کورونا کے بڑھتے سائے اور فریضہ حج 

کورونا کے بڑھتے سائے اور فریضہ حج 

تحریر: مولانا خانزیب

گذشتہ ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ سے پوری دنیا ایک عالمی وباء کی زد میں ہے جس نے انسانی سماج سے متعلق ہر چیز کو متاثر کیا، خواہ وہ دنیاوی معاملات ہوں یا مذہبی رسومات و عبادات، اسلامی عبادات کے حوالے سے سب اھم عبادت حج بھی ان اثرات سے محفوظ نہ رہ سکا، (اگرچہ خبر ہے کہ امسال سعودی حکومت نے حج کرانے کا اعلان کیا ہے) حج پر جانا اور مکہ مدینہ کے مقامات مقدسہ کی زیارت کرنا ہر مسلمان کی ایک دلی آرزو ہوتی ہے اور کم از کم زندگی میں ایک بار حج پر جانا زندگی کا سب سے پرسکون لمحہ محسوس کرتا ہے۔

 

پہلے زمانے میں جب ذرائع آمد و رفت انتھائی پسماندہ تھے تو بہت کم لوگ ،سمندر ، پیدل ،یا اونٹ کی سواری کے ذریعے حج کیلئے پہنچ جاتے تھے مگر جب سے ترقی ہوئی اور گاڑی اور ہوائی جہاز آئے تو پوری دنیا سے حج کیلئے مسلمانوں کا اژدھام بن گیا اس انتہائی رش کو قابو کرنے اور لوگوں کی تعداد پوری دنیا سے ایک محدود اندازے میں لانے کیلئے سعودی حکومت نے ہر ملک کیلئے مخصوص کوٹہ سسٹم متعارف کرایا جس میں ہر ملک سے ایک محدود اندازے میں ہر سال حجاج جاتے ہیں مگر اس سال سعودی عرب کے علاہ باقی دنیا سے مسلمان فریضہ حج ادا نہیں کرسکیں گے کیونکہ کورونا کی عالمی وباء کی وجہ سے سعودی عرب کے علاہ باقی دنیا سے مسلمان اس سال حج کو نہیں جا سکیں گے۔  

 

یہ سوال دنیا بھر میں بسنے والے لاکھوں مسلمانوں کے ذہنوں اس وقت سے بھی پہلے موجود تھا جب سعودی عرب کی جانب سے مسلمانوں سے سرکاری طور پر کہا گیا کہ وہ رواں سال جولائی میں اس فرض کی ادائیگی کے منصوبے کو روک کر رکھیں۔ ڈاکٹر محمد صالح بن طاہر  نے جو سعودیہ کے وزیر برائے امورِ عمرہ اور حج ہیں نے31 مارچ کو سرکاری ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے دنیا بھر میں اپنے مسلمان بھائیوں سے کہا ہے کہ صورتِ حال واضح ہونے تک حج کی تیاریاں روک دیں اور پھر  بعد میں سعودی عرب کے علاہ باقی دنیا کے مسلمانوں سے اس سال حج پر نہ آنے کا باضابطہ طور پر کہہ دیا گیا۔ یہ الفاظ فورا ہی دنیا بھر میں بہت غور سے سنے گئے اور ان پر گفتگو بھی ہوتی رہی۔ سعودی وزیرِ عمرہ و حج کے بقول ہم نے دنیا سے کہا ہے کہ حجاجِ کرام کی حفاظت اور صحتِ عامہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حج گروپ اس سال نہیں آسکتے۔

 

