عوام کیلئے خوشخبری مگر۔۔۔۔

عوام کیلئے خوشخبری مگر۔۔۔۔

ویسے تو کورونا کی وبا میں ہر گزرتے دن کیساتھ تیزی ہی نوٹ کی گئی ہے اور ویکسین لگانے پر ہی زور دیا جا رہا ہے لیکن اب اس وباکا زور ٹوٹنے لگا ہے جس کے بارے میں گزشتہ روز وفاقی وزیر منصوبہ بندی و نیشنل کمانڈ آپریشن سنٹر کے سربراہ اسد عمر نے بھی عوام کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ کورونا کیسز کے پھیلاو میں بتدریج کمی آ رہی ہے اور اس کیساتھ مثبت کیسز کی شرح میں بھی کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے، چوتھی لہر کمزور پڑتی نظر آرہی ہے اور آئندہ 15 روز میں اس وباکی کمی میں مزید استحکام آنے کا امکان ہے لیکن اس کے باوجود احتیاط کا دامن بہرحال ہمیں تھامے رکھنا ہوگا، ذرا سی غفلت دوبارہ سے ہماری کوششوں کو زائل کر سکتی ہے۔ حالیہ ہونیوالی کمی کی وجہ سے ہسپتالوں پر دباو بھی کم ہوگا، یہ سب کچھ حکومتی مثبت اور سخت پالیسیوں کی بدولت ممکن ہوا ہے، ٹرانسپورٹ، تعلیمی اداروں کی بندش سمیت تمام تقریبات پر پابندی لگانے سے کورونا کے پھیلا میں بھی کمی نوٹ کی گئی ہے جبکہ اس کے ساتھ ویکسی نیشن نے بھی اہم کردار ادا کیا، انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں پر لگی پابندی کی وجہ سے بچوں کا اکیڈیمک سیشن متاثر ہوا اس لئے اسے بچانے کیلئے آج سے تمام تعلیمی ادارے بھی کھولے جا رہے ہیں جس میں ایس او پیز کے اصولوں کے مطابق صرف 50 فیصد حاضری یقینی بنائی جائے گی اور دیگر پابندیوں کا بھی خاص خیال رکھا جائیگا۔ اس اقدام سے بچوں کا تعلیمی سال متاثر ہونے سے بچ جائیگا لیکن اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ایس او پیز پر عمل درآمد بھرپور انداز میں کیا جائے اور اساتذہ سمیت سکول انتظامیہ کو بھی سخت ہدایات جاری کرنا ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے 24 اضلاع میں کیسز کی تعداد کے پیش نظر پابندیاں لگائی گئی تھیں تاہم اب ان میں سے 18 اضلاع میں صورتحال کنٹرول ہونے پر وہاں پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے جبکہ باقی 6 اضلاع میں قائم پابندیاں و بندشیں برقرار رہیں گی۔ ان اضلاع میں لاہور، فیصل آباد، ملتان، سرگودھا، گجرات اور بنوں میں کورونا سے متعلق صورتحال اب بھی بہتر نہیں ہوئی اس لیے مذکورہ اضلاع میں انتہائی درجے کی بندش 22 تاریخ تک قائم رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ عوام کی مشکلات کے پیش نظر انتہائی درجے کی متعدد پابندیوں میں سے چند ایک ختم کی جا رہی ہیں جن میں انٹرسٹی ٹرانسپورٹ فعال کرنے کی اجازت دی جارہی ہے تاہم ایس او پیز کے اصولوں کے تحت بسوں میں مسافر کی تعداد نصف رکھی جائیگی اس صورت میں ٹرانسپورٹرز کو بھی تمام اصولوں کا سختی سے ادراک کرنا ہوگا کیونکہ یہیں سے وبادوبارہ کلک کر سکتی ہے جبکہ ان اضلاع میں تعلیمی اداروں میں بھی حاضری 50 فیصد ہی رکھی جائیگی تاکہ وباکے ممکنہ پھیلا کو دوبارہ پھیلنے سے روکا جا سکے۔ عوام کی سہولت کیلئے لگنے والی پابندیوں کی وجہ سے ملک کے اکثر اضلاع سے احتجاج بھی ہوئے کہ ان میں نرمی کی جائے تاکہ کاروبار اور بچوں کے تعلیمی سال کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے اسی کے پیش نظر پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ کیا گیا ساتھ میں جن علاقوں میں کورونا کیسز کم ہوئیں اس کو ملحوظ خاطر رکھا گیا۔ ویکسین لگانے کے بارے میں وفاقی وزیر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑے شہروں میں 15 سال سے زائد عمر کی 40 فیصد آبادی کو مکمل طور پر ویکسینیٹ کرنا ہے جو مشکل کام ضرور ہے لیکن اسے پورا کئے بغیر کوویڈ وباکو قابو کرنا اور اس سے عوام کو بچائے رکھنا ناممکن ہے، یہ ہدف حاصل کرلیں تو ستمبر کے آخر میں بندشوں میں مزید کمی ممکن ہے جبکہ 30 ستمبر تک ویکسین نہ لگوانے والے شہریوں کیلئے آہستہ آہستہ پابندیاں بڑھاتے چلے جائیں گے جس کا مقصد انہیں وباسے بچانے کیلئے ویکسین کی جانب راغب کرنا اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے محفوط رکھنا ہے، خوشخبری کیساتھ ہی وفاقی وزیر اسد عمر نے یہ بھی کہا کہ ابھی کورونا کی وبامکمل طور پر ختم نہیں ہوئی صرف اس میں کمی آئی ہے، ملک کے کئی ہسپتالوں میں اب بھی کئی مریض وینٹی لیٹر پر ہیں اور اسی بڑھتی طلب کی وجہ سے آکسیجن میں کمی آئی ہے ایسے میں کوشش کی جا رہی ہے کہ آکسیجن کی فراہمی میں رکاٹ نہ آنے پائے، کورونا کی چوتھی لہر میں اضافے کی اصل وجہ ہماری لاپرواہی اور ایس او پیز کو نظرانداز کرنا ہے، اب بھی احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ اب بھی خطرہ بہرحال موجود ہے۔ ایسے میں عوام کی جانب سے ویکسین کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے لیکن اس کے عمل میں مشکلات سے عوام پریشان ہیں، ویکسین کیلئے جاری ہونیوالے طریقہ کار میں مشکلات ہیں اور ان پیچیدگیوں کی وجہ سے عوام پریشانی میں مبتلا ہیں، حکومت کو چاہئے کہ رغبت دینے کے ساتھ ساتھ عوام کو سہولت بھی دینی چاہئے کہ وہ مشکلات کا شکار نہ ہوں اور ان کی ویکسین لگانے کے عمل کو سہل بنایا جا سکے۔