امریکی کیمپوں میں50ہزار افغان پناہ گزینوں کا مستقبل داؤپر

امریکی کیمپوں میں50ہزار افغان پناہ گزینوں کا مستقبل داؤپر

واشنگٹن(این این آئی)امریکی عہدیداروں نے کہا ہے کہ امریکا کے کابل سے انخلا کے بعد وہاں سے نکلنے والے افغان پناہ گزینوں کی پہلی لہر کی دوبارہ آباد کاری میں توقعات سے زیادہ مہینے لگ سکتے ہیں۔ نئے سال تک دوبارہ آبادکاری کے عمل کو مکمل کرنے پر غور کیا گیا مگر اس پر کوئی فیصلہ کرنا فی الحال ممکن نہیں۔

 

میڈیارپورٹس کے مطابق خسرہ کی وبا کے خطرے اور رہائشی کی سہولیات کا نہ ہونا ان افغان پناہ گزینوں کی دوبارہ آباد کاری میں ایک ربڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔50 ہزار سے زائد افغان مہاجرین عارضی طور پر امریکا کے اندر 8 فوجی اڈوں میں موجود ہیں۔ وہ مستقل گھروں میں دوبارہ آباد ہونے کے منتظر ہیں۔ اب تک صرف 6 ہزار مہاجرین کے لییگھروں کا انتظام کیا جا سکا ہے۔

 

رواں ماہ انخلا کی کارروائیوں کی ضرورت اگلے مارچ تک یا اس سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ دوبارہ آباد کاری میں غیر متوقع سست روی کا مطلب یہ ہے کہ مہاجرین مہنگے کیمپوں میں مہینوں تک سامان کی کمی کا شکار رہیں گے۔

 

امریکی اخبارنے کچھ افغان پناہ گزین کمیونٹیز میں گھریلو تشدد کے واقعات کے ابھرنے پر توجہ دلائی۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی جو ری سیٹلمنٹ پروگرام کی نگرانی کرتا ہے کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا کہ محکمے نے اپنے اہلکاروں کو ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کیمپوں میں بھیجا ہ

 

ے۔اخبار کا کہنا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے آبادکاری کے پروگرام کے لیے ٹائم ٹیبل کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن پہلی لہر کو آگے بڑھانے میں تاخیر کے بڑے اثرات مرتب ہوں گے۔امریکی اخبار کے مطابق جو افغانی قانونی طور پرامریکا آئے ہیں ان کو مہاجرین کے طور پرنہیں رکھا جائے گا کیونکہ وہ قانون کے تحت امریکا آئے ہیں اور ان کے پاس مکمل دستاویزات ہیں۔

 

روایتی مہاجرین کے برعکس جو باقاعدہ حکومتی پروگراموں کے ذریعے پناہ کی درخواست دیتے ہیں افغان مہاجرین کو تارکین وطن کی ضمانت نہیں ملے گی جب تک کہ کانگریس انہیں گرین کارڈ دینے کے لیے وائٹ ہاس کے بل کی منظوری نہیں دے دیتی۔آبادکاری ایجنسیوں نے امریکی محکمہ خارجہ کے ساتھ معاہدہ کیا تاکہ افغانوں کی مدد کی جائے مگر فوجی اڈوں سے باہر مکانات تلاش ایک بڑا چیلنج ہے۔ گھروں کی قلت ، بھاری بھرکم کرائے، اس کے علاوہ رئیل اسٹیٹ مالکان کی تلاش میں مشکلات کے علاوہ پناہ گزینوں کی بے روزگاری اور گذراوقات کے لیے کریڈٹ رقوم کی عدم موجودگی بڑے مسائل ہیں۔