''تاریخی درسگاہ کو دوبارہ ٹریک پر لایا جا رہا ہے''

''تاریخی درسگاہ کو دوبارہ ٹریک پر لایا جا رہا ہے''


صابر شاہ ہوتی 
پروفیسر ڈاکٹر گل مجید خان کا کہنا تھا کہ بطور وائس چانسلر یونیورسٹی کی مالی اور انتظامی مشکلات ان کیلئے ایک بڑا چیلنج تھا، جب بطور وائس چانسلر اسلامیہ کالج پشاور ان کی تعیناتی ہوئی تو چونکہ اسلامیہ کالج کی بنیادی مشکلات کا انہیں ٹھیک طور پر علم نہیں تھا کیونکہ ایک تو وہ یہاں کے کبھی طالب علم نہیں رہے تھے اور نہ ہی اس سے قبل انہیں یہاں کام کرنے کا موقع ملاتھا اس لئے شروع کے چند ماہ یونیورسٹی سے متعلق معلومات حاصل کرنے میں لگ گئے تاکہ وہ اپنے  لئے ایک روڈ میپ بنا سکیں کہ ان مسائل کو کس طرح سے حل کیا جا سکتا ہے، اس روڈ میپ کے تحت یونیورسٹی کے مسائل کو حل کیا جا رہا ہے جس سے واضح طور پر تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ دوسری ترجیح یونیورسٹی کی مالی مشکلات اور گڈ گورننس تھا اس پر ہم نے کام شروع کیا ہوا ہے، ''جب میں مارچ میں بطور وائس چانسلر یونیورسٹی میں آیا تو مجھے بتایا گیا کہ ابتر مالی حالات کی وجہ سے اپریل کی تنخواہیں ملازمین کو نہیں دی جائیں گی جس کیلئے ہم نے کوششیں شروع کیں اور مرکز سے یہ بات منوا کر اس مہینے کی تنخواہ لے لی، اور اس کے علاوہ یونیورسٹی پر مالی بوجھ کم کرنے کیلئے اپنے لئے حدود مقرر کیں، گزشتہ چھ سالوں کے دوران ہر سال تین ماہ کی تنخواہیں اپریل، مئی اور جون کی تنخواہیں ملازمین کو نہیں دی جاتی تھیں میرے آنے کے بعد سب سے پہلے تنخواہوں کا یہ مسئلہ ختم کیا گیا، اس کے علاوہ یونیورسٹی ملازمین کی تمام تر مشکلات کو بھی دور کیا گیا چاہے وہ مالی مشکلات تھیں یا پھر انتظامی امور کی مشکلات، ان کے لئے رولز ریگولیشنز بنائے گئے، اسی طرح ایڈمشنز کے حوالے سے جو مشکلات ہر سال سامنے آتی تھیں اس کے لئے کمیٹیاں بنائی گئیں جس کے بعد داخلوںکے طریقہ کار کو مزید شفاف بنایا گیا، میں نے زندگی کے 38 سال سے جو کچھ سیکھا ہے اس تجربے سے میں نے یہاں پر بھرپور استفادہ کیا ہے اور جب میں نے بطور وی سی یہاں پر کام شروع  کیا تو یہ بات سب کو معلوم ہے کہ یونیورسٹی کے کیا حالات تھے، جس مقصد کیلئے اس درسگاہ کو بنایا گیا تھا وہ اصل مقصد یہ کھو چکی تھی جس کو آہستہ آہستہ دوبارہ ٹریک پر لایا جا رہا ہے، اگر مالی مشکلات کی بات کی جائے تو اس کے ذمہ دار ہم بھی ہیں اور موجودہ حکومت بھی، موجودہ حکومت کو چاہیے کہ اس کی فلاح کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کام کریکیونکہ میں یہ بات کہنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتا کہ ماضی میں یونیورسٹی ایڈمنسٹریشن نے لوگوں کو خوش کرنے کیلئے ایسے فیصلے کئے جس سے درسگاہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا اور مجھ سے بھی وہی توقعات رکھی گئیں، میں نے کورٹ کی جانب سے جو آسامیاں غیرقانونی قرار دی گئیں تھیں ان کو ختم کیا اور تقریباً چار سو ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کیا، ایک جانب سے تو یہ انسانی ہمدردی کا معاملہ تھا لیکن یونیورسٹی تو قانون کے تحت گڈ گورننس اور فنانس منیجمنٹ پر چلائی جاتی ہے، میرے دور میں ایک بھی تعیناتی نہیں کی گئی اور نہ ہی میرے دور میں ایک بھی ایڈمشن میرٹ کے خلاف ہوئی ہے۔''

