ہائے پرویز خٹک صاحب!

ہائے پرویز خٹک صاحب!

تحریر: ڈاکٹر سردار جمال 

ایک ملک میں قحط آیا۔ کھانے کی چیزیں ناپید ہوئیں۔ رعایا احتجاج کر کے بادشاہ سلامت کے گھر کے سامنے دھرنے دینے لگے۔ بادشاہ کی بیٹی یہ سب دیکھ کر پوچھنے لگی ”یہ لوگ آہ و فریاد کیوں کر رہے ہیں، انہیں کیا تکلیف ہے اور کیا چاہتے ہیں؟“ انہیں بتایا گیا کہ یہ لوگ بھوکے ہیں، ملک میں غلہ دانہ نہیں ہے، روٹی نہیں ہے۔ بادشاہ کی بیٹی بولی ”تو یہ کون سا مشکل ہے، روٹی تو اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے، جائیں اور انہیں سمجھائیں کہ کیک اور بسکٹ کھایا کریں۔“ کل پرسوں پرویز خٹک صاحب کی باتیں سن رہا تھا جو قومی اسمبلی میں گویا تھے، وہ کچھ اس طرح فرما رہے تھے کہ میرا صوبہ بہت امیر ہے، وہاں کوئی غربت نہیں ہے اور ثبوت میں کہا کہ ہمارے ہاں کسی کا کچا مکان ہے نہیں، صرف بولا نہیں بلکہ چیلنج بھی دیا کہ پختونخوا آئیں اور مجھے غریب اور کچا مکان دکھا دیں؟ خٹک صاحب مزید اکنامکس کی رو سے سے مہنگائی کے فوائد اشکار کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مہنگائی کی بدولت ملک ترقی کر رہا ہے اور مہنگائی نہ ہونے کی وجہ سے ملک پیچھے کی طرف جا سکتا ہے۔ وزیر صاحب نے یہ بھی کہا کہ اس وقت امریکن اور یورپین بھی مہنگائی سے دوچار ہیں مگر خوش نصیب ہم ہی ہیں کہ مہنگائی کے ہوتے ہوئے بھی ہمارے ہاں قوت خرید بڑھ رہی ہے۔ اچھا تو پہلی بات یہ ہے کہ وزیر صاحب نے یہ تاثر دیا کہ ہمارا صوبہ امیر ترین ہے لہذا ہمیں وفاق سے کوئی امداد لینے کی ضرورت نہیں ہے اور ہمارے صوبے کو جو کم ترین بجٹ دیا گیا تو یہ سب اچھا ہوا، صرف اتنا نہیں بلکہ مرکز کو جو ہمارے واجبات ادا کرنا ہیں وہ بھی ہم وفاق کو صدقہ دینے کے لئے تیار ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں تعمیراتی کاموں کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمارے لوگ ترقی کی حدود عبور کر چکے ہیں۔ خٹک صاحب نے مہنگائی کے فوائد بیان کرتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ مہنگائی تو تاجر حضرات ذخیرہ اندوزی کے ذریعے  لا سکتے ہیں لہذا حکومتی رٹ کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ پارلیمنٹیرینز پارلیمانوں میں بیٹھ کر اپنا قممتی وقت اور غریب عوام کا پیسہ کیوں ضائع کریں کیونکہ مہنگائی کے علاوہ ملک کے دوسرے اہم امور بھی تو کوئی اور چلا رہا ہے، اور رہی بات ایک دوسرے کو گالی گلوچ اور نعرہ بازی کی، تو یہ کام بھی پارلیمان سے باہر خوب طریقے سے کیا جا سکتا ہے بلکہ وہ کام تو پہلے سے اچھے انداز میں چل رہا ہے۔ پتہ نہیں یہ بدقسمت عوام کب تک اس قسم کے عوام دشمن حضرات کے ہاتھوں میں کھیلتے رہیں گے۔ تمام اسمبلیاں بچگانہ طریقے سے چلائی جا رہی ہیں، ادھر اخلاق  سے باہر کلمات ادا کئے جاتے ہیں، ادھر کوئی سنجیدہ ماحول نہیں ہے، ادھر عوام کی بھلائی کا بولنے والا کوئی نہیں ہے، ادھر صرف اور صرف اپنی اچھائی اور دوسروں کی برائی بیان کی جاتی ہے۔ خٹک صاحب نے تین سال میں جب پہلی بار لب کشائی کی تو وہ بھی سمجھ سے باہر ہے لیکن وہ قصوروار نہیں ہیں کیونکہ وہ جب بھی اسلام آباد سے آتے ہیں تو اپنے حجرے کی حد تک محدود رہتے ہیں۔ انہوں نے بادشاہ کی بیٹی کی طرح دکھی اور بھوکے  لوگ دیکھے نہیں ہیں۔ ان کو کیا پتہ کہ میرے نظام پور خوڑہ کے لوگ اس سائنسی صدی میں بھی پہاڑوں میں رہتے ہیں۔ وہاں کے لوگ بہت زیادہ غربت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ خٹک صاحب کے اپنے حلقے کے لوگ زندگی کے بنیادی اصولوں سے ناخبر ہیں۔ وہاں کے لوگ زندگی کی بنیادی سہولیات کو جانتے تک نہیں، ادھر کی مائیں روزانہ کے حساب سے زچگی کے دوران جانیں دیتی ہیں کیونکہ وہاں کوئی زچہ بچہ سنٹر نہیں ہے۔ ادھر کے رہنے والے پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں بلکہ وہ پہاڑوں سے چشموں والا پانی پائپوں کے ذریعے گھروں کو لاتے ہیں جو صحت کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ خٹک صاحب آپ کے علاقے کی خواتین پہاڑوں میں بھاری بھر کم لکڑیاں کاٹ کر انہیں سروں پر رکھ کر نیچے اترتی ہیں اور یہ لکڑیاں بیچ کر اپنے لئے نان نفقہ کماتی ہیں مگر آپ کو کیا معلوم کہ غربت اور مہنگائی کون سی بلاؤں کے نام ہیں۔ہمارا صوبہ غریب تھا اور جب سے یعنی آٹھ سال سے پی ٹی آئی زدہ بن چکا ہے، ادھر سکولوں میں فرنیچر نہیں ہے، بچے دوبارہ ٹاٹ پر بٹھائے گئے کیونکہ پہلے سے جو بنچز اور ڈسک تھے وہ ان آٹھ سالوں میں ناقابل استعمال بن گئے اور نئے فرنیچر کا کوئی بندوبست نہیں  ہے۔ فرنیچر کے علاوہ تمام سکولوں میں سٹاف کی کمی ہے۔ نئے اساتذہ اس لئے بھرتی نہیں کئے جاتے کیونکہ خزانہ خالی پڑا ہے۔ اساتذہ بھرتی کرنا تو دور کی بات ہے، جو اساتذہ ریٹائرمنٹ لینا چاہتے ہیں تو ان کو اس لئے ریٹائر نہیں ہونے دیا جاتا کہ خزانہ خالی ہے۔ یہ معاملہ تمام محکموں کا چلتا آ رہا ہے اور آپ بول رہے ہو کہ ہمارا صوبہ امیر ترین صوبہ ہے۔ خٹک صاحب خدا کے لئے تھوڑا سنجیدہ بھی ہو جائیں پلیز! اگر کچھ کر نہیں سکتے تو مت کرو لیکن جو تھوڑا بہت پہلے سے مل رہا ہے اس کو روکو مت پلیز!