سعودی عرب کی وزارت صحت نے مکہ اور مدینہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کئے ہیں۔ پھر بھی ان دونوں مقدس شہروں میں اب تک کورونا کے کافی  زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ سعودی حکومت کی جانب سے گذشتہ ماہ تا اطلاعِ ثانی عمرہ معطل کر دیاگیا تھا تمام بین الاقوامی پروازوں کو غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا گیا تھا اور مکہ اور مدینہ سمیت متعدد شہروں میں آنے اور جانے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اس پس منظر میں حج کو معطل کرنے کا فیصلہ ناگزیر اور غیر معمولی لگ سکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حج کی تاریخ کے حوالے سے یہ کوئی انہونی نہیں اور نہ ہی پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے البتہ اس موجودہ صدی میں یہ پہلی دفعہ ہو رہا ہے، اس لئے کچھ مسلمانوں کو اپنی عقیدت کی وجہ سے ذہنی کوفت بھی پہنچی ہے لیکن گذشتہ صدیوں کے دوران ایسے حالات کے باعث جو حج کا انتظام کرنے والوں کے اختیار سے باہر تھے، حج کی ادائیگی میں جزوی خلل اور رکاوٹ پہلے بھی کئی بار پڑا ہے جن میں ایک خلل وباؤں کی وجہ سے آیا ہے جبکہ دوسری رکاوٹ جنگوں اور راستوں کی بدامنی کی وجہ سے۔ 

 

فتح مکہ اور فرضیتِ حج کے بعد سب سے پہلے عتاب بن اسید کو امیرِ حج بننے کا شرف ملا۔ نویں سالِ ہجرت حضرت ابو بکر صدیق اور دسویں سالِ ہجرت خود رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم حج کی ادائیگی کے لیے تشریف لائے جسے حج الوداع کا نام دیا جاتا ہے یعنی حج فقھا کے نزدیک کوئی فی الفور فریضہ نہیں ہے بلکہ عمر میں وسائل واستطاعت کے ہوتے ہوئے صرف ایک بار فرض ہے، اگر اس سال نہیں تو انشاء اللہ آئندہ لوگ جائینگے مگر جان کی امان سب سے اولین شرط ھے۔ 

 

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد عالمِ اسلام کے حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہے۔ دوسروی قوموں کی طرح اتار چڑھا تاریخِ اسلام کا حصہ رہے ان ادوار میں مسلمانوں نے خود ایک دوسرے کو اقتدار کی کرسی کی خاطر خون میں نہلایا، یہ سب کچھ سن 30 ہجری کے بعد ہوتا رہا جب خلافت کی جگہ ملوکیت نے لے لی  لیکن حالات کیسے ہی ناسازگار کیوں نہ ہوئے فریضہ حج عملِ پیہم کی طرح ہر حالت میں برقرار رہا۔ حالات کی سنگینیوں کے سبب بارہا ایسا ہوا کہ کبھی شام والے فریضہ حج کی ادائیگی سے محروم ہو گئے تو کبھی عراق والے ، کبھی خراسان والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو کبھی مصری اور ھندوستانی حرمینِ طیبین کی زیارت سے محروم کر دئیے گئے۔ کبھی اہلِ مشرق اس سعادت کو پانے میں ناکام رہے تو کبھی یہ حرماں نصیبی اہلِ بغداد کے حصے میں آئی لیکن کبھی ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ فریضہ حج مکمل طور پر معطل ہوا ہو اور کسی ایک شخص نے بھی حج ادا نہ کیا ہو صرف ایک سال 317 ہجری جب قرامطہ حج کے دوران کعبہ پر حملہ ہوا جس سے تاریخی حوالوں سے کچھ حد تک یہ ممکن لگ رھا تھا کہ صرف اسی سال حج موقوف ہوا تھا، کتبِ تاریخ میں کئی جگہ یہ جملہ ملتا ہے کہ " کسی نے اس سال حج نہیں کیا لیکن بالعموم یہ جملہ مجمل ہوتا ہے اور دیگر کتبِ تاریخ اور بعض اوقات وہی مصنف کسی دوسری جگہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہہ دیتا ہے کہ عراق والوں میں سے کسی نے اس سال حج نہیں کیا یا مصر والوں میں سے کسی نے اس سال حج نہیں کیا یعنی یہ ایک جزوی اجمال ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ جملہ محض وہم پر مبنی ہوتا ہے جس کا ازالہ دیگر کتب کی جانب مراجعت سے ہو جاتا ہے۔ مثلا 326ھ  کو لے لیں۔ حافظ ذہبی کہتے ہیں ''ترجمہ'' یعنی اس سال کسی نے حج نہیں کیا۔ شفا الغرام وغیرہ میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ (ترجمہ) 326ہجری میں عراق سے حج معطل ہوا۔ جیسا کہ ذہبی رحمہ اللہ تعالی نے ذکر کیا۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ حافظ ذہبی کی کلام میں اجمال ہے  ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے اس سال حج ہوا ہی نہیں لیکن ،شفا الغرام، کی گفتگو نے واضح کر دیا کہ یہ بات صرف عراقیوں  کی حد تک کی جا رہی ہے کہ وہ لوگ اس سال حج نہیں کر پائے اس سے بالکل یہ حج کی تنسیخ مراد نہیں۔ پھر جب آپ ،شفا الغرام، کے اگلے جملے دیکھتے ہیں جو درر الفرائد میں بھی موجود ہیں تو بات مزید کھل کے سامنے آتی ہے کہ حافظ ذہبی  نے مطلقاً حج کی نفی نہیں کی بلکہ صرف عراقیوں کی بات کی اور اس میں بھی ،عمومِ نفی،مقصود نہیں بلکہ عمومی حالات کا سلب مقصود ہے۔ جسے آپ کہہ سکتے ہیں کہ عام حالات میں حج کا جیسا اہتمام ہوتا تھا، اس لحاظ سے 326ھ میں نہ ہونے کے برابر تھا۔

