حکومت میڈیا کو زنجیروں میں جکڑنا چاہتی ہے، اسفندیارولی خان

 حکومت میڈیا کو زنجیروں میں جکڑنا چاہتی ہے، اسفندیارولی خان

پشاور(شہباز نیوز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ پی ایم ڈی اے قانون کے ذریعے حکومت میڈیا کو زنجیروں سے باندھنا چاہتی ہے۔پاکستان میں میڈیا پر جتنا دبائو آج ہے، ماضی میں آمرانہ دور میں بھی نہیں دیکھا گیا۔پاکستان میں میڈیا کنٹرول کرنا جمہوریت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

 

باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی سربراہ اسفندیارولی خان نے مجوزہ قانون کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کا ہر ورکر آج چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ وہ آزادی سے سانس بھی نہیں لے سکتے۔اس قانون کے تحت صحافیوں سے ہائیکورٹ میں اپیل تک کا حق چھینا جارہا ہے، کوئی صحافی خوف میں سچ نہیں بولے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ سچ کو چھپایا نہیں جاسکتا، جتنی تنقید ہم پر ہوئی شاید ہی کسی پر ہوئی ہو لیکن ہم آزاد میڈیا کے ساتھ کھڑے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو کیوں گزشتہ چھ ماہ سے ایمپلیمینٹیشن ٹریبونل فار نیوز پیپرز ایمپلائز (آئی ٹی این ای) کا کوئی چیئرمین نہیں، پریس کونسل آف پاکستان کا چیئرمین موجود نہیں۔اگر حکومت میڈیا ورکرز کی ہمدرد ہے تو موجود اداروں میں بھرتیاں ابھی کیوں التوا کے شکار ہیں؟ کون سا قانون ایک صحافی پر 10کروڑ اور میڈیا ہاؤس پر 25کروڑ روپے جرمانے کا سوچ سکتا ہے؟ اسی ڈر سے سچ بھی دب جائیگا۔حکومت میں بیٹھے وزراء سن لیں، جو آپ گزرے ہوئے کل کو کہہ رہے تھے، آنیوالے کل کو بھی کہیں گے،جمہوریت کا مذاق نہ اڑائیں۔

 

سربراہ اے این پی نے کہا کہ میڈیا نے جتنا عمران خان کو سپورٹ کیا شاید ہی کسی کو کیا ہو، آج اسی کا صلہ دیا جارہا ہے، میڈیا کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔اراکین پارلیمنٹ ، انسانی حقوق کی تنظیموں، بار ایسوسی ایشنز اور سول سوسائٹی اراکین اسے کالا قانون کہہ رہے ہیں صرف حکومت کو یہ درست فیصلہ لگ رہا ہے۔آزاد میڈیا کی اس جدوجہد میں ہم صحافی برادری کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کا جو فیصلہ ہوگا ہم حمایت کریں گے۔