بڑھتے ہوئے معاشی سماجی مسائل 

بڑھتے ہوئے معاشی سماجی مسائل 

حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں آج پاکستان نہ صرف معاشی، سماجی، سیکورٹی،  انتظامی اور دیگر مسائل کا گڑھ بن چکا ہے بلکہ عالمی سطح پر تنہائی کا شکار بھی ہے۔ آج بھی اقتدار پرست سیاسی، عسکری اور مذہبی رہنما ایک دوسرے کیساتھ مشت و گریبان ہیں جس کے باعث پہلے سے موجود سیاسی تناو اب مکمل طور محاذ آرائی میں تبدیل ہو چکا ہے اور اس سیاسی محاذ اور سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں ملک کو درپیش   مسائل حل ہونے کی بجائے مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف حکمرانوں کی غلط پالیسیوں بالخصوص دفاعی طالع آزمائی نے ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے روند ڈالا ہے اور آج حالات یہ ہیں کہ ملک کے زیادہ تر وسائل اور محصولات قرضوں کی ادائیگی نہیں بلکہ دفاعی مقاصد کے لئے لئے گئے قرضوں کے سود کی ادائیگیوں میں چلے جاتے ہیں۔ ملک کے ترقیاتی پروگرام کے لئے مختص زیادہ تر وسائل غیر ترقیاتی اخراجات کے مد میں صرف ہوتے ہیں۔ ملک کے سوشل سیکٹر کو ترقی دینے کے لئے مختص فنڈز نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج ملک کے زیادہ تر لوگ تعلیم صحت اور پینے کے صاف پانی کی سہولیات سے محروم ہیں۔ ملک میں غربت ، مہنگائی اور بے روزگاری میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں عام لوگوں بالخصوص سیاسی کارکنوں میں بھی برداشت کا مادہ کم ہوتا جا رہا ہے، 60 اور 70 کے دہائی میں عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صورتحال نے امریکہ اور اتحادیوں کو ایشیا میں قدم جمانے کے مواقع فراہم کر دیئے اور اس بدلتی ہوئی صورتحال سے امریکہ نے بھر پور فوائد اٹھانے کے لئے سعودی عرب اور پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سے مذہبی انتہا پسندی کو بھاری سرمایہ کاری سے فروغ دیا ۔ پاکستان کے فوجی آمر ضیا الحق نے بھی امریکہ کے از کار خیر میں حد سے بڑھ کر سہولت کاروں کے فرائض سر انجام دئے اور پاکستان میں متنازعہ حدود آرڈیننس کے ذریعے روشن خیال، ترقی اور جمہوریت پسند طبقے کی زندگیاں اجیرن کردی ہے۔ ضیا الحق کے دور میں امریکی اتحادیوں کی خوشنودی کے لئے نافذ کردہ یا متعارف کردہ رحجانات کے نتیجے میں امن کے خواہاں افراد یا ریاستی عملداری کو قائم رکھنے والے پولیس اور دیگر سویلین اداروں کے اہلکاروں کو نہایت بے دردی کے ساتھ قتل کیا جا رہا ہے۔ ضیا الحق کے مارشل لاء کے دور میں نافذ کردہ حدود آرڈیننس اور دیگر متنازعہ قوانین کے نفاذ کے بعد نہ صرف غیر مسلم اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لوگ بلکہ روشن خیال، تعلیم یافتہ، ہنرمند، ترقی اور جمہوریت پسند طبقات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگ بھی بیرونی ممالک جا چکے ہیں۔ اب حالات یہ ہیں کہ بے روزگار نوجوان ملک سے فرار ہونے کی کوشش میں ہیں۔ سرکاری اداروں میں معمولی سی نوکری بلکہ کلاس فور کے ایک ایک عہدے کے لئے ہزاروں درخواستیں دینے والوں میں اعلی تعلیم یافتہ نوجوان بھی   شامل ہوتے ہیں۔ ان حالات میں عام لوگوں کی معاشی مشکلات کے باعث اب لوگوں میں نفسیاتی بیماریاں عام ہو گئی ہیں اور یہ نفسیاتی مریض بعض اوقات حدود پار کرکے نہ صرف غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکتوں بلکہ توہین مذہب کے بھی مرتکب ہوتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ شرح تعلیم تو بڑھتی جا رہی ہے۔ سرکاری سکولوں کی تعداد سے نجی سکولوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ ہر مسجد کے خطیب نے دو دو مدارس کھول رکھے ہیں۔ کسی وقت میں پورے خیبر پختونخوا میں ایک ہی یونیورسٹی تھی مگر اب صوبے کے تمام اضلاع میں دو دو یونیورسٹیاں قائم ہیں ۔ مساجد اور مدارس میں مفتیوں اور قاریوں کی ٹولیاں موجود ہیں مگر وہ معاشرے کے بنانے کی بجائے بگاڑ پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ اب وقت ہے کہ نہ صرف حکمران بلکہ تمام مذھبی، سماجی، سیاسی،کاروباری اور دیگر طبقات کے رہنماء آپس میں مل بیٹھ کر معاشرے کے بنانے کے لئے متفقہ لائحہ عمل طے کریں بصورت دیگر مملکت عزیز پر بہت بڑے دن آنے کے خطرات ہیں۔