 

درر الفرائد اور شفا الغرام کی گفتگو ملاحظہ ہو: (ترجمہ) عتیقی نے اس سال کی اخبار میں ذکر کیا۔اس سال بغداد سے بہت تھوڑے حاجی پیدل نکلے اور عرب سے بکثرت لوگوں نے  مکہ میں قربانی کی، حج کیا اور شام کے راستے واپس ہوئے۔ مرآ الزمان میں 321ھ  ۔ 330ھ۔ 331ھ کے حج کے بارے میں ان لوگوں کی گفتگو ذکر کی گئی ہے جنہوں نے کہا کہ ان سالوں میں بھی حج نہیں ہوا لیکن ساتھ ہی اس گفتگو کے ضعف کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے اور اس بات کی تصریح بھی کر دی کہ ان سالوں میں حج ادا کیا گیا تھا۔ یونہی 338ھ کے بارے میں دونوں قسم کے اقوال ذکر کیے۔ حافظ ذہبی نے 335ھ اور 337ھ کے بارے میں صاف الفاظ میں کہا ہے کہ ''ترجمہ'' یعنی ان دو سالوں میں کسی نے حج نہیں کیا لیکن 335ھ  سے 339ھ تک کے تمام سالوں کے بارے میں اتحاف الوری اور شفا الغرام وغیرھما میں ہے۔ ''ترجمہ'' 335 ، 36 ، 37 ، 38 ، 39 میں عمر بن یحیی علوی نے لوگوں کو حج ادا کروایا۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی ایک مورخ کا کوئی ایک مجمل جملہ لے کر یہ زور دینا کہ فلاں فلاں سالوں میں حج بالکل معطل رہا ، بالکل نا مناسب ہے اور تاریخی بھول ہے۔ فریضہ حج عظیم شعائرِ اسلام سے ہے ، اس کا تعطل معمولی بات نہیں کہ اس سلسلے میں ہر کس وناکس کی بات پر کان دھرے جائیں بلکہ اگر تاریخی حقائق سے ایسا ثابت ہو بھی جائے کہ فلاں فلاں سالوں میں فریضہ حج معطل رہا تو اس سے یہ بات کہاں سے ثابت ہو جائے گی کہ حج کی معطلی جائز بھی ہے۔ 

 

