جنرل یحییٰ خان کا مارشل لاء (تیرہواں حصہ)

جنرل یحییٰ خان کا مارشل لاء (تیرہواں حصہ)

مترجم: نورالامین یوسفزئی

بہرحال آمدم برسر مطلب، طویل بحث مباحثے اور جرگوں کے بعد یحییٰ خان نے ملک میں عام انتخابات کا اعلان کر دیا، اُس کیلئے قانونی راستوں کا تعین بھی کر دیا گیا جس میں کچھ قدغن بھی لگا دیئے گئے۔ یُوں 31 مارچ 1970ء کو اعلان کیا گیا کہ اکتوبر میں عام انتخابات کرائے جائیں گے۔ یہ انتخابات صوبوں اور مرکز دونوں میں ہوں گے اور ہر بالغ باشندہ (مرد، عورت) کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہو گا۔ جب قومی اسمبلی منتخب ہو گی تو وہ اسمبلی ایک سو بیس دن کے اندر اندر ملک کو نیا آئین دے گی اور اگر اُس اسمبلی نے مذکورہ دنوں میں ملک کو آئین نہیں دیا تو ناکامی کی صورت میں اسمبلی ٹوٹ جائے گی۔ یہ جو ایک سو بیس دنوں کی پابندی لگا دی گئی یہ ایک طرح سے ایک اچھی بات تھی کیونکہ مسئلہ بھی ایک تھا اور وہ تھا صوبوں اور مرکز میں اختیارات کی تقسیم کا مسئلہ، تو اس ایک مسئلے کیلئے تو اتنا زیادہ وقت نہیں چاہیے تھا۔ نیت صاف ہو تو مسئلہ تو چُٹکی بجا کر حل کیا جا سکتا ہے مگر یہ یاد رہے کہ آئین سازی کے حوالے سے ملک کا سابقہ ریکارڈ کچھ اتنا اچھا نہیں تھا۔ مثال کے طور پر وہ ایک آئین ساز اسمبلی جو غلامی کے دور میں بنی تھی، جس کے اراکین میں جناح صاحب اور لیاقت علی خان بھی شامل تھے، وہ بھی غلام محمد نے توڑ ڈالی، پھر اس کے بعد دوسری اسمبلی آئی تو ان دونوں نے 1947ء سے لے کر 1956ء تک نو سال کے طویل عرصے میں آئین پاس کیا۔ شیخ مجیب کے چھ نکات پر اس اعتراض کے حوالے سے کہ یہ تو حقیقت میں آزادی کا اعلان ہے (L.F.O) میں یہ بات واضح کی گئی تھی کہ وحدت پاکستان کو کسی بھی صورت میں کسی بھی قیمت پر نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ اب ان 120 دنوں کی پابندی نے اس گروہ کے کندھوں پر بھی ذمہ داری کا بہت بڑا بوجھ ڈال دیا جنہیں کل اسمبلی کے اراکین کے طور پر منتخب ہو کر اسمبلی میں آنا تھا اور دوسرا یہ کہ اس عمل سے یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آ گئی کہ جنرل یحییٰ خان دل سے چاہتا ہے کہ اقتدار قوم کے حوالے کر دے یعنی وہ جلد از جلد یہ کام سرانجام دینا چاہتے ہیں۔ یوں سیاسی عمل سے پابندی ہٹا دی گئی، جلسے جلوس آزاد ہو گئے، ملک کی سیاسی قوتوں کو مکمل آزادی دی گئی کہ وہ قوم کے سامنے اپنا اپنا نقطہ نظر رکھ دیں اور یہ کہ وہ نہ صرف قومی امراض کی تشخیص کریں بلکہ مناسب علاج بھی تجویز کریں۔ اس طرح ایک طرف ملک میں پہلی بار عوام کو ووٹ کا حق دیا گیا تو دوسری طرف یہ اُمید بھی پیدا ہو گئی کہ اب تئیس سال بعد یہ بدقسمت ملک دستور کا منہ بھی دیکھ سکے گا اور وہ دستور اس کے اپنے لوگ بنائیں گے۔ فضاء بدل گئی اور ملک میں پہلی بار عوام نے کُھلی فضا میں سُکھ کا سانس لے لیا۔
