امن وامان کی صورتحال بہترنہ ہونے پرگرینڈ جرگہ نے بھی اسلام آباد مارچ کی دھمکی دیدی  ​​​​​​​

امن وامان کی صورتحال بہترنہ ہونے پرگرینڈ جرگہ نے بھی اسلام آباد مارچ کی دھمکی دیدی ​​​​​​​


عزیز نونیرے

ملاکنڈ ڈویژن کسٹم ایکٹ کے نفاذ کے خلاف اور امن امان کی حالیہ صورتحال پر سیاسی جماعتیں یکجا ،جماعت اسلامی کی جانب سے طلب گرینڈ جرگہ میں تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہوگئے کہ ملاکنڈ ڈویژن کو اسی سال کیلئے ٹیکس فری زون قرار دیں دیا جائے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن کے عوام دو عشروں سے بدامنی کے ماحول میں زندگیاں گزارنے پر مجبورہیں، بہت خون بہہ گیا، اب لوگ مزید قربانی کا بکرا بننے کو تیار نہیں۔ قوم سمجھ رہی ہے کہ حالات کا ذمہ دار کون ہے، اسی احساس نے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اختلافات سے بالاتر ہو کر گرینڈ جرگہ کی صورت میں ایک مجلس میں بیٹھنے کا موقع فراہم کر دیا۔ ہمارا مطالبہ امن ہے جسے یقینی بنانا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مالاکنڈ ڈویژن سمیت خیبرپختونخوا میں لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ مالاکنڈ میں ایک نسل خوف کے سائے تلے پروان چڑھی، آنے والی نسلوں کا مستقبل پرامن ہونا چاہیے۔ لوگوں کو مجبور نہ کیا جائے کہ وہ حکمرانوں کے گریبان میں ہاتھ ڈالیں۔ حالات بہتر نہ ہوئے تو اسلام آباد یا پشاور کا رخ کیا جائے گا'جرگہ سے خطاب کرتے ہو شرکا نے کہا کہ سیلاب کے نتیجے میں لوگوں کے مکانات، باغات، کاروبار تباہ ہو گئے، مگر مالاکنڈ کے محنتی، جفاکش لوگوں نے محنت کر کے انھیں دوبارہ آباد کر لیا، تاہم بدامنی سے جو قیمتی جانیں چلی گئیں وہ دوبارہ نہیں آ سکتیں، بیس سالوں سے یہ خطرناک کھیل جاری ہے، اب لوگ مزید خون دینے کو تیار نہیں اور لوگوں کی یہ ذمہ داری بھی نہیں کہ بندوقیں اٹھا کر خود چوکوں چوراہوں کی حفاظت کریں۔ حکومتیں اور ادارے اپنی ذمہ داری قبول کر کے عوام کو تحفظ فراہم کریں۔ انھوں نے کہا کہ گرینڈ جرگہ میں سیاسی جماعتوں، علما،وکلا، تاجروں سمیت تمام مکتبہ ہائے فکر نے شرکت کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ امن کے قیام کے لیے اپنے تمام اختلافات بالائے طاق رکھنے کو تیار ہیں۔ ہم لڑائی نہیں چاہتے، ہمارا بنیادی مطالبہ امن ہے جو آئین پاکستان کی رو سے جائز اور حق پر مبنی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مالاکنڈ حقوق تحریک کو ختم نہیں ہونے دیں گے، آئندہ دنوں میں مزید جرگے منعقد کیے جائیں گے تاکہ حکمرانوں تک مطالبات پہنچ جائیں اور اتمام حجت ہو جائے۔امیر جماعت نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن کو ٹیکس فری زون بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر اب حکومت کا کہنا ہے کہ 2023 سے یہاں دوبارہ ٹیکسز لاگو کیے جائیں گے، عوام کو یہ منظور نہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ علاقہ کو 3000 تک ٹیکس فری زون قرار دیا جائے۔ علاقہ کے عوام نے بدامنی، آئی ڈی پیز اور سیلابوں کی صورت میں تباہی دیکھی، لوگوں کی معیشت تباہ ہو گئی، یہاں کے بیشتر افراد باہر مزدوری کر کے پہلے چالیس، پچاس ہزار روپے ماہانہ گھر بھیجتے تھے اب ایسا بھی ممکن نہیں رہا، مہنگائی نے لوگوں کا سب کچھ نگل لیا، اگر کوئی باہر پندرہ، سولہ گھنٹے بھی کام کرتا ہے تو اپنے گھر بمشکل پندرہ بیس ہزار بھیج سکتا ہے، لہذا آئندہ 80برسوں تک علاقہ کے عوام کسی قسم کا ٹیکس دینے کو تیار نہیں، حکومت عوام کا جائز مطالبہ سنے اور پوراکرے۔

 

