حکومتی غیر سنجیدگی عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب ہے،سردار بابک

حکومتی غیر سنجیدگی عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب ہے،سردار بابک

پشاور(سٹاف رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری وپارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ عوام کو بتایا جائے کہ حکومت مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے کیا اقدامات اٹھارہی ہے؟ اے این پی کے کامیاب احتجاجی مظاہروں سے حکومت کو معلوم ہونا چاہیئے کہ عوام مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں۔

 

 

سردار حسین بابک نے کہا کہ حکومت عوام کے مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں یہی وجہ ہے کہ عوام کی زندگی میں آسانیوں کی بجائے مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ ناانصافی کا سلسلہ بند ہونا چاہیئے۔ اس صوبے کے ذرائع آمدن ملکی خزانے کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے آنے کے باوجود پچھلے نو دس سالوں سے رولز آف بزنس بنانا تاحال تاخیر کا شکار ہے۔ صوبے میں لازمی تعلیم کا قانون ابھی تک نافذ نہیں کیا گیا۔ آئین پر عمل درآمد کرانا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ ماورائے آئین اقدامات نے ملک اور باالخصوص خیبر پختونخوا کو پسماندگی کے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ صوبیکے طول و عرض میں ترقیاتی کاموں کا نام و نشان تک نہیں۔ ٹھیکداربرادری فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے احتجاجوں پر مجبور ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت مرکزی حکومت کے سامنے اپنے صوبے کی وکالت میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے، جس کا خمیازہ صوبے کی غریب عوام کو بھگتنا پڑھ رہا ہے۔ صوبے کو آئینی حقوق نہ دینے کے خلاف اے این پی ہر فورم پر آواز اٹھاتی رہے گی۔

 

انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تمام آمدورفت اور تجارتی راستوں کا کھلنا دونوں ممالک کی اقتصادی مضبوطی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ تجارتی راستوں کے کھلنے سے دونوں ممالک کے لاکھوں عوام کو روزگار اور کاروبار کے مواقع میسر آئیں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہر باشعور اور مہذب شہری اپنے آئینی حقوق کیلئے اٹھ کھڑا ہو۔ پرائی جنگ نے پختونوں کے اقتصاد، معاشرت اور تعلیمی تسلسل کو مفلوج بنا کر رکھ دیا ہے۔ اے این پی امن کی خواہاں ہے اور اس مقصد کیلئے ہماری قربانیوں کی دنیا گواہ ہے۔ اے این پی آئین کی بالادستی، عوام کی حکمرانی اور اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔تمام ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانیکیلئے کوشاں رہے گی اور پارلیمانی جدوجہد جاری رکھے گی۔

 

انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے خطے کے تمام ممالک کو سنجیدگی کے ساتھ کوشش کرنی ہوگی کیونکہ امن کے بغیر ترقی اور خوشالی ناممکن ہے۔