تاریخی اعتبار سے  حجاج کے لیے 317ھ جیسا کٹھن سال کبھی نہ آیا۔ بد بخت قرامطہ کی جانب سے 7 یا 8 ذو الحجہ کو حجاج کرام پر حملہ ہوتا ہے، مسجدِ حرام کی حرمتوں کی پائمالی کی جاتی ہے ، ہزاروں لوگ مکہ کی گلیوں اور عین مسجدِ حرام میں شہید کر دئیے جاتے ہیں جو اندازاً 30 ہزار تک شہید ہوتے ہیں، مقتولین کو چاہِ زمزم میں ڈال دیا جاتا ہے، تاریخ کے اوراق میں صرف یہی ایک سال ایسا ملتا ہے جس کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے کہ شاید اس سال حج کی ادائیگی مکمل طور پر معطل رہی ہو گی۔ حتیٰ کہ شفا الغرام میں  بھی ہے کہ اس سال کسی شخص نے نہ تو وقوفِ عرفات کیا اور نہ ہی افعالِ حج میں سے کوئی فعل ادا کیا۔ التاریخ المعتبر میں ہے، 317 میں کسی نے حج نہیں کیا۔ اسلامی حج کی تاریخ میں یہی ایک ایسا سال آیا جس کے بارے میں یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ اس سال مکمل طور پر حج موقوف رہا ہو گا ، ورنہ وبا کا اندیشہ ، دشمن کا خوف ، اسلامی حکومتوں کے باہمی تنازعات اور دیگر اسی قسم کے امور حجاج کی تعداد پر تو اثر انداز ہوتے رہے، لیکن حج کا ایقافِ کلی، یعنی مکمل تعطل کبھی بھی نہ ہوا لیکن قرامطہ کا یہ سانحہ چونکہ عین ایامِ حج میں مسجدِ حرام کے اندر ہوا اس لیے اس سال کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے کہ اس سال حج مکمل طور پر معطل ہوا ہو گا لیکن اس ایک سال کے علاوہ کسی دوسرے سال کے بارے میں ایسا نہیں کہا جا سکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مسعودی نے التنبیہ والشراف میں کہا کہ جب سے اسلام کی روشنی نمودار ہوئی ، اس سال یعنی 317ھ کے علاوہ کبھی حج نہ رکا۔1831 میں بھارت سے ایک وباء کا آغاز ہوا جس نے مکہ میں تقریبا تین چوتھائی زائرین کو شہید کردیا تھا۔ یہ لوگ کئی ماہ کا خطرناک سفر کرکے حج کیلئے مکہ آئے تھے۔ 1837 سے لے کر 1858 تک، ان دو دہائیوں میں 3  مرتبہ حج باھر کی دنیا کیلئے منسوخ ہوا جس کی وجہ سے زائرین مکہ کی جانب سفر نہ کر سکے۔1846  میں مکہ میں ہیضے کی وبا سے تقریبا 15 ہزار افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ یہ وبا مکہ میں 1850  تک پھیلتی رہی لیکن اس کے بعد بھی کبھی کبھار اس سے اموات ہوتی رہیں۔ رہزنی کا خوف اور حج کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے سبب390 ہجری میں مصر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حج اخراجات میں بے پناہ اضافے کے باعث مسلمان فریضہ حج سے محروم رہے، اس کے علاوہ 430 ہجری میں عراق اور خراساں سے لے کر شام اور مصر کے لوگ حج پر نہ جاسکے تھے۔492 ہجری میں اسلامی دنیا میں جاری آپسی جنگوں کے باعث فریضہ حج متاثر ہوا جبکہ 654 ہجری سے لے کر 658 ہجری تک حجاز کے علاوہ کسی اور ملک سے حاجی مکہ نہیں پہنچے۔ اس کے علاوہ 1213 ہجری میں فرانسیسی انقلاب کے دوران حج کے قافلوں کو تحفظ اور سلامتی کے باعث روک دیا گیا۔ 417 ہجری کو عراق میں شدید سردی اور سیلابوں کی وجہ سے زائرین مکہ کا سفر نہ کرسکے۔ اس طرح شدید سرد موسم کی وجہ سے حج کو منسوخ کرنا پڑا تھا۔

 