قومی انتخابات کی تیاری
میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ اس انتخاب کی سب سے بڑی خوبی اور انفرادیت یہ تھی کہ برسر اقتدارگروہ انتخاب میں حصہ لینے کا خواہش مند نہیں تھا، یہی وجہ تھی کہ لوگ اس بات پر مطمئن تھے کہ اس دفعہ ملک میں غیرجانبدارانہ اور منصفانہ انتخاب ہو گا مگر جو گند گزشتہ 23 سال میں جمع ہو گیا تھا، جس میں مسلم لیگ اور ری پبلکن کی تاریخی بے ایمانیوں سے لے کر فیلڈ مارشل کی بنیادی جمہوریت کی سیاہ کاریاں شامل تھیں اور ملک میں انتخاب ایک بے اعتبارکاروبار بن چکا تھا، جس میں رشوت اور دولت کی ریل پیل کے ساتھ برادرازم، اقربہ پروری اور فرقہ واریت نے اپنے اپنے حصہ کا کردار ادا کیا تھا، اب اگرچہ ووٹ مخصوص ہاتھوں سے نکل کر عوام کے پاس آ گیا تھا مگر پھر بھی جن لوگوں نے ایوبی آمریت میں روپیہ، پیسہ اور جاہ و جلال کے بل بوتے پر الیکشن لڑا تھا وہ اب بھی وہی نفسیات لے کر میدان میں اُترے تھے کیونکہ اُن لوگوں کے ذہن سیاسی نہیں تھے نہ ہی اُن کے دل میں قوم و ملک کا درد موجود تھا اُن کی نظر میں تو سیاست ایک کاروبار تھا جس میں کم پیسہ لگا کر اختیار کے ساتھ زیادہ پیسہ کمایا جا سکتا ہے۔ ایوب خان نے اگرچہ ملک میں صنعت کی بنیادیں رکھ دیں، کارخانے بنائے مگر اس عمل میں بنیادی خرابی یہ تھی کہ ملک کا سارا دولت چند خاندانوں تک محدود ہو کر رہ گیا تھا جن میں فیلڈ مارشل کا اپنا خاندان، عزیز و اقارب اور دوست و احباب سرفہرست تھے خاص طور پر ان کے بیٹے بھی اس میں شامل تھے۔ اب جبکہ ملک کے مستقبل کا فیصلہ ہونے جا رہا تھا اور ایک ممکنہ عوامی حکومت بننے کا امکان پیدا ہو رہا تھا تو ان سب کو یہ فکر لاحق تھی کہ اُس صورت میں ان لوگوں نے جو لوٹ مار کی ہے اور غلط طریقوں سے جو مال بنایا ہے عوام کی نمائندہ سرکار تو ان کے ساتھ پیسے پیسے کاحساب کرے گی تو یہ جو ایک نیکی اُس نے (فیلڈ مارشل نے) قوم کے ساتھ کی تھی وہ نیکی بھی اس وقت ایک شکل میں سیاسی عمل اور جمہوریت کی بحالی میں ایک رکاوٹ بن کر سامنے آ گئی۔ دوسری بڑی وجہ، خاص جو کہ فیلڈ مارشل کی سرکار نے پیدا کی تھی وہ یہ تھی کہ فوج کو حکمرانی کا چسکہ لگ گیا تھا اور حکمرانی کے ثمرات سے وہ کئی سالوں سے بہرہ مند ہوتی رہی تھی، ملک کے سرمایہ دار بھی اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ ملک اور قوم کی دولت کو لُوٹنا ہو تو فوجی جرنیلوں کو اپنے ساتھ ملانا ہو گا، اب موجودہ صورتحال میں ان لوگوں نے یہ کوشش شروع کی کہ اپنے دوستوں اور ہم خیالوں کو کسی نہ کسی طریقے سے اسمبلی بھیجا جائے تاکہ کل کو وہ لوگ اُن کے مفادات کا تحفظ کر سکیں۔ اب چونکہ یحییٰ خان نے فیصلہ کر لیا تھا کہ فوج کو مزید اقتدار کا حصہ نہیں رہنے دیا جائے گا اور ملک پر حکمرانی کا حق قوم کے منتخب نمائندوں کو دیا جائے گا تو فوجی جرنیل بھی پینترا بدلنے پر مجبور ہو گئے۔ فوج کے حوالے سے ایک اور بات بھی قابل توجہ اور قابل غور ہے کہ جنرل ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان میں ایک بنیادی فرق تھا، جنرل ایوب اقتدار تک ایک سازش کے ذریعے پہنچے تھے جس میں اُن کے ساتھ سکندر مرزا ملے ہوئے تھے اور اُس عمل میں دیگر فوجی افسروں کا کسی قسم کا کردار نہیں تھا یہی وجہ تھی کہ جونہی جنرل ایوب خان نے اختیار حاصل کر لیا اور اُس نے اپنے ''پنڈی وال'' سکندر مرزا کو رُخصت کیا تو پھر سارا میدان اُس کے اپنے ہاتھ میں آ گیا اور یہ سارے ملک کا واحد مالک بن گیا یُوں وہ کئی سال تک بلاشرکت غیرے حکمرانی کے مزے لُوٹتا رہا مگر یحییٰ خان کا قصہ قدرے مختلف تھا۔ فیلڈ مارشل کی حکومت جب بھی کمزور پڑتی تھی تو جرنیل اُس کو کاندھا دے کر اُٹھا لیتے تھے مگر جب یحییٰ خان کے (کمانڈر انچیف) اور سپہ سالار ہونے کا اعلان وہ (فیلڈ مارشل) کر رہا تھا تو بھی وہ تمام جرنیل موجود تھے اور پھر جب اُس نے (فیلڈ مارشل) نے حکومت اُس کے حوالے کی تو اس وقت اُس کو وہ مکمل اختیار حاصل نہیں تھا جو اُس کو (بطور فیلڈ مارشل) کبھی حاصل رہا تھا اسی لئے اُس نے اپنے ساتھ دوسرے جرنیل ملا لئے تھے جو کہ اُس کے مشران اور کابینہ کے ارکان تھے تو یہ (جنرل یحییٰ خان) ایوب خان کے مقابلے میں ایک کمزور اور ناتواں مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھا، مختارِ کل نہیں تھا۔ سارے فیصلے باہم رضامندی سے مشترکہ طور پر کئے جاتے تھے۔ خود یحییٰ خان بھی اقتدار کے شوقین نہیں لگ رہے تھے یہی وجہ تھی کہ وہ صدارتی منصب قبول کرنے سے یہ کہہ کر انکار کرنے لگے کہ نہیں میں ایک مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اقتدار جمہوری حکومت کے حوالے کروں گا مگر وزارت خارجہ کے اہلکاروں نے اُس کو بتا دیا کہ خارجی ممالک کے سفیر اپنے تقرری کے کاغذات ملک کے صدر کو پیش کرتے ہیں تو پھر اُس نے باامر مجبوری صدارتی منصب قبول کیا۔ چونکہ تمام جرنیل اس عمل کا حصہ تھے اس لئے وہ بھی اپنے لئے مستقبل کے حوالے سے منصوبہ بندی کر رہے تھے، اُن کی مجبوری یہ تھی کہ وہ براہ راست سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے تھے کیونکہ جنرل یحییٰ خان کی سرکار نے یہ پابندی لگائی تھی کہ سرکاری اہلکار ریٹائرمنٹ کے دو سال بعد کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کا اہل ہو گا، اس وقت تک وہ کسی بھی سیاسی پارٹی میں بھی شامل نہیں ہو سکتا۔ یوُں اگر کوئی جرنیل سیاست کا شوقین بھی تھا مگر اُس کا یہ راستہ جنرل یحییٰ خان بند کر رہا تھا۔ اگر یہ پابندی نہ ہوتی تو شاید بہت سارے فوجی افسر اپنی نوکری چھوڑ کر سیاست کی راہ اپنا لیتے کیونکہ مسئلہ سُود اور زیان کا ہوتا ہے اور اس میں اُن کو زیادہ فائدہ نظر آ رہا تھا۔براہ راست ممانعت کے بعد اُن جرنیلوں نے (جوکہ جنرل یحییٰ خان کی کابینہ کا حصہ تھے) سیاسی پارٹیوں کے اکابرین سے اپنے تعلقات بڑھائے، ہر کوئی یہ جانتا تھا کہ اس وقت جنرل یحییٰ خان کے وزیر اطلاعات جنرل شیر علی خان کُھل کر مودودی صاحب کے ساتھ کھڑے تھے اور جماعت اسلامی کیلئے باقاعدہ کام کر رہے تھے۔ دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل آئی ایم پیرزادہ کی دوستی بھی کسی سے ڈھکی چُھپی نہ تھی کیونکہ ان دونوں کو فیلڈ مارشل صاحب نے اپنی کابینہ سے نکالا تھا۔ جنرل پیرزادہ کو 1964ء اور بھٹو صاحب کو 1966ء میں برطرف کیا گیا تھا۔ یُوں فیلڈ مارشل کی دشمنی نے اُن دنوں کو پکا دوست بنا دیا تھا۔ اور آج جبکہ جنرل پیرزادہ، جنرل یحییٰ خان کا سب سے زیادہ بااعتماد اور بڑا مشیر تھا اور اُس کا عہدہ ایک Principal staff officer کے برابر تھا جو کہ در حقیقت وزیر اعظم تھا، جنرل صاحب نے اُس کو اتنا بااختیار بنا دیا تھا کہ کوئی بھی شخص یحییٰ خان سے اُس کی اجازت کے بغیر نہیں مل سکتا تھا۔ یحییٰ خان تک رسائی کا واحد ذریعہ اور سیڑھی جنرل پیرزادہ تھے۔ مسٹر بھٹو نے تو نو سال فیلڈ مارشل سرکار میں گزارے تھے اور اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ سارا اختیار فوجی افسروں کے پاس ہے۔ اس نے بھی اپنے لئے ایک لابی بنائی تھی۔ جنرل گل حسن اور ائیر مارشل رحیم تو اس کے ساتھ کُھل کر کھڑے تھے، ادھر قیوم خان بھی کسی سے کم نہیں تھے بلکہ وہ تو جوڑ توڑ اور لین دین کے ماسٹر مائنڈ تھے، وہ بھی جنرل عمر سے جڑے ہوئے تھے۔ اس سلسلے میں مزید تفصیل کی چنداں ضرورت نہیں ہے مگر اتنا جاننا ضروری ہے کہ مذکورہ تمام جرنیل مغربی پاکستان کے سیاستدانوں سے ملے ہوئے تھے، اُن کے ساتھ ساز باز کر رہے تھے اور مشرقی پاکستان کے لوگوں کے ساتھ اگر کسی کا رابطہ تھا تو وہ یا وہاں کے گورنر ایڈمیرل احسن تھے یا پھر زونل مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل یعقوب علی خان تھے جبکہ پاکستان کا اصل حاکم (امریکہ) بھی اپنے پورے زور و شور کے ساتھ میدان میں موجود تھا۔ وہ بھی اپنے مطلب کی تاریں کھینچ رہا تھا اور اُس کا بھی بنیادی مقصد یہ تھا کہ ملک میں ایسے لوگ برسراقتدار نہ آ سکیں جس سے اُن کے مفادات کو خطرہ تھا چنانچہ یہ سارا کھیل ہماری نظروں کے سامنے کھیلا جا رہا تھا۔