 


ہماری جو سکالرشپ کمیٹی ہے وہ بہت شفاف ہے اور تمام ایوارڈز میرٹ پر دیئے جا رہے ہیں، چونکہ اسلامیہ کالج اب کو ایجوکیشن ہے اس کے لئے بھی تمام تر رولز بنائے گئے ہیں، والدین ہم پر اعتماد کرتے ہیں اور وہ اپنی بیٹیوں کو یہاں پر پڑھانے کیلئے بھیجتے ہیں، ایک معاشرہ جہاں پر ایک خاتون اکیلے گھر سے اپنے گھر کے کسی مرد کے بغیر نہیں جاتی وہ یہاں پر صبح و شام پڑھنے کیلئے بغیر کسی خوف کے آتی ہے
وائس چانسلر اسلامیہ کالج پشاور پروفیسر ڈاکٹر گل مجید خان کی روزنامہ شہباز کے ساتھ خصوصی گفتگو


وائس چانسلر کے مطابق اسلامیہ کالج کی ملک بھر میں بہت زیادہ جائیدادیں ہیں، اسلامیہ کالج کی 222 دکانیں خیبر بازار میں ہیں، 221 دکانیں چارسدہ میں ہیں، 4 ہزار کنال زمین چارسدہ میں ہے اور اسی طرح 4 ہزار کنال زمین صوابی میں ہے، ''اس کے حصول کیلئے میں نے بہت جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے اور اس سلسلے میں بہت ساری میٹینگز کا انعقاد کیا گیا ہے ہمیں حکومت کی جانب سے اس کے لئے گائیڈ لائنز ملی ہیں، میرے آنے سے پہلے یہ بات آن ریکارڈ ہے کہ 2008 سے 2021 تک صرف اس سلسلے میں دو میٹنگز کی گئیں جبکہ میرے دور میں 19 میٹنگز اب تک کی جا چکی ہیں۔'' 

 

والدین کو یہ یقین ہے کہ ان کا بچہ جب یہاں سے پڑھ کر جائے گا تو وہ ان کا اور اپنے ملک کا نام روشن کرے گا اور یہاں پر ہی وہ ایک اچھا انسان، ایک اچھا مسلمان اور ایک باعزت شہری بنے گا اور اسلامیہ کالج ہی وہ واحد ادارہ ہے جس کی ایک بلڈنگ میں ہی پہلی جماعت سے لے کر پی ایچ ڈی تک کے کورس پڑھائے جاتے ہیں