1344 ہجری میں خانہ کعبہ کے غلاف، کسوہ کو مصر سے سعودی عرب لے جانے والے قافلے پر حملہ ہوا اور اس وجہ سے مصر کا کوئی حاجی بھی خانہ کعبہ نہ جاسکا۔ واضح رہے کہ 1932 میں سعودی عرب کے وجود میں آنے کے بعد سے اب تک باھر کی دنیا کے مسلمانوں کیلئے  خانہ کعبہ میں حج کبھی نہیں رکا یہ سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ھے۔ اقوام عالم کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ خانہ کعبہ اورحرم شریف اس سے پہلے بھی قدرتی سانحات سے متاثر ہوتا رہا ہے۔ طوفان نوح کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام کی بنائی ہوئی بیت اللہ کی بنیادیں بھی غرق آب ہو گئیں۔ پانی کے ریلے نے خانہ کعبہ کی جگہ ریت اور مٹی اکٹھی کر دی۔ ریت اور مٹی کا یہی انبار بعد میں ایک ابھر ے ہوئے سرخ ٹیلے کی شکل میں مرجع عوام بن گیا۔ مظلوم اور بیمار لوگ اس ٹیلے پرآ کر دعا کرتے۔ حج کیلئے بھی لوگ اس ٹیلے پر آتے۔ یہ عمل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعمیر کعبہ تک جاری رہا۔ طوفان نوح کے بعد خانہ کعبہ کئی دفعہ بارشوں کے پانی اور سیلابی ریلوں کی زد میں آیا یہاں تک بھی ہوا کہ کعبے کا چوتھا حصہ پانی میں ڈوب گیا۔ 

 

کعبہ کی موجودہ تعمیر 1040 ہجری میں سلطان مراد عثمان کے دور میں ہوئی جب مکہ میں ایک بڑا سیلاب آیا تھا اور اس میں کعبہ کی آبادی بھی گرگئی تھی یہ تعمیر 966 سال بعد کی گئی تھی اور یہ آج تک برقرار ہے جو جاہلیت کے زمانے کے طرزِ تعمیر پر ہے، کعبہ کی دیواروں میں مجموعی طور پر 1614 پتھر لگائے گئے ہیں جنمیں 419 باب کعبہ والی مشرقی دیوار میں 449 عقبی غربی دیوار میں 318 شمالی میزابی دیوار میں 428 جنوبی دیوار میں لگائے گئے ہیں۔  ان میں سے اکثر پتھروں کی موٹائی 90 سنٹی میٹر کے قریب ہیں۔ 
بحرین سے قرامطہ آئے اور حجر اسود نکال کر لے گئے۔ بیس سال سے زائد عرصے تک کعبہ کا طواف حجر اسود کے بغیر ہوا۔ سن چونسٹھ ہجری میں حصین ابن نمیر کندی کے عبد اللہ ابن زبیر کیساتھ لڑائی کے دوران بیت اللہ پر سنگ باری کی وجہ سے حجر اسود تین تکڑے ہوا تھا جسکو چاندی کی مدد سے مرمت کیا گیا تھا۔ 363 ہجری میں ایک رومی شخص نے حجر اسود کو معمولی سا نقصان پہنچایا تھا ۔ 413 ہجری میں ایک مصری شخص نے حجر اسود پر مضبار سے ضربیں لگائی تھی جس وہ کء تکڑے ہوا تھا۔ 990 ہجری میں ایک عراقی نے حجر اسود کو تھوڑا تھا۔ 1351 ہجری میں ایک افغانی نے حجر اسود سے ایک تکڑا تھوڑا تھا وہ اسے حج کے بعد اپنے ساتھ بطور تبرک لانا چاھتا مگر اسکو دیکھ لیا گیا اور ان سے وہ ٹکڑا واپس کرکے حجر اسود کیساتھ دوبارہ جوڑا گیا تھا۔

 

