شہید ہارون بلور اور ان کا بیانیہ آج بھی زندہ ہیں 

شہید ہارون بلور اور ان کا بیانیہ آج بھی زندہ ہیں 

   ڈاکٹر سردار جمال

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اگر پاکستان نے فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کیا ہے تو پاکستان کی جانب سے خیبر پختونخوا ہی اس جنگ میں فرنٹ لائن صوبہ رہا ہے لیکن اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ صوبے میں عوامی نیشنل پارٹی ہی ملک کی جانب سے اس جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی تھی تو بلور خاندان نے اس ہراول دستے کو بشیر احمد بلور شہید اور ہارون بشیر بلور شہید کی صورت میں اپنے بہترین کمانڈر مہیا کئے تھے، جنہوں نے اپنی جان کی بازی تو لگا دی مگر دشمن کو کبھی پیٹھ دکھائی نا ہی ان کے پایہ استقامت میں کبھی کوئی لرزش پیدا ہوئی، بشیر احمد بلور شہید اور ان کے شہید فرزند ہارون بشیر بلور سے لے کر اسد خان اچکزئی تک شہداؤں کا ایک قافلہ ہے جو عوامی نیشنل پارٹی صرف اس ملک، اس مٹی اور اس دھرتی کے امن کی خاطر سارا کا سارا لٹا دیا۔ لیکن ٹھہریئے، یہ کہانی جہاں سے شروع ہوتی ہے پہلے اس کا تذکرہ، پھر اس خاندان کا اور اس کے شہداء کا ذکر کریں گے جسے بجا طور پر شہیدوں کا خاندان کہا جاتا ہے۔ 

 

بدقسمتی سے پشتون قوم حملہ آوروں کے راستے میں پڑی ہے یہی وجہ ہے کہ اول سے لے کر اب تک یہ خطہ ہمیشہ یورش، بدامنی اور توڑ پھوڑ سے دوچار رہا۔ اس یلغار کی بدولت یہاں تہذیب و ثقافت اپنی حالت میں نہ رہی۔ اس کے علاوہ مذاہب بدلتے رہے، مغلوب کے عبادت خانے گرا دیئے گئے اور غالب نے اپنے عبادت خانے بنا دیئے۔ اس طرح یہ سلسلہ چلتا آ رہا ہے لیکن ثور انقلاب کے بعد پشتون سرزمیں پر ایک نئے انداز میں جنگ و جدل کے بیج بوئے گئے۔ 

 

المیہ یہ ہے کہ اس قتل و غارت میں اسلام کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا۔ چونکہ اسلام امن اور بھائی چارے کا دین ہے اس لئے ضرورت اس بات کی تھی کہ اس پاک دین کو فرقوں میں بانٹ دیا جائے۔ ایسا کر نے کے لئے نت نئے فرقے درمیان میں لائے گئے جس کا مقصد اسلام کو صرف اور صرف خون خرابے کے لئے استعمال میں لانا، نفرت پھیلانا، ایک دوسرے کو کافر، مشرک، بدعتی کہلوانا، ایک دوسرے کے عبادت خانوں پر حملہ آور ہونا، غازی اور شھید جیسی اصطلاحات کو عام کرنا وغیرہ تھا۔ 

 

خون ریزی کا یہ دردناک اور خونخوار دور 1977 میں شروع ہوا۔ چونکہ امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ چل رہی تھی، روس کے اپنے مقاصد تھے اور امریکہ کے اپنے مقاصد تھے۔ ان دونوں طاقتور ملکوں کے ڈیورنڈ لائن کے بارے میں تحظات تھے۔ روس اس لائن کو عبور کرنا چاہتا تھا اور گرم پانی تک رسائی چاہتا تھا جبکہ دوسری طرف امریکہ چاہتا تھا کہ یہ منحوس لکیر پختہ سے پختہ ہوتا جائے۔ ایسا کر نے کے لئے روسی خطے میں کمیونزام کے افکار پھلانا چاہتے تھے جبکہ امریکہ اسلام کی اس طرح تشریح کرنا چاہتا تھا جس سے وہ فائدہ اٹھا کر اپنا تسلط مضبوط سے مضبوط تر کر سکے لہذا انہیں لفظ جہاد پسند آیا۔ جب روس کا معاملہ افغانستان میں چل رہا تھا تو امریکہ ڈر گیا کہ اگر اسی طرح روس کامیاب ہوتا گیا تو ایک دن ڈیورنڈ کی حیثیت ختم ہو جائے گی اور روس کا راج تمام وسطی ایشیاء میں چلتا رہے گا۔ اسی طرح سونے کی چڑیا ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی اور ان کا ایسٹ انڈیا کمپنی والا منصوبہ رک جائے گا جس کے لئے انھوں نے کئی صدیاں جنگیں لڑی ہیں۔ اس لئے امریکہ نے جہاد کے نام پر جوانوں کو اکٹھا کیا اور انہیں کہا گیا کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے، یہ دنیا ہمیشہ نہیں رہے گی، ہمیں اس دنیا سے جانا ہے جہاں ابدی زندگی ہے وہاں ایک طرف آگ ہی آگ ہے جس میں دنیا پرست لوگوں کو رکھا جائے گا جبکہ دوسری طرف حوریں، عالی شان بنگلیں اور خشاش بشاش زندگی ہے مگر اس ابدی زندگی کو سنوارنے کے لئے اس دنیا کو ترک کرنا ہو گا اور اللہ کی راہ میں کفار کے خلاف لڑنا ہو گا جس کو جہاد کہا جاتا ہے۔ جوانوں کو اپنے استادوں کے ذریعہ کہا گیا کہ روس کافر ہے اور اس نے ایک اسلامی ملک افغانستان پر حملہ کیا ہے اور وہاں کے مسلمانوں کو زبردستی بے دین بنایا جا رہا ہے۔ انہیں یہ بھی کہا گیا کہ روس کے نزدیک بہن بھائی کا کوئی تصور نہیں ہے اور روسی بہن بھائی کے درمیاں شادیاں کروا رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ امریکہ ڈالرز تقسیم کرتے رہے اور جہاد چلتا رہا۔ اس کے علاوہ یہاں افغان مہاجرین لائے گئے اور کیمپوں میں بسائے گئے۔ 

