بلدیاتی انتخابات آئینی تقاضا، حکومت تاخیری حربے استعمال نہ کرے، سردار حسین بابک

بلدیاتی انتخابات آئینی تقاضا، حکومت تاخیری حربے استعمال نہ کرے، سردار حسین بابک

پشاور۔۔۔ اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک  نے کہا ہے کہ مقامی حکومتوں کی تشکیل آئینی تقاضا ہے۔ حکومت بلدیاتی انتخابات میں تاخیری حربے استعمال کرنے سے گریز کرے۔

 

باچا خان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کیلئے تیار ہے ۔ حکومت بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں سنجیدہ نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ بلدیاتی نظام کے قانون کو بلامشاورت اور پارلیمانی اصولوں کے منافی انداز میں پاس کیا گیا۔

 

انہوں نے کہا کہ موجودہ بلدیاتی نظام نہ صرف حکمران جماعت کے تجویز کردہ بلکہ عوام کی امنگوں کیلئے بھی مایوس کن ہے۔ حکومت نے نئے قانون کے تحت ضلعی حکومت کو ختم کرنے اور تحصیلوں، ویلج کونسلزاور نیبر ہوڈ کونسلز کی سطح پر حکومتیں بنانے پر زور دیا ہے۔عوام پوچھنا چاہتے ہیں کہ نئے قانون میں ضلعی حکومتوں کا خاتمہ کیوں کیا گیا؟۔ ویلج کونسل اور نیبر ہوڈ کونسل کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرانا سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانے کے مترادف ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ جماعتی بنیادوں پر انتخابات میں آزاد امیدواروں کے انتخابات لڑنے پر کوئی پابندی نہیں ہوتی، لہذا یہ ایک غیر سیاسی اور غیر آئینی فیصلہ ہے۔ حکومت ہوش کے ناخن  لے اور بلدیاتی نظام کے قانون کو اسمبلی میں پیش کرے تاکہ ضلعی حکومت کو اس قانون کا حصہ بنایا جاسکے اور بلدیاتی انتخابات کو جماعتی بنیادوں پر کرانے کیلئے ترامیم کئے جاسکیں۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومت کے تجویز کردہ قانون میں اختیارات کی منتقلی بھی موجود نہیں۔ حکومت کو اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے تاکہ صوبے کے عوام کی امنگوں اور ضرورتوں کے مطابق بلدیاتی نظام کا قانون تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور پارلیمانی اصولوں کے مطابق اجتماعی دانش سے مرتب کیا جاسکے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ بلدیاتی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کیلئے حکومت کو بلاتاخیر بل اسمبلی میں پیش کرنا چاہیئے تاکہ صوبائی اسمبلی متفقہ طور پر مقامی حکومتوں کی تشکیل کی آئینی ذمہ داری پوری کرسکے۔