اس سوال کے جواب میں کہ اسلامیہ کالج میں ایسی کیا خصوصیت ہے کہ والدین اپنے بچوں کو اسلامیہ کالج میں ہی داخلہ دلوائیں گے ان کا کہنا تھا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ اس ادارے کا تاریخی پس منظر ہے جس نے ماضی میں نامور شخصیات پیدا کیں اور بین الاقوامی سطح پر لیڈرشپ پیدا کی ہے یہی وجہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اس ادارے کیلئے ایک احترام ہے، اس درسگاہ کا جو اصل مقصد تھا اس کو پورا کرنا تھا، اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے یہاں کا تین بار دورہ کیا، دو بار پارٹیشن سے پہلے اور ایک بار پارٹیشن کے بعد آئے تھے، وہ یہاں طالب علموں سے ملتے اور انہیں ایک ٹاسک دیتے ہیں تو ہمارے پاس تو تمام تر وسائل اور نظریاتی سوچ موجود ہے جس کے ساتھ ہم نے آگے بڑھنا ہے اور والدین کو یہ یقین ہے کہ ان کا بچہ جب یہاں سے پڑھ کر جائے گا تو وہ ان کا اور اپنے ملک کا نام روشن کرے گا اور یہاں پر ہی وہ ایک اچھا انسان، ایک اچھا مسلمان اور ایک باعزت شہری بنے گا اور اسلامیہ کالج ہی وہ واحد ادارہ ہے جس کی ایک بلڈنگ میں ہی پہلی جماعت سے لے کر پی ایچ ڈی تک کے کورس پڑھائے جاتے ہیں، یہ اوپن سیکرٹ ہے کہ اسلامیہ کالج کوچنگ کلاسز کا جلد از جلد اجراء کیا جا رہا ہے جہاں پر شام کو کلاسز ہوں گے، ہمارے تمام تر طلباء کو یہ سہولت بھی فراہم کی جائے گی، اس کے بعد یہاں کے طالب علموں کو باہر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ اسلامیہ کالج میں ہی کوچنگ کلاسز کی سہولت دی جائے گی، اگلے ہفتے سے اسلامیہ کالج میں کوچنگ کی کلاسز کا اجراء ہو گا، اس کے ساتھ ساتھ ہم طلباء کی سکالرشپ کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں اور ہماری جو سکالرشپ کمیٹی ہے وہ بہت شفاف ہے اور تمام ایوارڈز میرٹ پر دیئے جا رہے ہیں، چونکہ اسلامیہ کالج اب کو ایجوکیشن ہے اس کے لئے بھی تمام تر رولز بنائے گئے ہیں، والدین ہم پر اعتماد کرتے ہیں اور وہ اپنی بیٹیوں کو یہاں پر پڑھانے کیلئے بھیجتے ہیں، ایک معاشرہ جہاں پر ایک خاتون اکیلے گھر سے اپنے گھر کے کسی مرد کے بغیر نہیں جاتی وہ یہاں پر صبح و شام پڑھنے کیلئے بغیر کسی خوف کے آتی ہے۔''

 


یونیورسٹی کی مالی اور انتظامی مشکلات ایک بڑا چیلنج تھا، شروع کے چند ماہ یونیورسٹی سے متعلق معلومات حاصل کرنے میں لگ گئے تاکہ اپنے  لئے ایک روڈ میپ بنا سکیں کہ اِن مسائل کو کس طرح سے حل کیا جا سکتا ہے، اس روڈ میپ کے تحت یونیورسٹی کے مسائل کو حل کیا جا رہا ہے جس سے واضح طور پر تبدیلیاں سامنے آئی ہیں
 


سکیورٹی خدشات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اسلامیہ کالج کی سکیورٹی کیلئے بہت سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں؛ اس حوالے سے ہر مہینے ایک میٹنگ کی جاتی ہے تاکہ سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے ،اس سلسلے میں کالج کے تمام تر دروازے بند کئے گئے ہیں، پشاور یونیورسٹی کی جانب سے ایک دروازہ کھلا رکھا گیا ہے، کالج کی سیکورٹی الرٹ کی گئی ہے اور کالج کے ہر نمایاں مقام پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں جس سے تمام تر حرکات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ہاسٹلز کے طلبہ کو پانی اور بجلی کے حوالے سے درپیش مشکلات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے مالی حالات بہتر نہ ہونے کے باوجود ہم کو ہر دس تاریخ کو اس بات کی فکر لگی رہتی ہے کہ عملہ کو تنخواہیں کہاں سے دیں گے، ہاسٹلوں میں موجود طلبہ کی سہولیات کا بہت خیال رکھا جا رہا ہے، اگر بجلی کی بات کی جائے تو واپڈا کے نظام کا تو سب کو اچھی طرح پتہ ہے، لوڈشیڈنگ کی صورتحال ابتر ہے حالانکہ ہمارا ایک بھی بجلی کا بل واجب الادا نہیں ہے اور 100 فیصد ادائیگی ہے اور تقریباً 10 سے 12 میٹنگ ہم نے واپڈا حکام کے ساتھ کی ہیں لیکن اس کے باوجود یہاں پر بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے میرے آنے کے بعد تمام خراب جنریٹرز کو ٹھیک کرایا گیا جو اب ورکنگ حالت میں ہیں، ''اسلامیہ کالج میں پانی کے دو قسم کے مسائل ہیں؛ ایک اسلامیہ کا لج میں پودوں اور لان میں لگی گھاس کو پانی دینے کا مسئلہ ہے، دوسرا ڈپارٹمنٹس اور ہاسٹلز میں طلبہ کے پینے کے پانی کا مسئلہ ہے، ہمارے پاس دو ٹیوب ویلز ہیں جو بہت پرانے ہیں، ان کی مرمت کی گئی، ان کیلئے جنریٹر لگائے گئے، پرانے اور نئے دونوں سسٹم کو بحال کیا گیا ہے تاکہ پرانے سسٹم کو بیک اپ کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔                                                                                                                                                                                          