کعبہ کی حالیہ تاریخ ماضی قریب میں بھی ایک المناک سانحہ پیش آیا۔ کعبہ شریف پر مرتدین کا قبضہ ہو جانے کی وجہ سے چودہ دن تک طواف معطل رہا اس عرصے میں حرم کعبہ کے در و دیوار اذان اور جماعت کی سعادت سے محروم رہے۔ یکم محرم الحرام مطابق 20 نومبر 1979 منگل کی صبح امام حرم شیخ عبد اللہ بن سبیل نے نماز فجر کا سلام پھیرا ہی تھا کہ چند آدمیوں نے امام صاحب کو گھیرے میں لے لیا ان میں سے کچھ لائوڈ سپیکر پر قابض ہو گئے اس وقت حرم شریف میں ایک لاکھ کے قریب نمازی موجود تھے۔ ان حملہ آوروں کا سرغنہ 27 سالہ محمد بن عبد اللہ قحطانی تھا جس نے چار سال تک مکہ یونیورسٹی میں اسلامی قانون کی تعلیم حاصل کی تھی۔ سعودی فرمانروا شاہ خالد نے 32 علماء پر مشتمل سپریم کونسل کا اجلاس فوری طور پر طلب کر لیا۔ علما کرام نے قرآن اور حدیث کی روشنی میں متفقہ طور پر فیصلہ دیا کہ مسلح گمراہ افراد کیخلاف کارروائی شریعت کے عین مطابق ہے۔ اس فتوے کی روشنی میں بیت اللہ کے تقدس کے پیش نظر بھاری اسلحہ استعمال کرنے سے گریز کیا گیا۔ مرتدین کا مکمل صفایا کرنے کے بعد 7 دسمبر 1979 کو دوبارہ حرم شریف کو عبادت کیلئے کھولا گیا۔ اس لڑائی میں 75 باغی مارے گئے اور سعودی نیشنل گارڈز کے 60 فوجی شہید ہوئے۔ چار پاکستانیوں سمیت 26 حاجی شہید اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ مرتدین کی بڑی تعداد کو گرفتار کر لیا گیا۔

 

دوسرا خلل968 عیسوی میں ہوا۔ علامہ ابن کثیر کی کتاب البدایہ والنھایہ کے مطابق مکہ میں ایک بیماری پھیل گئی جس نے بہت سے حجاج کرام کی جان لے لی ہے۔ اسی دوران حاجیوں کو مکہ لے کر جانے کے لیے استعمال ہونے والے بہت سے اونٹ بھی پانی کی قلت کے باعث ہلاک ہو گئے۔ بہت سے لوگ جو بچ کر مکہ مکرمہ پہنچ بھی گئے تھے وہ حج کے بعد زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکے۔ اس برس جو افراد مکہ حج کرنے آئے تھے ان میں بڑی تعداد مصری باشندوں کی تھی لیکن 1000 عیسوی میں وہ اس سفر کے متحمل نہیں ہو سکے کیونکہ اس سال مصر میں مہنگائی بہت زیادہ تھی۔ اس مہنگائی کی وجہ سے 29 سال بعد بھی مشرق یا مصر سے کوئی حاجی حج کے لیے نہیں آیا۔ 1030 عیسوی میں صرف چند عراقی زائرین ہی حج ادا کرنے مکہ مکرمہ پہنچے۔اس واقعے کے نو سال بعد عراقی مصری، وسط ایشیائی اور شمالی عربی مسلمان حج کرنے سے قاصر رہے۔ شاہ عبد العزیز یونیورسٹی کے شعب تاریخ کے سربراہ ڈاکٹر عماد طاہر کے مطابق اس کی وجہ سیاسی بدامنی اور فرقہ وارانہ کشیدگی تھی۔ اسی طرح 1099 میں بھی جنگوں کے نتیجے میں پوری مسلم دنیا میں خوف اور عدم تحفظ کی وجہ سے حج کی ادائیگی عالمی سطح پر نہ کی جا سکی۔ 1099 میں صلیبی جنگجوں کے یروشلم پر قبضے سے پانچ برس قبل، خط عرب میں مسلمان رہنماں میں اتحاد کے فقدان کے باعث مسلمان باھر کی دنیا سے حج ادا کرنے مکہ نہ آ سکے۔ 

 

