تاریخ دہرائی جاتی ہے

تاریخ دہرائی جاتی ہے

عبد المعید زبیر
یہ دنیا ہے، یہاں کسی کو دوام حاصل نہیں؛ کیونکہ وقت ہمیشہ یکساں نہیں رہتا، بدلتا ہے۔ کبھی گراتا ہے تو کبھی خود ہی سہارا دینے لگتا ہے۔ کبھی ایک ایک لقمہ کا محتاج کر دیتا ہے تو کبھی دولت کے خزانے ہی نچھاور کر دیتا ہے۔ کبھی اقتدار کی کرسی پر بٹھا دیتا ہے تو کبھی جیل کی کال کوٹھری میں پہنچا دیتا ہے۔ یہاں کبھی کسی کو ہمیشہ استقلال حاصل نہیں رہا، بس اصل وہی انسان ہوتا ہے جو تاریخ سے سبق سیکھے۔ کسم پرسی کی حالت میں شکوہ نہ کرے، اقتدار کے ہوتے ہوئے اکڑتا نہ پھرے اور طاقت کے ہوتے ہوئے ظلم نہ کرے۔ یہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں اور انہی کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ چودہ سو سال قبل جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو ان کی صرف زبانی کلامی ہی مخالفت نہیں کی گئی؛ بلکہ سوشل بائیکاٹ کیا گیا، ان کو تنہا کردیا گیا، مذاق اڑایا گیا، پتھروں سے مارا گیا، قتل کرنے کے منصوبے بنائے گئے، پھر جب انہوں نے آزادی کی خاطر، اپنے رب کے دین کی خاطر تلوار اٹھائی، میدان لگایا تو بھی دشمنوں نے ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے انہیں کمتر سمجھا، ان کا مذاق اڑایا مگر تاریخ میں یہ بات رقم ہو گئی کہ انہی کمزور لوگوں سے طاقت وروں کو شکست ہوئی، چھوٹے چھوٹے بچوں نے طاقت ور سردار کا سر قلم کیا، پھر وقت بدلنے لگا، طاقت اور غرور کے نشے میں مست کفار کمزور ہونے لگے۔ کمزور اور فقیر لوگ صاحب اقتدار ہونے لگے، کالا حبشی غلام کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دینے لگا، اصحاب صفہ کے چبوترے میں پتے کھا کھا کے پلنے والے لوگ بڑی بڑی سلطنتوں کے گورنر بننے لگے۔ یہ وقت تھا جب اسلام کی جڑیں مضبوط ہو رہی تھیں۔ دن بدن علاقے فتح ہو رہے تھے۔ مسلمانوں کی طاقت میں اضافہ ہو رہا تھا۔ مگر انہوں نے کسی سے بدلہ نہیں لیا، دشمن کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا؛ بلکہ دشمنوں کے بھی حقوق وضع کیے گئے، انہیں جینے کا حق دیا گیا، ان کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کیا گیا۔ انہیں ان کی چار دیواری میں مذہبی آزادی تک دی گئی۔ اسی لیے اسلام ایک عالمگیر مذہب کہلاتا ہے۔
بعد زمانہ کی وجہ سے ہم ان لوگوں کو تو دیکھ نہیں سکے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس دور میں ان کی مثال پیش کر دی۔ یوں لگنے گا کہ جیسے سب کچھ وہی ہو رہا ہے، بس چہرے ہی بدلے ہیں۔ کتابوں میں لکھی باتیں اب ثابت ہونے لگی تھیں۔ افسانے اور کہانیاں لگتی باتیں اب حقیقت کا روپ دھارنے لگی تھیں۔ کبھی یقین نہیں آتا تھا کہ کیسے نہتے لوگوں نے مسلح لوگوں کو شکست دی ہو گی؟ کیسے تین سو تیرہ نے ہزاروں کا مقابلہ کیا ہو گا؟ کیسے ہزاروں نے لاکھوں کا مقابلہ کیا ہو گا؟ مگر آج سب ثابت ہو گیا۔ بیس سال قبل جب امریکہ نے چالیس ممالک کی مدد سے پرامن افغانستان کو اپنے پیروں تلے روندنا چاہا تو للکارتے ہوئے انہیں چوبیس گھنٹوں میں ملیامیٹ کرنے کے دعوے کیا، کارپیٹ بیماری کی گئی، بستیاں اجاڑ دی گئیں، محلات کھنڈرات کی شکل میں بدل گئے، لوگوں کو بے گھر کر دیا گیا، بچوں کو تڑپایا گیا، عورتوں کی عزتوں سے کھلواڑ کیا گیا، جوانوں کو کنٹینروں میں بند کر کے گولیوں سے بھون دیا گیا، صحراؤں میں کھلے آسمان تلے بلکنے اور تڑپنے کے لیے چھوڑ دیا گیا، جو بھاگنے میں کامیاب ہوئے وہ کئی ہفتوں تک کربناک حالت میں مختلف جگہوں پر چھپے رہے۔ جو بھاگ نہ سکے انہیں اجتماعی قبریں کھود کر زندہ دفن کر دیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ان پر زمین تنگ کر دی گئی۔ اوپر سے بمب برسائے جاتے، نیچے سے گولیاں چلائی جاتیں، جو بچ جاتے وہ جیلوں میں ڈال دیے جاتے، جیلوں کے اندر ایسے مظالم ڈھائے جاتے کہ سن اور پڑھ کر روح تک کانپ جاتی۔ مگر اسلام کے نام لیوا لوگوں نے اپنی حریت کی جنگ جاری رکھی، ثابت قدم رہے، ظلم و ستم برداشت کیے مگر جرات اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ حسینیت کا پرچم تھامے رکھا مگر یزیدیت کو تسلیم نہیں کیا، گردنیں کٹوا دیں مگر جھکنے سے انکاری رہے۔ پھر وقت بدلنے لگا، چالیس ممالک پر مشتمل عالم کفر اور ان کے ہمنوا نیٹو کی شکل میں اسلام کا سامنا کرنے سے عاجز آنے لگا، ظالم فوجی پاگل ہونے لگے، خودکشیاں کرنے لگے، دولت کے خزانے ختم ہونے لگے، ملک دیوالیہ ہونے لگا، اپنا وجود بھی برقرار رکھنا مشکل ہونے لگا، ایک ایک کر کے علاقے بھی ہاتھ سے نکلنے لگے۔ جب عالم کفر کو شکست ان کا مقدر بنتی نظر آنے لگی تو بھاگنے کے لیے ٹیبل ٹاک کی طرف دعوت دینے لگے۔ سوچا کہ شاید ہاری ہوئی جنگ یہاں ہی جیت سکیں۔ مگر مرد میدان لوگ یہاں بھی ڈٹ گئے، ان کے ناجائز مطالبات ماننے سے انکاری ہو گئے، اپنی شرطوں پر ان سے مذاکرات کیے، ان کو بھاگنے کے لیے پرامن راستہ دیا گیا اور مسلمان دوبارہ صاحب اقتدار ہو گئے۔ اپنوں اور بیگانوں کے لیے عام معافی کا اعلان کر کے فتح مکہ کی یاد تازہ کر دی، سب کو مل کر چلنے کی دعوت دی گئی۔ تخت سے تختے تک اور تختے سے پھر تخت تک کا یہ سفر دنیا کو ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ جنگیں طاقت کے زور پر نہیں جیتی جا سکتیں، اس کے لیے جذبہ ایمانی ہونا شرط ہے، ظلم ہمیشہ نہیں رہتا، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ انسانوں پر آزمائشیں آتی ہیں مگر استقامت اور جرات ہی ان کا وجود برقرار رکھ سکتی ہے، ان کا کھویا ہویا مقام تب ہی مل سکتا ہے جب انہیں اپنی کمزوریوں کا ادراک ہو سکے۔ اقتدار اور قوت آنے جانے والی چیز ہے، اس پر کبھی اترانا نہیں چاہیے۔ ورنہ انسان ایسا منہ کے بل گرتا ہے کہ جو دکھانے کے قابل بھی نہیں ہوتا۔ اصل طاقت اور اقتدار صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ وہ جسے چاہے عزت دے، جسے چاہے ذلت دے۔ جسے چاہے اقتدار دے کر یزید کی طرح ذلیل کرے اور جسے چاہے حسین رضی اللہ عنہ کی طرح شہید کر کے بھی عزت دے۔ کسی کی شرافت اور عاجزی کو اس کی کمزوری نہ سمجھو، ممکن ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تم سے زیادہ مقبول ہو۔