جنرل یحییٰ خان کا مارشل لاء (دوسرا حصہ)

جنرل یحییٰ خان کا مارشل لاء (دوسرا حصہ)

مترجم: نورالامین یوسفزئی

ان ملاقاتوں کے سلسلے میں جب وہ پشاور آئے تو مجھے بھی بُلا لیا۔ میں نے کہا کہ چلئے اس ملک میں ایک ادارہ ایسا تو ہے جب ہم سب پاگل ہو جاتے ہیں تو وہ اس قوم کو زبردستی خاموش کر دیتا ہے۔ اور یوں قوم خود میں آ جاتی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی میں نے فوراً یہ بھی کہہ دیا کہ یہ ادارہ (فوج) کب تک بار بار یہ کام سر انجام دیتا رہے گا۔ 
We have an institution which can eforce sanity... but how often and for how long?
اس کے جواب میں یحییٰ خان نے فوراً کہا کہ آپ کی بات کا یہ دوسرا حصہ زیادہ اہم ہے۔ پھر اُس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں بالکل کُھلے دل اور کُھلے ذہن کے ساتھ یہ سب کچھ کر رہا ہوں۔ اس حوالے سے نہ تو میں اپنی کوئی رائے رکھتا ہوں اور نہ ہی قوم پر اپنی مرضی کا کوئی آئین تھوپنا چاہتا ہوں۔ میں بس نیک نیتی کے ساتھ یہ کوشش کر رہا ہوں کہ اس بدقسمت ملک کی اس بدبختی کی بنیادی وجوہات معلوم کر لوں اور ان کا علاج بھی ڈھونڈ سکوں اس لئے میں نے قومی اکابرین سے ملاقاتوں کا یہ سلسلہ شروع کیا ہے۔ اور میں ان اکابرین سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ ہم سب باہم مل کر قومی مرض کی تشخیص بھی کریں گے اور اس مرض کا علاج بھی تلاش کریں گے تاکہ قوم و ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ اُس کے اس بیان کے بعد میں نے کہا کہ شکر ہے کہ آج تئیس سال بعد ہی سہی کسی بڑے میں یہ احساس تو پیدا ہوا کہ اس ملک کے بنیادی مسائل اور اُن کے حل کی طرف مثبت قدم اُٹھا سکے۔ اور یہ امر باعث حیرت بھی ہے کہ ایک سیاستدان کی بجائے یہ مثبت سوچ ایک فوجی جرنیل میں پیدا ہوئی۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ کا ارادہ نیک ہے مگر آپ کا کام نہایت مشکل اور وقت طلب ہے اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھی ابھی ایک فیلڈ مارشل قوم کو مایوس کر کے چلا گیا ہے تو ایک اور فوجی کیلئے یہ کام مشکل ہو گا کہ فوری طور پر قوم کا اعتماد حاصل کر سکے اسی لئے آپ کو ہمت اور حوصلے سے کام لینا ہو گا، رہی یہ بات کہ اس ملک کے بنیادی مسائل کیا ہیں؟ تو اس حوالے سے آپ نے درست نشاندہی کی ہے کہ ابھی تک اس قوم کو کسی نے انسان کی آنکھ سے دیکھا ہی نہیں ہے، آپ کے فیلڈ مارشل کی یہ منطق تھی کہ اس قوم میں شعور نہیں ہے اور یہ کہ قوم اپنے پرائے میں تمیز نہیں کر سکتی اس لئے یہ لوگ اس قابل ہی نہیں کہ ان کو ووٹ کا حق دیا جائے۔ میں نے کہا ایک دفعہ میں نے ایک تقریر کی تھی اور اُس میں یہ کہا تھا کہ قوم میں فرنگی کی غلامی کے دنوں میں اتنا شعور تھا کہ وہ ووٹ کی قدر و قیمت جانتی تھی اور اُس ووٹ کے زور پر پاکستان قائم کیا مگر اب جبکہ ملک آزاد ہوا تو وہی قوم کم عقل، بے وقوف اور نادان بن گئی، اور باالفرض محال اگر ہم فیلڈ مارشل کی یہ دلیل درست بھی تسلیم کر لیں کہ یہ پوری قوم چوتیا ہے تو پھر تو باہر کے لوگ فیلڈ مارشل کو بھی چوتیوں کا صدر کہیں گے۔ آپ نے جب یہ بنیادی فیصلہ کیا کہ اس ملک کیلئے حقیقی آئین بنانے کا حق اور ملک پر حکمرانی کا حق صرف اور صرف اس ملک کے عوام کے پاس ہے، وہ لوگ اپنے نمائندے منتخب کریں گے اور پھر وہی نمائندے قوم کو آئین دیں گے تو آپ نے تو آدھا مسئلہ پہلے سے حل کر دیا، باقی باتیں تفصیل طلب ہیں اور یہ جوآپ کہہ رہے ہیں کہ مشرقی پاکستان اگرچہ ایک اکثریتی صوبہ ہے مگر آج تک کسی نے بھی اُن کو اُن کا حق نہیںدیا تو آپ کا یہ مؤقف بھی قابل ستائش ہے۔ یہ آپ کہہ رہے ہیں کہ وہاں محرومی کا احساس بڑھ گیا ہے اور آج اُس احساس محرومی کے سدباب کی ضرورت ہے تو جناب اب تو یہ مسئلہ یہاں پر (مغربی پاکستان میں) بھی پیدا ہو چکا ہے۔ یہاں پر بھی ون یونٹ کی وجہ سے چھوٹے صوبوں کے حقوق عضب کر دیئے گئے ہیں۔ مرکزی آمریت کے ساتھ ساتھ لاہوری مرکزیت نے بھی چھوٹے صوبوں میں بے اعتمادی اور شکوک و شبہات پیدا کر دیئے ہیں جس کی وجہ سے اُن کے معاشی، معاشرتی، تمدنی اور تعلیمی حقوق غصب کرنے کی ایک سازشی فضا بن گئی ہے، اس فضا کو بھی درست سمت دینی ہے۔ یہ تمام امور غور طلب ہیں۔ پھر اس مسئلہ پر اُس نے بحث شروع کی۔ میں نے کہا جناب اپنے صوبے کی مثال لے لیں، یہاں پر ایک منتخب اسمبلی تھی، اُن منتخب اراکین نے ایک ذمہ دار وزارت بنائی تھی جس میں ہر مظلوم کی فریاد سُنی جاتی تھی، اُن کی دادرسی ہوا کرتی تھی مگر اب جبکہ منتخب حکومت نہیں ہے اور یہاں پر سرکاری افسران بیٹھے ہوئے ہیں تو ان کا رویہ قوم کے ساتھ دوستانہ نہیں بلکہ حاکمانہ ہے۔ قوم اور قومیت بیچ میں سے نکل گئی ہے۔ ملک کے بارسوخ اور سفید پوش لوگ اپنا اثر رسوخ استعمال کر کے اپنے کام نکلواتے ہیں اور ایک عام آدمی جس کی اپروچ اُن تک نہیں ہے وہ تباہ و برباد ہے، وہ ان اہل ثروت کے رحم و کرم ہے۔ دوسری طف ملک میں اس قدر مرکزیت آئی ہے کہ اگر چترال میں ایک سکول کیلئے میز اور کرسی کی ضرورت ہے یا کہیں پر کوئی پُل یا نالہ بنانا ہے تو وہ چھوٹا سا کام بھی لاہور کے حکم کے بغیر نہیں ہو سکتا جس کی وجہ سے بے شمار انتظامی مسائل نے جنم لیا ہے۔ دراصل ون یونٹ بنانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ چھوٹے صوبوں کے تمام وسائل کے ثمرات پنجاب ہڑپ کر سکے اور اگر آپ نے پڑھا نہیں ہو تو میں آپ کو ون یونٹ کے حوالے سے وہ خُفیہ دستاویز دے سکتا ہوں جس میں واضح طور پر یہ کہا گیا ہے کہ پنجاب کی معیشت اور کارخانے صوبہ سرحد کی بجلی اور بلوچستان کے کوئلے کے بغیر نہیں چل سکتے تو ظاہر ہے یہ چھوٹے صوبے اب اس حیثیت کو قبول کرنے پر بالکل آمادہ نہیں ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ پاکستان کے وسائل سے تو ہمیں کچھ بھی نہیں دیا جا رہا مگر باہر سے جب خیر خیرات بھی آتی ہے تو اُس خیرات میں سے بھی ہمیں ہمارا حصہ نہیں دیا جاتا۔