13ویں صدی میں بھی حج ایک بار پھر تعطل کا شکار ہوا اور  1256 سے 1260 کے دوران کوئی بھی شخص  حج کی ادائیگی نہ کر سکا۔1798 سے 1801 کے دوران فرانسیسی لیڈر نیپولین بوناپارٹ نے مصر اور شام کے علاقوں میں فوجی کارروائیاں کیں جن کی وجہ سے مکہ کے راستے زائرین کے لیے غیر محفوظ ہو گئے۔ مصری مصنف ہانی نصیرہ کہتے ہیں کہ اگر کورونا کا مرض دنیا میں یونہی بڑھتا رہا تو اس سال بھی حج کی ادائیگی روکنے کا فیصلہ غیر متوقع نہیں ہوگا اور ایسا ہی کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ کرنا پڑا تو یہ فیصلہ دانائی پر مبنی ہوگا اور شریعتِ اسلامی کے عین مطابق بھی ہوگا جس کا بنیادی مقصد عوام الناس کی حفاظت ہے کیونکہ حج ایک عالمی عبادت ھے اور اس میں بیماری کے پھیلائو کے امکانات بہت زیادہ ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قرآنِ پاک میں اللہ کا فرمان ہے کہ خود کو ہلاکت میں مت ڈالو اور پیغمبرِ اسلام نے بھی اپنے صحابہ کرام کو وباں سے خبردار کیا ہے۔ حضرت عبدالرحمان بن عوف نے کہا ہے کہ حضرت محمدۖ  نے فرمایا تھا کہ اگر آپ کسی جگہ طاعون پھیلنے کی خبر سنیں تو وہاں داخل نہ ہوں لیکن اگر یہ وبا کسی جگہ پر پھیل جاتی ہے جہاں آپ موجود ہیں تو اس جگہ کو نہ چھوڑیں۔ ان کے مطابق یہ حدیث طاعون سے بچنے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

 

 مصری ماہر تعلیم ہانی ناصرہ کا کہنا ہے کہ کووڈ -19 پھیلنے سے پوری دنیا میں لاکھوں افراد کی جانیں چلی گئیں اور ان میں کمی کی کوئی علامت نظر نہیں رہی۔پوری دنیا کورونا وائرس کے تیز پھیلائو سے دوچار ہے جس نے ہر جگہ لوگوں کے دلوں میں وہ خوف بھر دیا ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ ان کے بقول سائنسدانوں کو اس وائرس کے بارے میں بہت کم معلومات حاصل ہونے کی وجہ سے اس کا علاج جلد سامنے آنے کا امکان نہیں ہے لہذا اس صورتِ حال  کا جاری رہنا لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے حج کو معطل کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے اس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کروائی کہ کچھ مسلمان ممالک میں جن میں ایران اور ترکی شامل ہیں وہاں وباء نے بہت زیادہ تعداد میں زندگیاں ختم کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جلتی پر تیل نہیں چھڑکنا چاہتے۔ یہ غیر منطقی ہے اور اسلام کبھی بھی اسے قبول یا منظور نہیں کرتا۔ اگر میں مفتی ہوتا تو  معطل کرنے کا مطالبہ کر دیتا۔ اسلامی علوم کے محقق احمد الغامدی نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ حج ایک محدود فرض نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حج کی ادائیگی کسی خاص وقت تک محدود نہیں ہے۔ ایک بالغ مسلمان ہوش مندی کی عمر میں پہنچ جانے کے بعد جب بھی چاہے حج کر سکتا ہے۔ الغامدی نے جو حدیث اور اسلامی علوم میں ماہر ہیں، کہا ہے کہ مثال کے طور پر حضرت محمدۖ نے پہلے سال حج نہیں کیا تھا جب حج فرض ہو چکا تھا بلکہ انہوں نے ایک سال بعد حج ادا کیا۔ ان کا بھی کہنا ہے کہ اسلامی شریعت عوامی مفاد اور فلاح و بہبود کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ الغامدی نے کہا کہ شدید ضرورت کی صورت میں جیسے کورونا وائرس کا پھیلائو، سیاسی وجوہات یا حفاظتی مجبوریوں کی وجہ سے حج کو معطل کیا جاسکتا ہے اور یہ اسلامی تعلیمات کے منافی نہیں ہے۔ خدا تعالی نے ہمیں حکم دیا ہے کہ وہ خود کو خطرے میں نہ ڈالیں۔الغامدی نے مزید کہا کہ حج کی بنیاد استدلال اور منطق پر رکھی گئی ہے لہذا اگر صحت کے ذمہ دار حکام کو معلوم ہو کہ کوئی متعدی بیماری موت کا سبب بن سکتی ہے تو لوگوں کی زندگیوں کا تحفظ حج سے زیادہ ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 'اسلامی شریعت میں اس استدلال میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