جنرل یحییٰ خان کا مارشل لاء (بیسواں حصہ)

جنرل یحییٰ خان کا مارشل لاء (بیسواں حصہ)

مترجم: نورالامین یوسفزئی

پھر میں نے بھٹو سے کہا کہ کیا آپ اس بات سے انکار کر سکتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمان نے الیکشن جیتا ہے اور یحییٰ خان نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ پاکستان کا وزیر اعظم ہو گا تو اگر ایسی بات ہے تو اُس کی ہر ممکن کوشش یہ ہو گی کہ وہ  ایسا کوئی کام نہ کرے جس کی وجہ سے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچے کیونکہ ایسا کر کے وہ خود کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے محروم کرے گا اور میری دانست میں وہ اتنا نادان ہرگز نہیں ہے البتہ اگر ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ اکثریت حاصل کرنے والے کو اقتدار منتقل کرنے سے گریز کیا جائے تو ایسے میں اس بات کا امکان ہے آپ تو بنگال نہیں گئے ہیں مگر میں نے بہت قریب سے اُن کو دیکھا اور سُنا ہے، وہ بہت زیادہ ناراض اور شاکی ہیں خاص طور پر گزشتہ طوفان میں اُن کی دادرسی نہ ہونے پر تو وہ بہت زیادہ ناراض اور خفہ ہیں، وہ لوگ مایوسی کی انتہا پر پہنچ گئے ہیں اور ہمیں اب مزید اُن کو دُکھی نہیں کرنا چاہئے اس طرح تو وہ بالکل باغی ہو جائیں گے اور ملک کی سالمیت فی الواقع خطرے میں پڑ جائے گی۔ پھر یہ دیکھنا ہو گا کہ ملک ہماری وجہ سے ٹوٹا یا شیخ مجیب کی وجہ سے؟ It will be the begining of the end of Pakistan اور شیخ مجیب تواتر کے ساتھ یہ کہہ رہا ہے کہ 
It is the minority that secedes. I am the majority and therefore the question of my cession simply does not arise کہ جب ملک تقسیم ہوتے ہیں تو اقلیت جُدا ہوتی ہے اکثریت نہیں تو اب جبکہ آپ اسمبلی نہ جانے کی بات کر رہے ہیں تو یہ مجھے اُس سے بھی دو قدم آگے کی حرکت دکھائی دے رہی ہے، آپ کی یہ حرکت تو ملک کی سالمیت کو بہت بڑے خطرے سے دوچار کر دے گی۔ آپ ایک پارٹی کے صدر ہیں، آپ کو اپنے فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے مگر مجھے تو اس میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ کی گنجائش نظر نہیں آ رہی کہ آپ کا یہ فیصلہ پاکستان کو توڑنے کی جانب پہلا قدم ہو گا۔ میں نے کہا کہ میں تو کل لندن جا رہا ہوں، ہماری پارٹی کا فیصلہ ہے کہ ہمارے ساتھی ڈھاکہ میں منعقد ہونے والے اسمبلی سیشن میں شرکت کریں گے اور اس آئین ساز اسمبلی میں ہم ایک پاکستانی کی حیثیت سے شریک ہوں گے، نہ تو ہم نیپ کے ممبران کی حیثیت سے جائیں گے نہ صوبہ سرحد کے نمائندوں کی حیثیت سے اور نہ مغربی پاکستان کی طرف سے کیونکہ ون یونٹ ختم ہو چکا ہے۔ پاکستان کو بنے ہوئے 24 سال کا عرصہ گزر چکا اب کہیں جا کر اس بدبخت ملک کو ایک آئین ملنے والا ہے تاکہ ملک کے تمام صوبوں تک آزادی کے ثمرات پہنچ سکیں اور خاص طور پر اُن غریب اور لاچار لوگوں تک جن کے لئے آپ نے نہایت دلیری کے ساتھ آواز اُٹھائی ہے مگر اُس نے مجھے اپنا یہ آخری فیصلہ سُنا دیا کہ میں نے تو ابھی اپنے ساتھیوں سے مشورہ نہیں کیا ہے مگر میرا اپنا فیصلہ یہ ہے کہ ہم اسمبلی کے اس اجلاس میں نہیں جائیں گے۔ میں نے جب اُس کا یہ فیصلہ سُن لیا تو یہ سوچنے لگا کہ یہ کیسی پارٹی ہے اور اُس پارٹی کا یہ کیسا سربراہ ہے کہ اس قدر تباہی اور بربادی سے بھرپور فیصلہ یہ آدمی اکیلے کر رہا ہے اور اپنی پارٹی کے ساتھیوں کو بھی اعتماد میں نہیں لیتا۔ جب وہ مجھ سے رُخصت لے کر پشاور گیا تو وہاں اُس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ کہا کہ ہم یحییٰ خان کے بُلائے ہوئے آئین ساز اسمبلی کے اجلاس میں ڈھاکہ نہیں جائیں گے اور اس کے ساتھ اُس نے یہ حکم بھی صادر فرمایا کہ باقی پارٹیوں کے پارلیمانی اراکین بھی اجلاس میں نہ جائیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ پھر بھی اگر کوئی اسمبلی میں شرکت کرنے جائے گا تو ہم اُسے جانے نہیں دیں گے یہاں تک کہ جانے والے کی ٹانگیں توڑ دیں گے اور اگر اس کے باوجود بھی کوئی جانے پر تلا ہوا ہے تو اُسے چاہیے کہ جاتے وقت یکطرفہ ٹکٹ لے کیونکہ اُسے ہم واپس اس ملک میں گُھسنے نہیں دیں گے۔ میں اگلے روز لندن جانے لگا۔ اُن دنوں لندن جانے والا جہاز پشاور سے لاہور اور لاہور سے کراچی جاتا تھا اور پھر وہاں سے لندن کیلئے روانہ ہوتا تھا۔ میں جب پشاور کے ہوائی اڈے پر پہنچا تو وہاں پر اخبار والوں نے گھیر لیا۔ انہوں نے یہ کہا کہ بھٹو نے تو اعلان کیا ہے تو کیا آپ لوگ اس کے باوجود بھی اسمبلی میں شرکت کیلئے ڈھاکہ جائیں گے۔ میں نے کہا کہ ہاں ہم تو جائیں گے کیونکہ ہمارا انتخاب اس قوم نے اس مقصد کیلئے کیا ہوا ہے کہ اس بدقسمت ملک کو 24 سال بعد ایک متفقہ جمہوری آئین دے سکیں تاکہ جرنیلوں اور آمروں کے ہاتھوں سے چھین کر ملک کا اختیار اس کے حقیقی وارثوں کو دلا سکیں، ہم نے تو فرنگی کے خلاف اتنی طویل جدوجہد اس مقصد کیلئے کی ہوئی ہے اور اتنی قربانیاں بھی اس لئے دی ہوئی ہیں کہ عوام کو اُن کا حقیقی جمہوری حق دلا سکیں تاکہ 22 خاندانوں کے ہاتھوں سے اختیار نکل کر عوام کے حقیقی نمائندوں کے پاس چلا جائے، اس اسمبلی میں شرکت نہ کرنے کو ہم اس ملک اور اس کے عوام کے خلاف ایک سازش سمجھتے ہیں۔ جب ایک اخباری نمائندے نے بھٹو کی طرف سے ٹانگیں توڑنے کی بات دہرائی تو میں نے کہا کہ آپ ذرہ میری ٹانگوں کو دیکھ لیں کیا آپ نے اپنی زندگی میں اتنی لمبی اور مضبوط ٹانگیں دیکھی ہیں، اگر ان ٹانگوں کو وہ طاقتور فرنگی نہیں توڑ سکا، اس کے بعد اُس کی چھوڑی ہوئی باقیات بھی نہ توڑ سکیں تو بھٹو ان کو کیسے توڑے گا۔ پھر ایک اور صحافی نے یکطرفہ ٹکٹ کی بات کی، اس سوال کے جواب میں، میں نے یہ کہہ دیا کہ ہندوستان گھنگا جہاز کے ہائی جیکروں سے مل کر اس نے (بھٹو نے) ڈھاکہ اور پشاور کا فاصلہ اتنا بڑھا دیا کہ یہ فاصلہ پشاور سے لندن تک کا ہو گیا یوں ان لوگوں نے پاکستان کے دونوں حصوں کو ایک دوسرے سے عملاً کاٹ کر رکھ دیا اور آج جب ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے پاس اسمبلی میں شرکت کی بات کرتے ہیں تو یہ کہہ رہا ہے کہ ہم انہیں واپس ملک میں گُھسنے نہیں دیں گے۔ ہم اُن کے ساتھ بھائی بندی مضبوط کرنے اور ملک کو بچانے کیلئے جرگہ لے کر جا رہے ہیں، یہ ایک خیر کا کام ہے، کوئی بھی ہمیں یہ کام کرنے سے روک نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی مائی کا لال ہمیں واپس اپنے ملک میں آنے سے روک سکتا ہے۔ اس وطن کی پاک سرزمین سے ہم نے فرنگی کو بھگایا ہے جو ساری دنیا کا حکمران تھا تو یہ بھٹو کس باغ کی مولی ہے۔ پھر میں نے یہ بھی کہہ دیا کہ اب اس وقت جرنیلوں اور خود جنرل یحییٰ خان کو بھٹو کی اس بات کا نوٹس لینا چاہیے کہ وہ کیونکر ایک جمہوری عمل میں رخنہ ڈال رہا ہے، لوگوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔ پھر میں نے یہ بھی کہہ دیا کہ بھٹو بے شک پنجاب اور سندھ کی طرف سے تو ایسا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے مگر سرحد (پختونخوا) اور بلوچستان کی طرف سے ایسا اعلان کرنے کا حق اُسے کس نے دیا ہے؟ کیونکہ مذکورہ دونوں صوبوں میں تو اُس کا ایک بھی منتخب رکن نہیں ہے۔ تقریباً ان سوالات سے ملنے جلتے سوالات کراچی میں بھی صحافیوں نے اٹھائے اور میں نے وہی جوابات دیئے۔ پھر میں لندن روانہ ہو گیا مگر بھٹو کے اس رویے اور اس دھمکی نے میرے دل میں یہ وسوسہ ڈال دیا کہ وہ خود تو اپنی مرضی سے یہ سب کچھ نہیں کر سکتا کہ اُس میں اتنی سکت نہیں ہے مگر اُس کے ساتھ ضرور کسی کی آشیرباد شامل ہے جو اس ملک کو توڑنا چاہتا ہے۔ پھر میرا دھیان فیلڈ مارشل کے ساتھ اپنی آخری ملاقات کی طرف گیا اور اُس کے وہ الفاظ مجھے یاد آنے لگے جب اُس نے مجھ سے دوٹوک الفاظ میں یہ کہا تھا کہ اگر اس ملک کو بچانا چاہتے ہو تو جتنا جلدی ہو سکے اس مشرقی پاکستان کو اپنے سے علیحدہ کر دیں۔ پھر مجھے وہ پیشگوئی بھی یاد آئی جب میں نے فیلڈ مارشل سے کہا تھا کہ یہ کام نہ تو آپ کے کرنے کا ہے اور نہ میرے بس کا، یہ کام بین الاقوامی سازشی قوتوں نے آپ کے سابق وزیر خارجہ کے سُپرد کیا ہوا ہے  اُمید ہے وہ اُن کے منصوبے کے مطابق اپنی یہ ذمہ داری خوش اسلوبی سے نبھائے گا اور مشرقی پاکستان سے پاکستان کو جلدی نجات دلائے گا۔