جنرل یحییٰ خان کا مارشل لاء (چودہواں حصہ)

جنرل یحییٰ خان کا مارشل لاء (چودہواں حصہ)

مترجم: نورالامین یوسفزئی

جوں جوں انتخابات کا وقت قریب آ رہا تھا توں توں بات اور بھی واضح ہوتی جا رہی تھی، اب تو فوج کے ساتھ ساتھ وہ ملحقہ ادارے بھی میدان میں کود پڑے تھے جو کہ اس حوالے سے اہم تھے، جیسے کہ سول انٹیلی جنس (Civil Intelligence)، اس ادارے کے ڈائریکٹر رضوی صاحب برملا قیوم خان کیلئے لابنگ کر رہے تھے اور خاص طور پر ہمارے صوبے میں قوم کے اکابرین سے ملاقاتیں کر رہے تھے، والی سوات تک گئے تھے اور ہر کسی سے یہ کہہ رہے تھے کہ خان قیوم کے ہاتھ مضبوط کیجئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ نیشنل عوامی پارٹی یہ انتخاب جیت لے۔ جنرل عمر ملک کے سرمایہ داروں اور تاجروں سے پیسہ جمع کر کے اپنے من پسند سیاسی لیڈروں کو دے رہے تھے تاکہ کل کو یہ لوگ اُس کے کہنے پر عمل پیرا ہو سکیں۔ اُس وقت تو مکمل پتہ نہیں چل سکا مگر بعد میں سب کچھ سامنے آ گیا، اُن تمام رقوم کا بھی پتہ چل گیا جو ان لوگوں نے قیوم خان، بھٹو اور جمعیت کے مفتی صاحب کو دی تھیں۔ ہم جب اس عمل کا تجزیہ کر رہے تھے تو یہ بات تو سچ تھی کہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ تھے مگر غیرجانبدارانہ قطعاً نہ تھے۔ حکومت نے بھی اس ریس میں اپنے گھوڑے چھوڑ رکھے تھے۔ یحییٰ خان کی حکومت نے انتخابات کے دوران ملک کے تمام سیاسی پارٹیوں کو دعوت دی کہ وہ اپنے اپنے قائدین بھیج دیں تاکہ وہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعے قوم کے سامنے اپنا اپنا منشور پیش کریں۔ یہ کام بھی ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوا ورنہ تو اس سے پہلے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر حکومت مخالف سیاست دانوں کا نام لینا بھی ممنوع تھا۔ The Elections may have been free and fair but they were not Impartial یہ تمام حالات اور حقائق یحییٰ خان کے قریبی آئینی مشیر اور رُکن کابینہ G.W Chowdhary (جی ڈبلیو چودھری) نے اپنی کتاب میں تفصیل کے ساتھ بیان کئے ہیں۔ کتاب کا نام ہے: The Last Days of United Pakistan۔ دراصل اُس وقت حکومت کا اندازہ یہ تھا کہ شیخ مجیب بنگال میں اکثریت حاصل کر سکے گا مگر یہ اکثریت قطعی نہیں ہو گی تو اب ادھر اُس کی یہ کوشش تھی کہ اس طرف یہ کوشش کی جائے کہ اُن قوتوں کا ساتھ دیا جائے جو شیخ مجیب کا راستہ روک سکیں۔ اور سرکار میں ایسا گروہ برسراقتدار نہ آ سکے جو بعد میں مشکلات پیدا کر سکے، اگر کوئی بھی پارٹی واضح اکثریت سے پارلیمنٹ میں نہ آ سکے تو ایک کمزور حکومت فوج کے سامنے محتاج اور کمزور ہو گی۔
انتخابات کا التواء اور انتخابی مہم
