعتوں کے ممبران نے قراداد بھی جمع کی ہے جن میں مولانا عطا  الرحمان (جے یو آئی) پنجاب اسمبلی سے معاویہ  اعظم طارق صاحب، سندھ اسمبلی سے جناب مفتی محمد قاسم (تحریک لبیک) اور جمعیت علما اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان صاحب نے بھی اس ٹرانس جینڈر کے متبادل بل تیار کر رکھا ہے۔ اب اس بل  کا اصل متن کیا ہے؟ اِس کا اصل مقصد کیا ہے، ابھی تک ایک عام پاکستانی نہیں سمجھ پایا۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ ان لوگوں کے تحفظ کے لیے ہے جو پیدائشی طور پر  مکمل مرد یا عورت نہیں ہوتے۔ انہیں یہ اختیار دیا جائے گا کہ شناختی کارڈ میں اپنی جو مرضی ہے جنس  لکھے۔ یعنی اگر کوئی اپنے آپ کو مرد یا عورت  لکھوانا چاہتا ہے تو اس پہ کو ئی قید و بند نہیں۔ لیکن کچھ لوگ کہہ رہ ہیں در اصل اِس آڑ میں کچھ اور ہی مقاصد ہیں، یقیناً کچھ تو غلط ہے ورنہ جماعت اسلامی کے جناب مشتاق احمد صاحب یونہی تو مخالفت نہیں کر رہے ہیں اور ملک کے دیگر علما یونہی تو ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔ اگر حکومت اِس بل کی بابت نظریہ اسلامی کی رو سے مخلص ہے تو تمام علما کو ایک میز پر بٹھاتی کیوں نہیں؟ ٹی وی چینلز پر عام  عوام کے سامنے علما کو  پیش کر کے اِس ابہام کو دور کیوں نہیں کرتی؟ اِس ملک کے عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والے شکوک وشبہات کو دور کیوں نہیں کرتی؟ عجلت میں یہ بل قومی اسمبلی سے کیسے اور کیوں پاس کروایا گیا؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جو پی ٹی آئی، ن لیگ، ق لیگ اور پی پی پی  ایک دوسرے کو دیکھنا بھی نہیں پسند کرتی تھی یا کرتی ہیں، چاروں اس بل کو پاس کروانے میں کس کے ایماء پہ فوراً بااتفاق ہوئیں؟  اور فوراً یہ بل قومی اسمبلی سے پاس کروایا گیا اور عمران خان کے دورِ حکومت میں  اس بل کے نافذ ہونے کی وجہ سے جو لوگ پی پی پی، ن لیگ، جمعیت علما  اسلام کے ہوتے ہوئے اپنی جنس تبدیل کراتے رہے ہیں تب یہ تمام خاموش کیوں تھے؟ اب جب جماعت اسلامی کے سینیٹر کی طرف سے آواز مضبوط ہوتی جا رہی ہے تب ان دیگر سیاسی اور مذہبی سیاسی پارٹیوں کی دوڑیں کیوں لگ گئیں؟ اب ہر ایک دوسرے پہ اس بل کو کیوں تھوپ رہا ہے؟  کہیں نہ کہیں آگ تو ہے ورنہ دھواں یونہی تو نہیں اٹھتا۔