 

افغان مہاجرین کو یونیسف کی طرف سے تیار کھانے پہنچائے جاتے تھے اور جوانوں کو ان کیمپوں کے اندر جہاد کرنے کی تبلیغ دی جاتی تھی۔ اسی طرح پیسہ کی بدولت گیم چلتی رہی۔ 

 

اس نازک دور کو فخر افغان بابا نے فساد کہا اور پشتونوں کو بار بار یقین دلاتے رہے کہ یہ جہاد نہیں ہے بلکہ دو سرمایہ کاروں کی جنگ ہے، ہم کو اس فساد سے دور رہنا چاہیے ورنہ یہ آگ تمام پشتونوں کو جلا دیں گے مگر کوئی سننے کو تیار نہ تھا اور بابا کو کافر کے نام سے یاد کیا کیونکہ ریالوں اور ڈالروں کے آگے بابا کی باتیں ناقابل سماعت تھیں۔ باچا خان بابا کی طرح ولی خان بابا نے وہ بیانیہ جاری رکھا اور پشتون جوانوں کو اس فساد سے دور رکھنا چاہا اور پاکستان کے حکمرانوں سے کہا کہ روس اور امریکہ کے درمیان میں مت آنا کیونکہ وہ دونوں طاقتور قوتیں ہیں اور اگر ہم ان کے درمیان رہیں گے تو ایک نہ ایک دن ان کے سینگوں کے درمیان کچل سکتے ہیں۔ اسی اثنا میں ولی خان بابا نے کہا کہ افغانیوں کو اپنے ملک میں رہنے دیں اور حکمرانوں کو سمجھایا کہ اگر ہم افغانیوں کو پاکستان لے آئیں گے تو پھر افغانستان کو بنانے والا کوئی نہیں ہو گا اور یہ ملک ویران ہی رہے گا مگر ولی بابا کی باتوں پر کسی نے دھیان نہیں دیا کیونکہ ہمارے آقا ڈالرز کمانا چاہتے تھے اور اگر افغانستان بن جاتا تو پھر جہادی کاروبار رک جاتا اور اشرافیہ کی تجوریاں بھر نہیں پاتیں۔ ولی خان بابا کی طرح عوامی نیشنل پارٹی نے اپنا بیانیہ جاری رکھا اور اسلام کے نام پر خون بہانے والوں کو فسادی کہا اور اس پارٹی کے ہر فرد نے ”لر و بر یو افغان“ کا نعرہ بلند کیا ہوا ہے اور ان کا بیانیہ واضح رہا ہے کہ افغانستان کی خوشحالی پاکستان کی خوشحالی ہے اور اگر وہاں بدامنی ہو تو وہاں کی آگ ہم کو لپٹ میں لے لے گی اور آج وہ آگ ہمارے گھر کی دہلیز پے آن پہنچی ہے۔ 



والد کی شہادت کے بعد ہارون بلور شہید اپنے شہید باپ کے نقشِ قدم پر چلتے رہے، دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر امن کا پیغام پھیلاتے رہے اور صاف الفاظ میں کہا کہ دہشت گرد فسادی ہیں جو ہر حال میں نفرت کے قابل ہیں، وہ پشتون بچوں کو شعور سے ہمکنار کرنا چاہتے تھے، وہ جوانوں سے مخاطب ہو کر بولا کرتے تھے کہ دہشت گرد ڈرپوک ہیں جو پیچھے سے وار کرتے ہیں 
 



