حکومت ضم اضلاع کوترقیاتی فنڈز کی فراہمی میں ناکام

حکومت ضم اضلاع کوترقیاتی فنڈز کی فراہمی میں ناکام

پشاور( عزیز بونیرے )خیبر پختونخوا حکومت ضم اضلاع کو ترقیاتی پروگرام میں شامل منصوبوں کیلئے فنڈز کی فراہمی میں ناکام ہوگئی، صوبائی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں قبائلی اضلاع کیلئے 100 ارب روپے مختص کیئے جس میں پہلی سہہ ماہی میں صرف چھ ارب روپے خرچ کیئے گئے ہے.


 

محکمہ خزانہ دستاویزات کے مطابق صوبائی حکومت نے قبائلی اضلاع کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں مختص بجٹ میں 13محکموں نے پہلی کوارٹر میں اپنی مختص بجٹ میں ایک روپیہ تک خرچ نہیں کیا۔

 

دستاویزات کے مطابق ضم اضلاع کیلئےمختص سو ارب روپے بجٹ میں اب تک 45 ارب روپے جاری کرنے کی مد میں ظاہر کیا، جس میں مختلف محکموں نے اب تک صرف چھ ارب روپے کے اخراجات کیئے ہے ۔

 

ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ45ارب روپے صرف کاعذات کے حد تک جاری کیئے ہے ان فنڈز کا ابھی تک محکمہ خزانہ سے پنچینگ نہ ہونے کی وجہ سے محکمہ استعمال نہیں کرسکتا ہے۔

 

محکمہ خزانہ نے رواں سال کے پہلے دن مراسلہ جاری کیا تھا کہ محکمہ خزانہ نے جاری ترقیاتی منصوبوں کو سو فیصد فنڈز جاری کردیا مالی بحران کی شکار خیبر پختونخوا حکومت نے رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں صرف اعداد و شمار پورا کرنے کے لئے منصوبے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیئے ہے جبکہ وفاق کی جانب سے صوبے کو بروقت فنڈز کی عدم اجرا کی وجہ سے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل منصوبوں کوفنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے التوا کا شکار ہے۔

 

محکمہ خزانہ دستاویزات کے مطابق صوبائی حکومت نے قبائلی اضلاع کیلئے این ایف سی ایوارڈ میں تین فیصد حصہ میں 34.654 ارب روپے مختص کیئے جس پر دیگر صوبوں کی جانب سے اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے قبائلی اضلاع کواین ایف سی ایوارڈ کا تین فیصد حصہ نہ مل سکا ۔

 

دستاویزات کے مطابق محکمہ اوقاف و اقلیتی امور کیلئے مختص 271 ملین روپے ،ڈسٹرک اے ڈی پی کیلئے مختص 2.400ارب روپے ،محکمہ اسٹیبلیشمنٹ اینڈ انتظامیہ کیلئے 34 ملین روپے ،محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے لئے مختص تیس ملین روپے، محکمہ انرجی اینڈ پاور کیلئے مختص2.226 ارب روپے ،محکمہ ماحولیات کیلئے مختص دس ملین ،محکمہ خوراک کیلئے مختص74 ملین روپے ،محکمہ اعلی تعلیم کیلئے مختص 1.411ارب روپے ،محکمہ ہاوسنگ کیلئے مختص پچاس ملین روپے،محکمہ پاپولیشن کیلئے مختص 122ملین روپے ،پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کیلئے مختص  65 ملین روپے،محکمہ ریلیف کیلئے مختص 1.641ارب روپے،سوشل ویلفیئر کیلئے مختص 386 ملین روپے،محکمہ ٹرانسپورٹ کیلئے مختص ساٹھ ملین روپے ،میںسے ایک روپیہ خرچ نہ ہوسکا،اس طرح محکمہ زراعت کیلئے2.899 ارب روپے مختص کیئے جس میں آب تک صرف  214 ملین روپے خرچ کیئے گئے ہے، ،محکمہ مال کیلئے مختص  580 ملین روپے صرف 99 ہزار روپے خرچ ہوئے۔

 

پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کیلئے مختص،3.025 ارب روپے میں سے 381ملین روپے خرچ ہوئے ،محکمہ ثانوی تعلیم کیلئے مختص 7.814 ارب روپے میں سے 502 ملین روپے،محکمہ خزانہ کیلئے مختص دس ملین روپے میں صرف  نو لاکھ سولہ ہزار روپے خرچ  ہوئے ،محکمہ جنگلات نے 478 ملین روپے میں آب تک 26ملین روپے خرچ کیئے،محکمہ صحت کیلئے مختص 5.857ارب روپے میں196ملین روپے ،جبکہ محکمہ داخلہ کیلئے مختص 1.127ارب روپے میں 180ملین روپے ،محکمہ انڈسٹری کیلئے مختص 1.371ارب روپے میں سے205ملین روپے ،محکمہ اطلاعات کیلئے مختص 83 ملین روپے میں سے 31ملین روپے ،محکمہ قانون کے لئے مختص 870 ملین روپے میں پانچ ملین روپے خرچ ہوئے۔ 

 

اس طرح محکمہ بلدیات کیلئے مختص 1.049ارب روپے میں 89ملین روپے ،محکمہ معدنیات کیلئے مختص اسی ملین روپے میں 1.9 ملین روپے ،ملٹی سیکٹر ڈویلپمنٹ کیلئے مختص 7.599 ارب روپے میں87ملین روپے ،روڈز کی مد میں مختص13.568ارب میں3.866ارب روپے ،محکمہ سپورٹس ٹورازم ارکیالوجی کیلئے مختص 2.5ارب روپے میں 450 ملین روپے، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کیلئے مختص 155 ملین روپے میں 49ہزار روپے ،اربن ڈویلپمنٹ کیلئے مختص 2.933 ارب روپے میں  286ملین روپے ،محکمہ ایری گیشن کیلئے مختص 4.864 ارب روپے میں 93ملین روپے خرچ کیئے ہیں ۔

 

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے قبائلی اضلاع کے ترقی کیلئے اے ائی پی پروگرام کے تحت فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے ضم اضلاع میں ترقیاتی کام سست روی کا شکار ہے ۔