جنرل یحییٰ خان کا مارشل لاء (تینتیسواں حصہ)

جنرل یحییٰ خان کا مارشل لاء (تینتیسواں حصہ)

مترجم: نورالامین یوسفزئی

اُدھر مشرقی پاکستان فوج مسلسل لڑتے لڑتے تھک چکی تھی جبکہ دوسری طرف ان کے اس اقدام کی وجہ سے پوری بنگلہ دیش قوم اُن کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ ملک کے ہر کونے اور ہر گاؤں میں افواج پاکستان کے دمشن موجود تھے اور جب قوم فوج کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتی تو فوج اکیلے کچھ نہیں کر سکتی، راہیں تو عوام بناتی ہیں۔ دشمن کی موجودگی، جاسوسی اور دیگر تمام معاملات میں عوام کا اپنا ایک بنیادی اور کلیدی کردار ہوتا ہے مگر ادھر تو عوام مکمل طور پر دوسری صف میں کھڑے ہو چکے تھے۔
بنگلہ دیش کی جنگ میں بھٹو کا کردار
بنگلہ دیش کی جنگ شروع ہونے سے پہلے بھٹو نے عجیب و غریب مطالبات شروع کئے تھے، کبھی کہتے کہ اقتدار کو دو حصوں میں بانٹ لو، مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان دونوں علیحدہ علیحدہ اپنا اپنا نظام چلائیں اور پاکستان جیسے ملک میں جس کے دونوں حصوں میں اتنا زیادہ جغرافیائی فاصلہ ہو، اُس کے دونوں حصوں میں اپنی اپنی حکومتیں ہونی چاہئیں اور یہاں دو وزیراعظم ہونے چاہئیں۔ یہ بات تو وہ تسلسل کے ساتھ کر رہے تھے کہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کو تقسیم ہونا چاہئے، ہم اس بات پر اعتراض کرتے رہے یہاں تک کہ ایک بار میں نے یہ بات یحییٰ خان کے سامنے بھی رکھ دی کہ یہ آدمی بھٹو تو تسلسل کے ساتھ پاکستان کے بٹوارے کی باتیں کر رہا ہے، اس کی ہر تجویز تقسیم پر آ کر ختم ہوتی ہے جبکہ حکومت ایک بے بس تماشائی کی طرح اُسے دیکھتی رہی ہے، یہ کھیل اور شور سے جاری تھا اور بھٹو کا بس ایک مقصد تھا کہ اقتدار میرے حوالے کیا جائے کہ میں بنا اقتدار کے زندہ نہیں رہ سکتا اور اگر کوئی کی محفل میں اُسے یہ کہتا کہ آپ کو تو اقتدار تب ملے گا جب ملک تقسیم ہو گا، جب جناح صاحب اور مسلم لیگ کا پاکستان دو لخت ہو جائے گا توکھل کر تو وہ یہ نہیں کہتا تھا کہ ملک اگر ٹوٹتا ہے تو بھلے ٹوٹ جائے مگر اقتدار مجھے مل جانا چاہئے۔ اُدھر مشرقی پاکستان میں مسلم لیگی حسین شہید سہروردی اور شیخ مجیب الرحمن علیحدگی کی باتیں کر رہے تھے اور ادھر بھٹو اس حوالے سے سرگرم تھا۔ ایک حسین شہید سہروردی کا مُرید تھا اور دوسرا فیلڈ مارشل ایوب خان کا، اب دیکھنا یہ تھا کہ یہ دونوں مسلم لیگی جناح صاحب کے پاکستان کے ساتھ کیا کھیل کھیلنا چاہتے تھے؟ مگر پاکستان کہاں تھا؟ مسلمان کدھر تھے؟ نظریہ پاکستان کہاں تھا؟ اگر کوئی حقیقت تھی تو وہ یہ تھی کہ ان لوگوں میں کُرسی کی جنگ جاری تھی۔ آج تقسیم ہند میں استعمال ہونے والا دو قومی نظریہ ادھر پاکستان میں بھی استعمال ہو رہا تھا۔ اپنی طرف سے مستعد تجاویز پیش کرتے کرتے بھٹو صاحب نے ایک تجویز یہ پیش کی تھی کہ پاکستان کے دونوں دھڑوں کی اسمبلیاں علیحدہ علیحدہ بیٹھ کر اپنے اپنے لئے آئین بنائیں۔ میں اُن دنوں ڈھاکہ میں تھا۔ میں نے اخبارات کے نمائندوں کو عوامی لیگ کے مشران کے پاس بھیجا کہ اُن کا اس سلسلے میں کیا خیال ہے؟ مگر اُن لوگوں نے پریس کے سامنے بالکل منہ نہیں کھولا۔ پھر میں نے ان کے ایک ذمہ دار مشر سے دریافت کیا کہ یہ کیا ماجرا ہے، بھٹو کی تجویز کے بارے میں آپ لوگ کیوں خاموش ہیں؟ اُس نے مسکرا کر کہا کہ ہم کیوں اس تجویز کی مخالفت کریں، ہم نے تو اپنے چھ نکات میں پاکستان کے اندر صوبائی خودمختاری مانگی ہے جبکہ بھٹو صاحب کی یہ تجویز تو ہمیں مکمل آزادی دلا رہی ہے تو ہم کیونکر اس پر اعتراض کریں گے؟ ہمیں تو بھٹو کا یہ تحفہ دونوں ہاتھوں سے قبول کر کے لینا چاہئے۔ اس حوالے سے خوش آئند بات یہ ہے کہ تقسیم کی یہ تجویز بھی مغربی پاکستان کی طرف سے پیش کی جا رہی ہے۔ مگر جب شیخ مجیب الرحمن گرفتار ہوا اور فوج نے بنگالیوں پر ہلہ بول دیا اور بھٹو کے الفاظ میں ''شکر ہے پاکستان بچ گیا'' تو پھر تو بھٹو کے سامنے میدان خالی تھا، اُس نے مسلسل اپنی تقریروں میں اس بات پر زور دینا شروع کیا کہ سرکار کو چاہئے کہ حکومت منتخب نمائندوں کے حوالے کر دے، اب نہ یحییٰ خان اور نہ اُس کے ساتھی جرنیلوں نے اُس سے یہ پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ جب ہم اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کر رہے تھے، اسمبلی کا اجلاس طلب کر رہے تھے تو اُس وقت تو آپ مسلسل مخالفت کرتے رہے اور اب کہہ رہے ہو کہ اقتدار فوراً منتخب نمائندوں کے حوالے کیا جائے۔ اور اس کے لئے ہم نے آئینی قانونی راستہ اختیار کیا، آئین ساز اسمبلی بُلائی گئی تو اس وقت تو تم نے اُس میں بیٹھنے سے انکار کر دیا، نہ صرف انکار کیا بلکہ یہ اعلان کیا کہ میں تو نہیں جا رہا مگر اور بھی کوئی نہیں جائے گا اور اگر کوئی گیا تو میں اُس کی ٹانگیں توڑ دوں گا اور آج جبکہ جنگ شروع ہو چکی ہے تو اب آپ سے اتنا بھی صبر نہیں ہو رہا کہ اس کیلئے کوئی آئینی اور قانونی جواز تو ڈھونڈ لیا جائے اور اقتدار کسی کے حوالے کیا جائے۔ یحییٰ خان نے تو یہ اعلان کر دیا کہ مجیب اور اُس کے عوامی لیگ کے تمام ساتھی غدار اور ملک دشمن ہیں، اب جبکہ منتخب اسمبلی کے اراکین غدار قرار دیئے گئے تو اس کے ساتھ اُن کی رُکنیت بھی ختم ہو گئی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پاکستان کے لئے نہیں بلکہ اسمبلی میں اقلیتی اراکین کو اقتدار دیا جائے۔ مگر بھٹو اب کیسے آرام سے بیٹھ سکتا تھا، وہ اتنا بھی صبر نہیں کر سکتا تھا کہ پاکستان تو ٹوٹ جائے، بنگلہ دیش بن جائے تو باقی ماندہ ملک میں اکثریت کے زور پر یہ اقتدار تک پہنچ جائے گا۔ نہیں! وہ تو کہہ رہا تھا کہ جلدی کرنے والے کا لاکھ بُرا ہو مجھے اپنا حصہ جلدی چاہئے۔ پھر جب ہم نے چاروں طرف سے اعتراضات شروع کرائے تو پھر اُس نے یہ مطالبہ کر لیا کہ قوم کے وہ منتخب اراکین کہاں گئے؟ اُن  میں سے تو کچھ اس دنیا سے چلے گئے، کچھ پابند سلاسل ہوئے اور کچھ ملک سے بھاگ گئے اور اب تو وہ ممبر نہیں رہے نہ ہی رہ سکتے ہیں اس لئے اُن کی جگہ نئے اراکین کا انتخاب کیا جائے، جنگ بھی جاری رہے گی اور ضمنی انتخاب بھی ہو گا۔ چنانچہ یہ اعلان ہوا کہ 25 نومبر سے لے کر 9 دسمبر تک قومی انتخابات ہوں گے اور اسمبلیی کا اجلاس 27 دسمبر کو ہو گا۔ پشتو کی ایک ضرب المثل ہے کہ ماموت مزے کرو تم نے مفت میں پا لیا۔ یہ جو خود کو اسلام پسند کہتے ہیں، ان تمام گروہوں کیلئے بھی راستہ کھل گیا۔ پندرہ اراکین تو بلامقابلہ اسمبلی میں آ گئے جن میں قیوم لیگ، کنونشن مسلم لیگ، پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی اور نظام اسلام پارٹی شامل تھیں۔ پارٹی پوزیشن یہ تھی :
1۔ پاکستان ڈیموکریٹک پارٹیو =    5 اراکین
1۔ جماعت اسلامی=                 5 اراکین
3۔ کنونشن مسلم لیگ=            2 اراکین
4۔ قیوم لیگ =                         1 عدد
5۔ نظام اسلام پارٹی=              1 عدد
یہ 15 اکتوبر 1971ء کا واقعہ ہے۔ سرکار نے یہ اعلان کیا کہ جسٹس کارنیلئیس (Justice Cornalius) کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک نیا آئین بنائیں۔ یہ عمل دیکھ کر بندے کو ہنسی بھی آجاتی ہے کہ گزشتہ 24 سال میں ہم نے بس یہی کام کیا کہ آئین بنایا اور پھر خود اپنے بنائے ہوئے آئین کو توڑ ڈالا اور اب جبکہ مشرقی پاکستان میں آگ لگی ہوئی ہے، فوجی کاروائی جاری ہے، ادھر ضمنی انتخابات اور آئین سازی کی باتیں ہو رہی ہیں تو نہیں معلوم کہ اس موقع پر ہنسنا چاہئے یا پھر رونا چاہئے۔