بشیر بلور عوامی نیشنل پارٹی کے ان لیڈروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے واضح الفاظ میں اور ببانگ دہل کہا تھا کہ خودکش کے جیکٹس ختم ہو سکتے ہیں مگر ہمارے سینے ختم نہیں ہوں گے۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ ہر پشتون، بچہ بچہ اپنی مٹی پر امن لانا چاہتا ہے اور کسی بھی حال میں دہشت گرد کے ساتھ مصلحت کرنے والے نہیں ہیں اور نہ اندھیرے کو اجالا بولنے کو تیار ہیں۔ آخر کار بشیر بلور نے اپنا وعدہ پورہ کیا اور اپنا سینہ فسادیوں کے سامنے پیش کر دیا اور جام شہادت نوش کیا۔

 

بشیر بلور کی شہادت کے بعد ہارون بلور شہید اپنے شہید باپ کے نقشِ قدم پر چلتے رہے اور اپنی پارٹی کا بیانیہ آگے لے کر گئے، دہشت گرد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر امن کا پیغام پھیلاتے رہے اور صاف الفاظ میں کہا کہ دہشت گرد فسادی ہیں جو ہر حال میں نفرت کے قابل ہیں۔ وہ پشتون بچوں کو شعور سے ہمکنار کرنا چاہتے تھے، وہ جوانوں سے مخاطب ہو کر بولا کرتے تھے کہ دہشت گرد ڈرپوک ہیں جو پیچھے سے وار کرتے ہیں۔ وہ بولا کرتے تھے کہ دہشت گردوں کا کوئی دین نہیں ہے، یہ لوگ ایک پسماندہ ذہنیت کے مالک اور جہالت ان کا نام اور کام ہے، فسادی اور دہشت گرد خون خرابے اور نفرت کے نام ہیں، علم سے ہی جہالت کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے، جب روشنی آتی ہے اندھیرا چلا جاتا ہے لہذا پشتون کو علم حاصل کرنا چاہیے تاکہ پسماندہ اذہان پہچانے جا سکیں، اسی طرح ہم انسانیت کی طرف بڑھیں گے اور اپنی دھرتی پر امن لانے میں، قائم کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ 



 2018 کی الیکشن کمپین میں ان کو باپ کی طرح خودکش کا سامنا کرنا پڑا اور بالکل اپنے والد کی طرح شہادت کا اعلی کا درجہ پایا لیکن خوش قسمتی سے ان کا بیانیہ ان کے بہادر بیٹے دانیال بلور نے جاری رکھا ہوا ہے اور ساتھ ہی ان کی اہلیہ ثمر بلور اپنے بیٹے کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں جو پشتون قوم کے لئے امن چاہتی ہیں، اپنے پیارے شوہر ہارون بلور کا وہ بیانیہ آگے لے کر جا رہی ہیں جو باچا خان بابا، ولی خان بابا، بشیر بلور شہید اور ہارون بلور شہید کا بیانیہ ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈرپوک دہشت گرد نے ان کے حوصلے پست نہیں کئے بلکہ مزید بلند کر دیئے ہیں 
 



باپ کی شہادت نے ان کا حوصلہ پست نہیں کیا بلکہ باپ کی طرح ”لر و بر“ کے لئے امن مانگتے رہے اور بالکل اسی طرح طالبانائزیشن کے مخالف رہے جس طرح ان کے والد مخالف تھے اور آخرکار 2018 کی الیکشن کمپین میں ان کو باپ کی طرح خودکش کا سامنا کرنا پڑا اور بالکل اپنے والد کی طرح شہادت کا اعلی کا درجہ پایا لیکن خوش قسمتی سے ان کا بیانیہ ان کے بہادر بیٹے دانیال بلور نے جاری رکھا ہوا ہے اور ساتھ ہی ان کی اہلیہ ثمر بلور اپنے بیٹے کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں جو پشتون قوم کے لئے امن چاہتی ہیں، اپنے پیارے شوہر ہارون بلور کا وہ بیانیہ آگے لے کر جا رہی ہیں جو باچا خان بابا، ولی خان بابا، بشیر بلور شہید اور ہارون بلور شہید کا بیانیہ ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈرپوک دہشت گرد نے ان کے حوصلے پست نہیں کئے بلکہ مزید بلند کر دیئے ہیں۔ 

 

اللہ تعالی دانیال بلور اور ثمر بلور کو لمبی زندگی عطا فرمائے تاکہ مظلوم پشتون قوم کی خدمت کر سکیں اور شہید بشیر بلور اور شہید ہارون بلور کی منزل اور ان کے نصب العین کو حاصل کرنے کی جدوجہد کرتے رہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ شہید بشیر احمد بلور، شہید ہارون بشیر بلور اور اس راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے ہر شہید کے درجات اور بھی بلند فرمائے۔ آمین!