حکومت نے اپنی کرپشن چھپانے کیلئے نیب قانون میں ترمیم کی ہے، ہوتی

حکومت نے اپنی کرپشن چھپانے کیلئے نیب قانون میں ترمیم کی ہے، ہوتی

 

پشاور۔۔۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ نیب میں کسی ایماندار اور اصول پسند شخص کی تعیناتی ہوئی تو بیشتر وزرا جیل میں ہوں گے۔  نیب قانون میں حالیہ ترامیم اپنی کرپشن چھپانے کی حکومتی کوشش ہے۔موجودہ حکومت کے وزرا اور مشیر جھوٹ بولنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ نئے پاکستان اور ریاست مدینہ کے نام پر عوام کو سبز باغات دکھائے گئے۔

 

پی کے 67 پشاور میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ پانامہ سے لے کر پنڈورا تک کسی بھی لیکس میں اے این پی کے کسی ایک ذمہ دار اور کارکن کا نام نہیں۔دوسروں پر الزام لگانے والے تبدیلی کے دعویدار سب کے سب کرپشن میں ملوث ہیں۔  صادق اور امین وزیراعظم سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ علیمہ باجی نے سلائی مشین سیامریکہ میں جائیدادیں کیسے بنائیں؟  اگرسلائی مشین سے امریکہ میں جائیدادیں بن سکتی تو آج سارے درزی امریکہ میں صاحب جائیداد ہوتے۔ جعلی وزیر اعظم سے پوچھناچاہتے ہیں کہ بی آر ٹی  اوربلین ٹرین سونامی میں کتنی کرپشن کی؟ عوام پوچھنا چاہتی ہے کہ آٹے اور چینی سکینڈل میں ملوث لوگوں کو کیا سزا ملی؟ عمران خان اقتدار میں آنے سے قبل کرپشن کے الزام پر مخالفین سے استعفوں کا مطالبہ کرتے تھے آج جب اپنے وزرا اور مشیر کرپشن میں ملوث ہیں تو انکو بچانے کی کوشش ہورہی ہے۔

 

امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ ملک پر کٹھ پتلی حکومت مسلط کرکے پارلیمان اور حکومت کی بجائے فیصلے کوئی اور کررہا ہے۔  ملک میں ایسے حکمرانوں کو لایا گیا ہے جو مکمل طور پر بے بس ہیں۔بجلی مہنگی ہوگی یا سستی یہ فیصلہ آج حکومت کی بجائے آئی ایم ایف کررہی ہے۔ چینی کے نرخ کا فیصلہ متعلقہ اداروں کی بجائے جہانگیر ترین  کررہا ہے۔ غلہ امپورٹ ہوگا یا ایکسپورٹ یہ فیصلہ ضرورت کی بنیاد پر نہیں بلکہ کرپشن کی بنیاد پر ہورہا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کا جینا محال کردیا ہے۔ ڈالر کی قیمت اور بیرونی قرضوں میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔اشیا خوردونوش، پٹرول اور دوائیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہے۔حکومت عوام کو ریلیف دینے کی بجائے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کررہی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ  باچا خان سے لے کر آج تک اس مٹی کے حقوق کے علمبرداروں کو دیوار سے لگانے کی سازشیں کی گئی۔2008 میں تشدد بم دھماکوں اور کرپشن کے الزامات  سے اے این پی کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی۔ جب مخالفین کے تمام حربے ناکام ہوئے تو 2018 کے انتخابات میں جنات کے ذریعے اے این پی کو پارلیمان سے باہر رکھنے کی سازش کی گئی۔ اے این پی کو دیوار سے لگانے کیلئے حملوں اور الزامات سے لے کر ووٹ چوری تک ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ اے این پی کو ختم کرنے کے منصوبے بنانے والے دیکھ لے کہ باچا خان کے پیروکار آج بھی میدان میں کھڑے ہیں اور پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ اے این پی کو پارلیمان سے باہر رکھنے پختونوں کے حقوق پر ڈاکہ تھا۔  کمزور اور مرضی کی حکومت لاکر پختونوں کو اسلام آباد کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔مخالفین کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی کہ اے این پی جمہوریت، پارلیمان کی بالادستی اور آئین کی حکمرانی کی بجائے اسلام آباد اور پنجاب کی تابعداری کرے گی۔ اے این پی ہر حال میں انسانی حقوق کی بات کرے گی، سازشیں کرنے والے سن لیں کہ اے این پی کو پختونوں کے حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں کیا جاسکتا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ پڑوسی ملک افغانستان میں ایک دفعہ پھر دہشتگردی کی نئی لہرپھیل رہی ہے۔ افغانستان میں جاری بدامنی  کے اثرات خیبر پختونخوا اور باالخصوص ضم اضلاع میں دیکھنے کو آرہے ہیں۔بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور بھتے کیلئے کالز کی جارہی ہیں۔حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کا قوم کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔ آنے والے حالات کا مقابلہ کرنے اورقوم میں شعور اور بیداری کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ لوگوں کی جوق درجوق اے این پی میں شمولیت عوام کا سرخ جھنڈے پر اعتماد کا اظہار ہے۔اے این پی اپنی قوم اور مٹی کے حقوق کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