 مارچ میں مجھے بتایا گیا کہ ابتر مالی حالات کی وجہ سے اپریل کی تنخواہیں ملازمین کو نہیں دی جائیں گی جس کیلئے ہم نے کوششیں شروع کیں اور مرکز سے یہ بات منوا کر اس مہینے کی تنخواہ لے لی، اس کے علاوہ یونیورسٹی پر مالی بوجھ کم کرنے کیلئے اپنے لئے حدود مقرر کیں، گزشتہ چھ سالوں کے دوران ہر سال تین ماہ کی تنخواہیں اپریل، مئی اور جون کی تنخواہیں ملازمین کو نہیں دی جاتی تھیں میرے آنے کے بعد سب سے پہلے تنخواہوں کا یہ مسئلہ ختم کیا گیا

 

    

پروفیسر ڈاکٹر گل مجید خان کون ہیں؟
پروفیسر ڈاکٹر گل مجید خان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع کرک سے ہے، انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے سے حاصل کرنے کے بعد گومل یونیورسٹی سے گریجوشن کی ڈگری حاصل کی اور وہاں پر انہیں ملازمت کا موقع ملا۔ وہاں پر وہ لیکچرار، اسسٹنٹ پروفیسر، پروفیسر اور مختلف انتظامی عہدوں پر فائز رہے، بیرونی ممالک سے تین پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں اور انہیں یہ اعزار بھی حاصل ہے کہ وہ ملک کے پہلے بی فارمیسی کے گریجویٹ رہے ہیں، اسی طرح پورے صوبہ خیبر پختونخوا میں وہ بی فارمیسی میں پہلے بی فارمیسی کے پی ایچ ڈی ہولڈر ہیں، گومل یونیوسٹی میں انہیں تمام تر انتظامی عہدوں پر کام کرنے کا موقع ملا، سال 2012 میں انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی میں فاؤنڈر چیئرمین آف فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کے طور پر کام شروع کیا جس کے بعد ان کی دیرینہ خواہش کہ وہ اپنے صوبے اپنے لوگوں کی خدمت کریں، وہ پوری ہوئی اور وہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر کئے گئے۔

 


ماضی میں یونیورسٹی ایڈمنسٹریشن نے لوگوں کو خوش کرنے کیلئے ایسے فیصلے کئے جس سے درسگاہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا اور مجھ سے بھی وہی توقعات رکھی گئیں، میں نے کورٹ کی جانب سے جو آسامیاں غیرقانونی قرار دی گئیں تھیں ان کو ختم کیا اور تقریباً چار سو ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کیا، ایک جانب سے تو یہ انسانی ہمدردی کا معاملہ تھا لیکن یونیورسٹی تو قانون کے تحت گڈ گورننس اور فنانس منیجمنٹ پر چلائی جاتی ہے، میرے دور میں ایک بھی تعیناتی نہیں کی گئی اور نہ ہی میرے دور میں ایک بھی ایڈمشن میرٹ کے خلاف ہوئی ہے