جنرل یحییٰ خان کا مارشل لاء (اکیسواں حصہ)

جنرل یحییٰ خان کا مارشل لاء (اکیسواں حصہ)

مترجم: نورالامین یوسفزئی

جب میں لندن پہنچ گیا اور ڈاکٹر سے رابطہ قائم کیا تو اُس سے یہ کہا کہ آپ مہربانی فرما کر مجھے جلدی معائنے کیلئے طلب کیجئے کہ میں جلدی فارغ ہو جاؤں۔ دراصل لندن میں ڈاکٹروں سے وقت لینا قدرے مشکل ہوتا ہے۔ دو تین ہفتے لگتے ہیں۔ وہاں لندن کے اخبارات میں ایک عجیب کھیل مچا ہوا تھا، ہر اخبار کی شہ سرخی یہ تھی کہ شیخ مجیب جلد از جلد اپنی آزادی کا اعلان کرنے والا ہے، پھر جب یحییٰ خان نے یکم مارچ 1971ء کو ایک صدارتی حکم سے اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا تو پھر اخبارات کے ان تبصروں میں اور بھی تیزی اور شدت پیدا ہو گئی۔  Unilateral Declaration of independenceبنگالیوں نے تو لازمی طور پر اس اعلان کا بُرا منانا ہی تھا، وہ تو فوراً سڑکوں پر نکل آئے اور مظاہرے شروع ہو گئے۔ وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ اجلاس غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی ہوا اور اگر ایسا ہے تو پھر اُن کے منتخب ممبران کو اقتدار کیسے ملے گا؟ اور جب یہ اسمبلی بیٹھے گی نہیں تو یہ جو یحییٰ خان نے اعلان کیا ہے کہ شیخ مجیب الرحمان ہی ملک کا نیا وزیراعظم ہو گا تو اُن کا کیا ہو گا، یہ وعدہ کیسے ایفا ہو گا؟ حقیقت یہ ہے کہ اس اعلان نے تمام بنگالیوں کو بہت دُکھی کر دیا اور وہ لوگ جو ابھی تک تماشگیر بنے بیٹھے تھے یا قدرے غیرجانبدارتھے وہ بھی اب اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ یہ لوگ (مغربی پاکستان کے ارباب اختیار) اقتدار کسی صورت میں بھی ہمیں دینے پر تیار نہیں ہیں۔ یہ ہمیں اپنا حق جمہوری اور قانونی طریقے سے دینے پر آمادہ نہیں ہیں تو اب ہمیں اپنے لئے ایک اور راستے کا انتخاب کرنا ہو گا۔ ادھر لندن سے تمام اخبارات نے اپنے نمائندوں کو بنگال بھیج دیا اور وقتاً فوقتاً تسلسل کے ساتھ ہمارے پاس وہاں ہونے والے جلسوں جلوسوں اور مظاہروں کی خبریں آتی تھیں اور اب مجھیے پورا یقین تھا کہ اس وقت لندن میں بیٹھ کر میں زیادہ بہتر انداز میں وہاں کے حالات سے آگہی حاصل کر رہا ہوں۔ وہ لوگ جو مغربی پاکستان میں بیٹھ کر وہاں کے اخبارات اور نشریاتی اداروں پر اکتفا کر رہے ہیں اُن کے پاس آدھا سچ پہنچ رہا ہے۔ یہاں کے اخبارات تسلسل کے ساتھ یہ بات کر رہے تھے کہ کسی بھی وقت وہاں سے آزادی کا اعلان ہو سکتا ہے۔ اس وقت میری سوچ اُس حقیقت کی طرف چلی گئی جب تقسیم ہند کی باتیں ہو رہی تھیں اور جناح صاحب ہند کے ساتھ پنجاب، بنگال اور آسام کی تقسیم پر بھی راضی ہوئے تو اس وقت کے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اُن سے یہ کہا تھا کہ آپ مشرق اور مغرب کا یہ غیرفطری اتحاد کرہے ہو یہ جڑت چونکہ غیرفطری ہے اس لئے یہ 25 سال بھی برقرار نہیں رہ سکے گی۔ اب میں سوچ رہا تھا کہ فرنگی نظر بازوں نے اُس وقت اس تلخ حقیقت کا اندازہ لگایا تھا مگر اس کے باوجود وہ یہ سب کچھ کر رہا تھا کیونکہ اس وقت اُن کے خیال میں اس عمل میں اُن کا مفاد تھا، اب وہ 25 سال پورے ہو رہے ہیں اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی وہ پیش گوئی بھی پوری ہو رہی ہے۔
لندن سے میری واپسی اور ڈھاکہ روانگی
