بدعنوان عناصر کے خلاف حکومتی احکامات 

بدعنوان عناصر کے خلاف حکومتی احکامات 

تحریر: سید ظفر علی شاہ باچا 

وزیراعلی خیبر پختونخوا کا کرپٹ اہلکاروں کو ایک ہفتے میں عہدوں سے ہٹانے کا حکم خوش آئند ہے اور امید ہے کہ ان احکامات کے بعد سرکاری اہلکار اپنا قبلہ درست کر لیں گے۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے سرکاری محکموں میں نچلی سطح پر بدعنوانیوں کی بہت ذیادہ شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے کام نہ کرنے والے اور مالی بے ضابطگیوں میں ملوث اہلکاروں کو ایک ہفتے میں عہدوں سے ہٹانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے  مختلف صوبائی محکموں کا اجلاس بلایا جس میں متعلقہ صوبائی وزرا  اور انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔ سرکاری اہلکاروں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ صوبائی وزرا اور سیکرٹریز کو بدعنوان اور نااہل سرکاری افسران اور اہلکاروں کی فہرستیں تیار کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ 

 

اس سے پہلے کسی بدعنوانی میں ملوث پائے جانے والے افسران کی سزا تبادلہ یا کچھ دنوں کیلئے معطلی ہوتی تھی جسے سزا نہیں کہا جاسکتا کیونکہ یہ بدعنوانی کو روکنے کیلئے ناکافی سزا تھی۔ اب اگر واقعی نوکری سے برخاست کر دیا گیا تو کوئی اہلکار کرپشن کرنے سے پہلے سو بار سوچے گا اور تھوڑے سے فائدے کیلئے اپنا امیج اور نوکری دائو پر نہیں لگائے گا۔ باعزت عہدوں پر بیٹھے ہوئے افسران جب تھوڑی سی بھی بدعنوانی کے مرتکب ہوتے ہیں تو نہ صرف اپنی عزت و وقار کھو بیٹھتے ہیں بلکہ پورے محکمے کو داغدار بنا دیتے ہیں۔ برسوں لگ جاتے ہیں عزت کمانے میں لیکن وہ عزت اگر چند ٹکوں کے عوض گنوا دی جائے تو واپس کبھی نہیں آتی اور پھر داغ دار ماضی کیساتھ اپنا مستقبل بھی گنوا دیتا ہے۔ ہر سیاسی جماعت برسر اقتدار آنے سے پہلے کرپشن سے پاک معاشرے کے نعرے لگاتی ہے لیکن جب برسر اقتدار آتی ہے تو اپنا منشور بھول جاتی ہے حالانکہ کرپشن پر قابو پانے کیلئے حکومت کے پاس اینٹی کرپشن، نیب اور ایف آئی اے جیسے ادارے موجود ہیں صرف انہیں ٹاسک دینے کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کیلئے لائحہ عمل ترتیب دینا ہوتا ہے۔ ایف آئی اے ایک ایجنسی ہے اس کا کام مختلف ہے اس کے وسائل اوردائرہ اختیار بھی زیادہ ہیں۔ یہ پرائیویٹ کسیز بھی نمٹا لیتا ہے۔ نیب نیشنل اداروں کو دیکھتی ہے جبکہ اینٹی کرپشن صوبائی سطح کی بدعنوانیوں کی روک تھام کیلئے موثر ادارہ ہے، اگر ان اداروں کو اختیارات دے کر مضبوط بنا دیا جائے اور ان تک عوام کی رسای آسان بنا دی جائے تو کوئی اہلکار کسی بھی قسم کی بدعنوانی کا نہیں سوچے گا۔ انٹیلی جنس اداروں، نیب، سپیشل برانچ اور ایف آئی اے کو بدعنوانیوں کے بارے میں اگر جانکاری ہوتی بھی ہے لیکن قانونی اور حکومتی پالیسیاں اور سیاسی اثرورسوخ رکاوٹ بن جاتی ہے۔ 

 

کرپشن یا بد عنوانی صرف رشوت اور غبن کا نام نہیں بلکہ اپنے عہد اور اعتماد کو توڑنا، اپنی ذمہ داری دیانتداری سے نہ نبھانا یا مالی اور مادی معاملات کے ضابطوں کی خلاف ورزی بھی بدعنوانی کی شکلیں ہیں، ذاتی یا دنیاوی مطلب نکالنے کے لئے کسی مقدس نام کواستعمال کرنا بھی بدعنوانی ہی شمار ہوتی ہے۔  کرپشن ایک ایسا مرض ہے  جس نے ہماری سماجی، سیاسی اور روحانی زندگی تک کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ 
یہ ایک ایسی لعنت ہے کہ اگر ایک بار یہ کسی معاشرہ میں شروع ہو تو پھیلتی ہی جاتی ہے یہاں تک کہ معاشرہ کی اخلاقی صحت کے محافظ مذہبی اور تعلیمی ادارے بھی اس کا شکار ہو جاتے ہیں، کوئی نگران اگر خود بددیانت ہو تو لوٹ مار میں اپنا حصہ مانگ کر کرپشن میں معاونت کرتا ہے جس سے بربادی کا عمل اور بھی گہرا ہو جاتا ہے اور اس کے اثرات تادیر اثر انگیز رہتے ہیں۔ 

 

ایک ایسا معاشرہ جو ایک منفرد اور شاندار دین پر ایمان رکھتا ہے لیکن جن اصولوں کی تعظیم کرتا ہے اس پر عمل نہیں کرتا، نمازوں اور حج کی رسوم پر مبنی نمائشی اسلام سے احساس ندامت کو دھو لیتے ہیں تاکہ ہر نئی صبح ہلکے پھلکے ہو کر پھر سے وہی کرنے نکلیں جو کل دھویا تھا لیکن اس کا نہ انفرادی فائدہ ہے نہ ہی اجتماعی جب تک ان اعمال میں سچائی اور خلوص شامل نہ ہو۔ حکومت نے اس بار بدعنوانی کے خاتمے کا تہیہ کر لیا ہے تو امید ہے کہ اس کے اچھے نتاج برآمد ہوں گے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ کرپشن کے خلاف جنگ کا تسلسل کسی طور ٹوٹنا نہیں چاہیے۔