جرگہ سے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ اور پختونخوا میں جاری بدامنی پر جرگہ طلب کرنے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت ہم پر ٹیکس لگانا چاہتے ہے تو ہمیں ریاست کیا دیگا ،انہوں نے کہا کہ ہم تسلی دیتے ہے کہ ہم ملاکنڈ میںکسی قسم ٹیکس نافذ کرنے نہیں دینگے ،پختون کا سب سے بڑا مسلہ دہشت گردی ہے ،یہاں پر اس بد امنی کی وجہ سے تجارت ختم ہوکر رہ گئی لوگوں کا معاشی قتل عام جاری ہے ،یہ بدامنی کو ئی سانحہ یا حادثہ نہیں ہے یہ ایک منصوبہ ہے بدامنی کے حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی کا موقف بلکل واضح ہے یہ بدامنی مصنوعی ہے ،اگر ٹیکس کے حوالے سے معاہدہ ہوا سب سے بڑا معاہدہ اس ملک میں آئین ہے اگر ریاست پاکستان اس آئین پر پختونوں کے ساتھ اس آئین پر عمل درامد کررہا ہے ،سب سے پہلے ہمیں اپنا گھر بنانا ہوگا آئین کی بالادستی ،صوبائی خود مختاری کیلئے جدوجہد کرنا ہوگا کتنی سیاسی جماعتوں کی آئین اور منشور میں صوبائی خود مختاری کا ذکر ہے ،ہمیں اپنی وسائل پر اپنا حق دینے پر کس طرح پاکستان کمزور ہوگا جب تک ہمیں اپنا حق نہیں ملیگا ہم کسی قسم کے ٹیکس لاگوں کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ،آج ہمارے گیس پر پورا پاکستان چل رہا ہے ،ہمارے صوبے میں سب سے سستی بجلی پیدا کررہا ہے اور بجلی بل میں کتنی ٹیکس ہم حکومت کو ادا کررہا ہے ،ہمارے معدنیات کو دیکھا جائے تو بلاسٹنگ کے ذریعے نکال رہے ہیں جس میں اسی فیصد کا معدنیات ضائع ہورہا ہے حکومت نے کبھی اس صوبے کے وسائل کو محفوظ طریقے سے نکالنے کے کوئی طریقہ کار نہیں ہے ،عوام کو ان تمام مشکلات کو حل کرنے کیلئے ایسے نمائندہ لوگوں ایوان میں بھیجاجائے جو اس صوبے کے عوام کی حقوق کیلئے بات کرسکتا ہے ،اس صوبے کے عوام یہاں پر نظام کو تبدیل کرسکتا ہے ،آج پورا ملاکنڈ کو طالبان کے حوالے کردیا ہے تمام اضلاع کیلئے انہوں نے اپنی نمائندگان اعلان کیا مگر دوسری طرف حکومت کی خاموشی اور صوبائی ترجمان کی بیانات کو دیکھا جائے عوام خود فیصلہ کریں ،ہمارا گناہ کیا ہے ہم امن کی بات کرتے ہے جو ہمارے قوم کی ضرورت ہے ،ہمارا اقتصاد کس طرح ترقی کریگا ہمارے پختون بلٹ پر تمام تجارتی راستے بند کیئے جارہے ہیں ایسے حالات میں ہمارا معاشی ترقی کس طرح ہوگا ،ان تمام مسائل کو حل کرنے وزیراعلی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیا جائے اور ان تمام مشکلات کو حل کرنے کیلئے حکومت سے بات چیت کریں
ملاکنڈ گرینڈ جرگہ میں شریک تمام سیاسی جماعتوں ،سول سوسائٹی،وکلا برادری،تاجربرادری ،متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ ملاکنڈ ڈیژن میںامن سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے 


جرگہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک'، بہادر خان، صوبائی صدر پاکستان پیپلزپارٹی نجم الدین خان، رہنما جمعیت علما اسلام حاجی احمد زادہ، سابق گورنر خیبرپختونخوا انجینئر شوکت اللہ، سابق ممبران قومی اسمبلی صاحبزادہ طارق اللہ، صاحبزادہ یعقوب خان، بختیار معانی،سابق سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بخت جہان خان سمیت مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین، علما، وکلا، تاجر رہنما، سماجی و فلاحی تنظیموں کے نمائندگان اور دیگر طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی'جرگے میں اس عزم کا اظہار کیا گیاکہ مالاکنڈ ڈویژن کے حقوق کے حصول موجودہ اور سابق ممبران اسمبلی پر مشتمل کمیٹی قائم کرکے جدوجہد کریں گے، وزیر اعلی محمود خان کا تعلق بھی ملاکنڈڈویژن سے ہے تحریک میں شامل ہوکر جائزمطالبات کے لیے ہمارا بھر پور ساتھ دیں'شرکائسی پیک میں چکدرہ تا گلگت براستہ چترال شامل کیا جائے'مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں تمام سیاسی جماعتیں احتجاجی تحریک چلائیں گی جس میں شٹر ڈائون، پہیہ جام اور گلی گلی بلاک کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جائیگا