گرے لسٹ، عالمی برادری کا اعتماد اور تجارتی روابط میں اضافہ

گرے لسٹ، عالمی برادری کا اعتماد اور تجارتی روابط میں اضافہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان کی نئی قیادت نے مشکل وقت میں مدد کرنے پر پاکستان کے کردار کا اعتراف کرتے ہوئے علاقائی روابط کے حامل منصوبوں پر تعاون کے ساتھ ساتھ یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی کو پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جمعرات کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے اپنے دورہ افغانستان کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وقت کی قلت کے باعث چند طے شدہ ملاقاتیں نا ہو سکیں، ان کے ساتھ ٹیلی فون پر بات ہوئی (تاہم) طالبان وزیر اعظم ملا حسن اخوند سے ملاقات میں پیدل آمدورفت کے لئے بارڈر اوقات میں چار گھنٹے اضافے اور تجارت کے لئے سرحد چوبیس گھنٹے کھلی رکھنے جبکہ گیٹ پاس ختم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ شاہ محمود قریشی کے مطابق افغان کاروباری شخصیات کو پاکستان آمد پر سیکیوڑٹی کلیئرنس کے بغیر تیس دنوں کا ویزہ جاری کیا جائے گا، جبکہ افغانستان کی مدد کے لئے پاکستان کے تمام پھل اور سبزیوں کو ڈیوٹی یا ٹیکس عائد کئے بغیر امپورٹ کرنے کی اجازت ہو گی۔ دنیا بھر میں اس وقت کورونا کی عالمی وبائ، شدت پسندی و بدامنی پر مبنی واقعات میں اضافے، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات، کمزور ہوتی جمہوری اقداروں اور سیاسی عدم استحکام، افراط زر، مہنگائی، بے روزگاری کی شرح میں اضافے، شام، عراق، یمن، فلسطین، کشمیر اور خصوصاً پڑوسی ملک افغانستان میں غیر یقینی صورتحال اور ملکِ عزیز کو درپیش داخلی و خارجی مشکلات کے پیش نظر اس نئی پیشرفت کا خیرمقدم کیا جانا چاہئے تاہم اس سلسلے میں درپیش مشکلات، چیلنجز بعض ناگزیر زمینی حقائق سے صرف نظر بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مشکلات اور چییلنجز سے قطع نظر ان حقائق میں سے ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ گذشتہ بیس سالوں سے پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ تو افغانستان میں چالیس سال سے زائد عرصہ سے جنگ و شورش جاری ہے، اس کے اثرات بھی سب کے سامنے ہیں تاہم دونوں ممالک کے عوام بالعموم جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں پاک افغان بارڈر کے قریب دونوں اطراف آباد قبائل باالخصوص سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، ان لوگوں میں ایک عرصہ سے بے چینی پائی جاتی ہے، سرحد پر باڑ لگانے کے فیصلے کے وقت سے لے کر خصوصاً سرحد کے اِس پار وقتاً فوقتاً احتجاجوں کا سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے، متاثرین کے مسائل الگ ہیں، بارڈر پر کسٹم کلیئرنس میں تاخیر کے باعث پھل اور سبزیوں کے خراب ہونے کی خبریں تواتر سے سامنے آتی رہی ہیں، تجارتی راستوں کے ساتھ ساتھ آمدورفت میں سہولیات کا مطالبہ آج بھی کیا جا رہا  ہے تاہم بارڈروں کی بندش اور انہیں کھولنے کے حوالے سے بھی یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، کبھی کورونا تو کبھی بدامنی اور کبھی کشیدگی کے باعث سرحدوں کی بندش ایک معمول ہے۔ قندہار کے باغات کے مالکان، جن کے پھل باغات میں پڑے پڑے گل سڑ رہے ہیں، اور افغانستان کے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی نالاں ہیں، ایک انجانا سا خوف اور عدم تحفظ کا احساس ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ غرض مسائل بہت ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں حکومتوں کی جانب سے خلوص نیت اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے تو ان پر قابو پایا جا سکتا ہے، ان میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ دونوں ممالک میں اگر بدامنی کا خاتمہ اور امن و سیاسی استحکام کو یقینی بنایا جائے اور عوامی سطح پر رابطوں میں اضافہ کیا جائے تو یقیناً تجارتی روابط کو اس صورت میں بڑھایا جا سکتا ہے جس کے ثمرات سے نا صرف دونوں حکومتیں بلکہ دونوں پڑوسی ممالک کے عوام بھی مستفید ہو سکتے ہیں۔ فی الحال تو پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے جبکہ افغانستان کو عالمی برادری کا اعتماد جیتنے کا چیلنج درپیش ہے، اس ضمن میں امید اور دعا ہی کی جا سکتیی ہے کہ دونوں ممالک مستقبل قریب اس چیلنج سے سرخرو ہو کر نکلیں گے۔