عوام کی بڑھتی مشکلات اور نیپرا اور اوگرا کا ایکا 

عوام کی بڑھتی مشکلات اور نیپرا اور اوگرا کا ایکا 

نیپرا اور اوگرا کی جانب سے عوام پر ایک اور بجلی گرانے کی تیاری کی جانے لگی ہے، گیس کی قیمت میں اضافہ کیلئے سوئی ناردرن گیس جبکہ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے نیپرا کے پاس اکتوبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کرنے کی درخواست جمع کر رکھی ہے ایسے میں عوام جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں مزید تباہی کے دہانے پہنچ جائیں گے۔ عوام اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کے بڑھنے سے پریشانی کے عالم میں ہیں ساتھ میں کاروباری مراکز میں بھی ہوُ کا عالم ہے ایسے میں ہر دو صورتوں میں عوام ہی نشانہ بن رہے ہیں۔ سوئی ناردرن گیس کی جانب سے اوگرا کو دی گئی درخواست میں گیس کی موجودہ اوسط قیمت 576 روپے 32 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر ہے جسے بڑھا کر1484  روپے7  پیسے مقرر کرنے کی درخواست کی گئی ہے اور ساتھ ہی ایل پی جی ائیرمکس پراجیکٹ کی مد میں0.47  روپے اور روپے کی قدر میں کمی کے فرق کی مد میں56  روپے 3 پیسے اضافہ کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ محکمہ کی جانب سے مالی سال کیلئے ایل این جی کاسٹ آف سروس کا تخمینہ300  روپے اور94  پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو لگایا گیا ہے اور219  ارب89  کروڑ سابقہ سالوں کا شارٹ فال بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ مجموعی طور پر شارٹ فال کا تخمینہ تقریباً312  ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ برقیات نے بھی پنجے دکھانے شروع کر دیے ہیں، جو بھی ہو ہر سو عوام کو ہی لوٹنے کا بازار گرم کر دیا گیا ہے۔ گیس کے علاوہ نیپرا کے پاس اکتوبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کرنے کی درخواست جمع کرا دی گئی ہے، جواز یہ پیش کیا گیا کہ اکتوبر میں ڈیزل سے 25 روپے22  پیسے اور فرنس آئل سے22  روپے21  پیسے فی یونٹ مہنگی بجلی پیدا کی گئی، پانی سے بجلی کی پیداوار 23.26 فیصد، کوئلے سے 16.69 فیصد، فرنس آئل10.88  اور ڈیزل سے0.51  فیصد رہی، گزشتہ ماہ گیس سے9.67  اور ایل این جی سے23.93  فیصد بجلی پیدا کی گئی۔ یہ سب توانائی کے حصول کے ذرائع ہو سکتے ہیں ایسے میں ان کا بوجھ کم از کم عوام پر نہیں ڈالاجانا چاہئے تھا لیکن اس کے باوجود سارے کا سارا بوجھ عوام پر لاد دیا گیا ہے جو بوجھ اٹھانے کے قطعی متحمل نہیں۔ گرمیوں میں بجلی اور سردیوں میں گیس لوڈ شیڈنگ نے پہلے ہی عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے ایسے میں مہنگائی نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے، اس بار عوام پر بوجھ کم کرنے کی باری تھی لیکن الٹا سارے کا سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ستم ظریفی یہ ہے کہ بجلی و گیس غائب اور بل تواتر کے ساتھ خوب بھاری بھاری وصول کئے جا رہے ہیں۔ نیپرا کو کی جانے والی حالیہ درخواست کی منظوری کی صورت میں صارفین پر 60 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا جو زیادتی ہے۔ اس بوجھ کو عوام کی بجائے حکام کو اپنے سر لینا چاہئے تھا۔ محکمہ برقیات کی جانب سے اپنے پیٹی بند بھائیوں کو فری بجلی کی سپلائی کا سسٹم ترک کرتے ہوئے اور عوام کو سہولت کی خاطر فیصلے کرنے چاہیے تھے نا کہ عوام کو زندہ درگور کر دیا جائے۔ انتظامیہ کی نااہلی کے بدولت سبزیوں، فروٹ، انڈے، گھی، چائے اور دالوں سمیت مختلف اشیاء خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، اب بجلی اور گیس کے مسائل نے مزید بوجھ لاد رکھا ہے۔ ذخیرہ اندوزوں اور مہنگائی کا بازار گرم کرنے والوں کے خلاف آپریشن ناکام اور موثر اقدامات نہ ہونے کے باعث عوام کے لئے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے ایسے میں دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھنے کے ساتھ ساتھ ریڈار سے غائب رہنے والے بیکریز مالکان کی بھی چاندی ہو گئی، انہوں نے بیکری آئٹمز کی قیمتوں میں 20 روپے سے لے کر 200 روپے فی کلو تک اضافہ کر دیا ہے اور تقریباً تمام آئٹمز کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ حکومت کو ان معاملات میں اپنی رٹ کیوں چیلنج ہوتی نظر نہیں آ رہی؟ اگر یہ اضافہ خودساختہ ہے تو حکومت کو اس پر ایکشن لینا چاہئے لیکن اگر حکومتی آشیرباد شامل حال ہے تو اسے عوام دشمن اقدامات قرار دیا جا سکتا ہے۔ حکومت کو مزید مہنگائی سے اجتناب برتتے ہوئے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے فیصلے کرنے ہوں گے بصورت دیگر عوام اپنا فیصلہ جلد سنانے والے ہیں، ایسا فیصلہ جس سے حکومت کی چولیں ہل سکتی ہیں۔