تاریخی جامعات موثر حکمت عملی نہ ہونے پر مالی بحران کا شکار

تاریخی جامعات موثر حکمت عملی نہ ہونے پر مالی بحران کا شکار

پشاور (کیمپس رپورٹر) خیبر پختونخوا کے سرکاری یونیورسٹیز پر ایک بار پھر مالی بحران کے بادل منڈلانے لگے صوبے کے بیشتر تاریخی جامعات ہزاروں ملین خسارے سے دو چار ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

 

 صوبائی حکومت یونیورسٹیوں میں جاری بحران کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے کوئی موثر حکمت عملی پیش نہ کرسکی جسکی وجہ سے سرکاری جامعات میں مالی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔

 

 بیشتر جامعات کے ملازمین کو ماہ جولائی کی تنخواہیں ادا نہ ہوسکی جسکی وجہ سے اساتذہ اور ملازمین میں بے چینی پائی جانے لگی جبکہ جامعات کے ملازمین نے فوری تنخواہ  ریلیز نہ کرنے کی صورت میں احتجاج عندیہ دیا ہے

 

 فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈیمک سٹاف ایسو سی ایشن  فپواسا کے مطابق  اسلامیہ کالج، زرعی یونیورسٹی پشاور،انجینئرنگ یونیورسٹی اور چترال یونیورسٹی ملازمین کو جولائی کی تنخواہیں نہ دے سکی جبکہ جامعہ پشاور نے ملازمین کی جولائی کی تنخواہوں سے الائونس کاٹ دئیے ،تنخواہیں نہ ملنے کے باعث ملازمین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے،

 

 فپواسا کے مطابق جامعہ پشاور کو 1 ہزار 731 ملین سے زائد کے خسارے ،زرعی یونیورسٹی پشاور 1 ہزار 173 ملین ،انجیرنگ یونیورسٹی 1 ہزار 400 ملین  اور اسلامیہ کالج پشاور کو 7 سو ملین خسارہ  کا سامنا ہے۔

 

فپواسا نے مطالبہ کیا ہے کہ جامعات کے ملازمین کو جلد از جدل تنخواہیں ادا کی جائیں بصورت دیگر احتجاج کا دائر ہ کار وسیع کرینگے۔  صوبے کی سرکاری جامعات میں جہاں مالی بحران بڑھنے لگا وہیں جامعات انتظامیہ بھی بحران پر قابو کرنے کے حوالے سے غفلت کر مظاہرہ برتنے لگی،

 

 ذرائع کے مطابق زرعی یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین کل سے ماہ جوالائی کی تنخواہ کی عدم ادائیگی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، تاہم جامعہ کے وائس چانسلر،انتظامی افسران اور ڈائر یکٹر فنانس بھی دفاتر سے غائب ہیں جس سے زرعی یونیورسٹی کے ملازمین اور اساتذہ میں بے چینی مزید بڑھ گئی۔

 

 ذرائع کے مطابق مشکل کی اس گھڑی میں ذمہ داران افراد کا غائب ہونا انکی ن اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