سوات ایکسپریس وے پر چار انٹر چینجز کے نام تبدیل کرنے کا فیصلہ 

سوات ایکسپریس وے پر چار انٹر چینجز کے نام تبدیل کرنے کا فیصلہ 

پشاور(نیوز رپورٹر) خیبر پختونخوا کابینہ کی تشکیل کردہ کمیٹی نے سوات ایکسپریس وے کے چار انٹر چینجزکے نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ' یہ فیصلہ صوبائی وزراء پر مشتمل تشکیل کردہ کمیٹی نے پیر کے روز منعقدہ اجلاس کے دوران کیا.

 

خیبر پختونخوا کے وزیرِ محنت و ثقافت شوکت یوسفزئی نے اجلاس کی صدارت کی' صوبائی وزیرِ ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی، وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم شہرام خان ترکئی، منیجنگ و پراجیکٹ ڈائریکٹرز پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی اور پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسفزئی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

 

اجلاس میں بخشالی انٹر چینج کا نام تبدیل کرکے بخشالی شیخ ملی بابا انٹرچینج رکھنے جبکہ بابوزئی انٹر چینج کا نام تبدیل کرکے کاٹلنگ بابوزئی انٹر چینج، پلئی انٹر چینج کا نام تبدیل کرکے پلئی ملک بھاکو خان انٹرچینج اور ملک احمد بابا آلہ ڈھنڈ ڈھیرئی انٹرچینج کا نام تبدیل کرکے آلہ ڈھنڈ ڈھیرئی ملک احمد بابا انٹرچینج رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیرِ محنت و ثقافت شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ مذکورہ انٹر چینجز کے نام وہاں کے علاقوں اور تاریخی شخصیات سے جوڑنے کا مقصد مسافروں کے لئے آسانیاں پیداکرنے سمیت ان علاقوں کی تاریخی اہمیت بھی اجاگر کرنا ہے۔

 

سوات ایکسپریس وے کی اہمیت و ضرورت پر بات کرتے ہوئے وزیرِ ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ سوات موٹر وے فیز 1 کی تکمیل کے بعد اب منصوبے کی فیز 2 میں چکدرہ سے کالام فتح پور تک 80 کلومیٹر موٹروے کی تعمیر پر بھی کام کا اغاز ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کی بدولت شموزئی، بریکوٹ، مینگورہ، کانجو، ملم جبہ، سوات یونیورسٹی، شیر پلم، مٹہ اور کالام فتح پور سے متصل تمام دور دراز پسماندہ و پہاڑی دیہاتوں میں بھی ترقی کا نیا دور شروع ہوجائیگا۔

 

ڈاکٹر امجد علی کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر علاقوں سے بذریعہ موٹروے لنک ہوجانے پر نہ صرف یہاں کے عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر ہونگی بلکہ ان علاقوں میں سیاحت کو بھی کافی فروغ مل جائے گا۔