اس دوران لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن نے مجھے یحییٰ خان کا ایک خط دے دیا جس میں اُس نے یہ لکھا تھا کہ آپ جلد از جلد وطن واپس آجائیں۔ یہ اچھا ہوا کہ اُسی دن مجھے میرے ڈاکٹر نے اگلے دن معائنے کا وقت دیا تھا۔ میں اپنے ڈاکٹر سے ملا اور اُس سے دوبارہ معائنے اور مزید لندن میں قیام سے معذرت کر کے وطن روانہ ہوا۔ جب کراچی پہنچا تو ادھر یحییٰ خان کے نمائندے نے بتایا کہ اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنے پر شیخ مجیب الرحمن بہت ناراض ہیں اور اب اگرچہ اُس نے 25 مارچ کو اسمبلی اجلاس دوبارہ طلب کر لیا ہے مگر وہ ہنوز ناراض ہیں، اب صدر صاحب کا خیال ہے کہ اس وقت آپ اکیلے سیاسی آدمی ہیں جو کہ شیخ صاحب سے بات کر سکتے ہیں، اب یہ کام آپ کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا اور صدر صاحب یہ بھی چاہتے ہیں کہ یہ کام جتنا جلدی ہو جائے، بہتر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یحییٰ خان چاہتے ہیں کہ میں پشاور کی بجائے سیدھا ڈھاکہ چلا جاؤں۔ میر بخش بزبخو اُن دنوں کراچی میں تھے۔ اُس نے بھی مجھ کو سرسری طور پر بریف کیا مگر جیسا کہ میرا اندازہ تھا میں لندن میں بیٹھ کر یہاں کے لوگوں سے مشرقی پاکستان کے حالات سے زیادہ آگاہ تھا۔ مگر اتنا تو ہر کوئی جانتا تھا کہ اب بنگال کُھل کر متفقہ طور پر اُٹھ کھڑا ہوا تھا، اُنہوں نے تمام سرکاری اداروں پر بھی قبضہ کر لیا تھا، یہ بھی مجھے معلوم تھا کہ ہندوستان نے اپنی فضائی حدود میں پاکستانی پروازوں کو بند کیا ہوا ہے اور اب مجھے سیلون یا سری لنکا کے راستے ہوائی جہاز میں سمندری راستے سے وہاں جانا ہو گا۔ گویا سارے ہندوستان کا چکر لگا کر بنگال میں داخل ہوں گے۔ یہ بھی ہمیں معلوم تھا کہ بنگال کے لوگ PIA کیلئے کام کرنے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ وہاں جہاز کے ٹکٹ سے لے کر سامان اُتارنے اور دیگر انتظامات کیلئے بھی ہمیں اہلکار کراچی سے ساتھ لینے ہوںگے۔ بہرحال آمدم برسر مطلب، جب ہم نے سارے ہندوستان کا چکر لگا کر بنگال کی سرزمین پر قدم رکھا تو اتنا وقت صرف ہو چکا تھا جتنا پشاور سے لندن تک پہنچنے میں لگتا ہے۔ ظاہر ہے ہم تو ایک جذباتی ماحول میں پھنس چکے تھے مگر ایک ذی ہوش انسان جب یہ سب دیکھتا ہے تو وہ حق دق رہ جاتا ہے اور یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ پتہ نہیں یہ لوگ انسان تھے اور اگر تھے تو کیا اپنے ہوش و حواس میں بھی تھے اور کیا اس بیسویں صدی کے لوگ تھے جس صدی کے لوگ آسمانوں اور خلاؤں کو مسخر کر چکے ہیں، چاند پر قدم رکھ چکے ہیں اور بیسویں تو کیا اب تو اکیسویں صدی بھی سر پر ہے تو اس مسئلے کے لیے ایک ہوش مند انسان جواز پیش کر سکے گا کہ ہم نے اپنے ہی ہاتھوں ایسا ماحول پیدا کر دیا کہ وہ جو ہمارا بھائی تھا وہ ہم نے خود سے اتنا دور کر دیا کہ ہمارا ہوائی راستہ بھی لندن کے برابر ہو گیا اور اب ملک کے ان دونوں حصوں میں ایسے کتنے لوگ ہوں گے جنہوں نے ملک کے دونوں حصوں کو کبھی زندگی میں ایک بار بھی دیکھا ہوا ہو گا؟ ان سوچوں میں غلطاں جب ہم ڈھاکہ ائیر پورٹ پر اُترے تو ہوائی اڈے پر محض اسلحہ سے لیس فوجی اہلکار کھڑے تھے۔ جب ہم اُتر گئے تو وہاں پر موجود جتنے بھی فوجی افسر تھے اُن سب نے مجھ سے بس ایک ہی بات کی کہ خان صاحب آپ تو بنگالیوں کے ساتھ ہیں مگر یہ بات یاد رکھیں کہ اب معاملہ بات چیت اور مصالحت سے بہت آگے نکل چکا ہے، اب اس کا علاج ہمارے ہاتھوں میں ہے اور پھر گالیاں دینی شروع کر دیں۔ سب یہ کہا کرتے تھے کہ ہم ان بنگالیوں کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ ان کی اگلی نسلیں بھی صدیوں تک یاد رکھیں گی۔ میں نے ان باتوں کے جواب میں یہ کہا کہ میں تو مجیب الرحمن کے نہیں پاکستان کے ساتھ ہوں مگر ایک سیاسی آدمی ہوں اور یہ مسئلہ میرے خیال میں ایک سیاسی مسئلہ ہے اس لئے اسے سیاسی انداز میں حل ہونا چاہیے۔ ہمارے بڑے بزرگ کہتے ہیں کہ جو گرہ ہاتھ سے کھولا جا سکتا ہے اُسے دانتوں سے نہیں کھولنا چاہئے اور اگر سیاسی انداز میں حل نہیں ہوا تو پھر آپ لوگ تو ہیں نا ویسے بھی ابھی تک ملک کی بادشاہی آپ کے پاس ہے، آپ کے جرنیل موجود ہیں پھر آپ لوگ اُن کے احکامات کی روشنی میں اس مسئلہ کو حل کر لیں گے۔ 
 

نوٹ: یہ ترجمہ 12 اکتوبر کو روزنامہ شہباز میں شائع کیا گیا تھا