مشرقی بنگال کی ایک بڑی اور مستقل بدقسمتی یہ ہے کہ جب بھی مون سون کی بارشیں شروع ہو جاتی ہیں تو بارش اگر کوہ ہمالیہ پر برستی ہے تو دریائے گنگا اور دریائے برہم پترا اُس سیلابی پانی کو اُٹھا کر بنگال کے میدانوں میں لے آتے ہیں۔ اور سیلاب بھی ایسا جو بہت بڑی تباہی مچا دیتا ہے۔ اس سال بھی اگست کے مہینے میں سیلاب آئے اور اپنے ساتھ بہت بڑی تباہی بھی لے کر آئے، فصلیں تباہ ہوئیں اور لوگ بے گھر ہوئے۔ اب اتنی بڑی تباہی میں الیکشن کا انعقاد تو ناممکن تھا لہٰذا انتخابات اکتوبر کی بجائے دسمبر تک ملتوی ہو گئے، یُوں انتخابی مہم کا عرصہ بھی ایک سال تک دراز ہو گیا۔ اُدھر مشرقی پاکستان تو سیلاب کی تباہ کار یوں سے نمٹ رہا تھا مگر ادھر مغربی پاکستان میں انتخابی مہم پورے زور و شور سے جاری تھی اور ایسا ہونا بھی چاہیے تھا کیونکہ ملکی تاریخ میں پہلی بار قوم سے اُس کی مرضی پوچھی جا رہی تھی اور دوسری اہم بات یہ تھی کہ ان انتخابات کے نتیجے میں جس اسمبلی نے منتخب ہونا تھا وہ کوئی عام اسمبلی نہیں تھی، وہ ایک آئین ساز اسمبلی تھی جو کہ 23 سال بعد ایک اسلامی اور نظریاتی ملک کو دستور دینے والی تھی۔ ان انتخابات کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی تھا کہ ایک طرف شیخ مجیب الرحمان تھے اور دوسری طرف جرنیلوں کا اپنا آدمی ذوالفقار علی بھٹو تھا، تو جب اُن لوگوں نے اپنے امیدواروں کو فہرستیں پیش کیں تو قومی سیاسی کارکن اُن فہرستوں کو دیکھ کر دنگ رہ گئے کیونکہ عوامی لیگ نے ادھر مغربی پاکستان کو مکمل طور پر خیرآباد کہہ دیا تھا، ویسے برائے نام تیس ممبران پنجاب سے دو، دو سندھ اور صوبہ سرحد سے جبکہ ایک بلوچستان سے کھڑا کر دیا گیا تھا۔ مگر یہ بھی محض خانہ پری تھی۔ مگر اس سے مرکزی اسمبلی کیلئے ایک بھی امیدوار کھڑا نہیں کیا اور اس میں عقل والوں کیلئے ایک بہت بڑا اشارہ تھا، واضح طور پر نظر آ رہا تھا کہ ہواؤں کا رُخ کس طرف ہے۔ گویا ان لوگوں نے ابھی سے ملک کو تقسیم کر دیا۔ عوامی لیگ والے کہتے تھے کہ ہم اس طرف دلچسپی نہیں رکھتے۔ دوسری طرف بھٹو کہتے تھے کہ میری اس طرف دلچسپی نہیں ہے۔ ظاہر ہے جُوں جُوں انتخابی مہم میں تیزی اور گرمی آتی رہی تو بھٹو مغربی پاکستان کے مفادات پر زور دیتے رہے اور شیخ صاحب مشرقی پاکستان کی بات کرتے رہے اور ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ یہ انتخابات ایک منفی رُخ اختیار کر رہے ہیں۔ ملکی مسائل اپنی جگہ پر دھرے کے دھرے رہ گئے۔ ایک جذباتی ماحول نے پیدا ہونا تھا جو کہ پہلے سے مسلم لیگ کی سیاست کی ایک اہم خصوصیت تھی۔ مجیب الرحمن تو دیرینہ مسلم لیگی تھے جو کہ حسین شہید سہروردی کے پروردہ تھے جبکہ بھٹو تو سیاست میں نہیں تھے، وہ بے چارہ جونہی امریکہ سے اپنی پڑھائی مکمل کر کے واپس آئے تو سیدھا ہندوستان چلے گئے اور یہ دعویٰ دائر کر دیا کہ میری جائیداد کو ہندوستان سرکار نے متروکہ قرار دیا ہے جبکہ میں تاحال ہندوستان ہوں، اب بھی میرے پاس ہندوستان کا پاسپورٹ ہے، میں تو امریکا میں پڑھ رہا تھا۔ جب پاکستان بن گیا، وہ لوئر کورٹ میں اپنا مقدمہ ہار گئے، انہوں نے ہندوستان کی فیڈرل کورٹ میں اپیل دائر کی اور ابھی اپیل پر کاروائی ہو رہی تھی کہ اتنے میں یہ خبر آئی کہ سکندر مرزا نے بھٹو کو اپنی مارشل لائی کابینہ میں وزیر کے طور پر لے لیا تو اُس کے بعد ہندوستان کی فیڈرل کورٹ سے مقدمہ واپس لے لیا گیا۔ پھر جب سکندر مرزا کو ایوب خان نے چلتا کیا تو بھٹو بھی اُس کے حصے میں آ گئے اور پھر تسلسل کے ساتھ وہ بھی ایک اور کبھی دوسرے محکمے کے وزیر کے طور پر ایوب خان کے ساتھ کام کرتے رہے۔ پھر جب ایوب خان نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اور مسلم لیگ کو دولخت کر دیا تو بھٹو نے بھی سیاست کے میدان میں آنے کا فیصلہ کر لیا اور اُس کنونشن لیگ میں بھٹو بھی سامنے آ گئے اور فیلڈ مارشل کے ساتھ جنرل سیکرٹری کے طور پر تعینات ہوئے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں مخالف پہلوان دراصل مسلم لیگ ہی کے دو رُخ تھے۔ نیشنل عوامی پارٹی نے مشرقی پاکستان میں 39 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کر دیئے جبکہ مغربی پاکستان میں 25 سیٹوں پر حصہ لیا۔ میں بذات خود مشرقی پاکستان کے دورے پر نکلا اور وہاں کے اٹھارہ اضلاع کا تفصیلی دور کیا۔ ہمارے ساتھی کافی مطمئن تھے۔ اگرچہ یہ بھی سچ ہے کہ وہاں ایک مغربی پاکستان مخالف فضاء بن چکی تھی اور کافی حد تک اُن لوگوں نے (عوامی لیگ کے کارکنوں نے) اس حوالے سے کام بھی کیا تھا مگر ہماری پارٹی اور خود میں نے مشرقی بنگال کے حقوق کی خاطر وقتاً فوقتاً جو کوششیں کی تھیں اور خاص طور پر گول میز کانفرنس سے پہلے میں نے شیخ مجیب الرحمن کی رہائی کیلئے جو سٹینڈ لیا تھا وہ سب کچھ اُن لوگوں کو بخوبی معلوم تھا اس لئے ہمیں وہاں پر کام کرنے میں کوئی دقت پیش نہیںآئی البتہ مولانا بھاشانی وہ واحد لیڈر تھے جو ہماری کُھل کر مخالفت کر رہے تھے مگر اُس نے فیلڈ مارشل کی دوستی کی وجہ سے لوگوں کا اعتماد کھو دیا تھا اور اس کا واضح ثبوت یہ تھا کہ اُس نے پورے بنگال میں قومی اسمبلی کی نمائندگی کیلئے محض چودہ امیدوار کھڑے کئے تھے اور میں دعوے سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں سارے پاکستان میں ایک پارٹی کا وہ واحد صدر تھا کہ میرا تعلق مغربی پاکستان سے تھا مگر انتخابی مہم مشرقی پاکستان میں چلا رہا تھا، یہاں تک کہ میں شیخ مجیب الرحمن کے اپنے آبائی حلقے میں بھی گیا ہوں اور وہاں پر اپنی پارٹی کا انتخابی جلسہ کر چکا ہوں اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اُس جلسہ عام میں، میں نے شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات پر اعتراض بھی کیا تھا۔