ہائبرڈوار  اور ترک ڈرامے (چھٹا حصہ)

ہائبرڈوار  اور ترک ڈرامے (چھٹا حصہ)

تحریر: بحراللہ آفریدی

پاکستانی خصوصاً پختون قوم کا المیہ ہے کہ میڈیا یا سوشل میڈیا پر کسی بھی منفی چیز کو دیکھ کر اسے نظرانداز کرنے کی بجائے اسے اتنی ہوا دیتے ہیں کہ مغربی منصوبہ سازوں کا منصوبہ خود اپنے ہاتھوں بام عروج تک پہنچا دیتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ یہ کام کرتے ہوئے وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کوئی تبلیغ دین یا ثواب کا کام کر رہے ہوتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی ملعون کی طرف سے قرآن پاک کی توہین کی ویڈیو سوشل میڈیا پر آ جائے تو اسے رپورٹ یا نظرانداز کرنے کی بجائے ہمارے لوگ خود اسے دنیا بھر میں وائرل کر دیتے ہیں۔ منصوبہ ساز شیطانی ذہن نے اس قسم کی ویڈیوز کے ساتھ صرف ایک جملہ لکھا ہوتا ہے: ”لعنت بھیج کر اس ویڈیو کو آگے شیئر کریں۔“ یہ جملہ دیکھ کر لوگوں کے دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور آنکھیں بند کرکے چند ہی لمحوں میں گستاخی پر مبنی ویڈیوز کو خود اپنے ہاتھوں سے وائرل کر دیتے ہیں۔ ان میں ایک خاص شرح ان لوگوں کی بھی ہوتی ہے جو اس طرح کے کام محض زیادہ کمنٹس اور لائکس کے لالچ میں سرانجام دیتے ہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ یہودی میڈیا کے شیطانی منصوبہ ساز ہمارے دماغ اور نفسیات کے ساتھ کھلینے کا گر خوب جانتے ہیں۔ وہ وقفے وقفے سے اس طرح کا شوشہ چھوڑتے رہتے ہیں جس سے ایک طرف مخصوص مقاصد کا حصول مقصود ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف مسلمان معاشروں کی عمومی نفسیات کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے ان منصوبہ سازوں کا خاص ہدف پختون معاشرہ بنا ہوا ہے۔ فیس بک اور باقی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر درجنوں ایسے آئی ڈیز، پیجز اور چینلز بنائے گئے ہیں جن کے نام عام پختونوں کے نام یا پختون تہذیب کی اصطلاحات پر رکھے گئے ہیں۔ ان پیجز اور چینلز سے دن رات پشتو اور اردو زبان میں دہریت اور لادینیت کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ ان تبلیغات میں اللہ تعالی، رسول اللہ اور مسلمہ دینی عقائد کو مشکوک بنانے کیلئے طرح طرح کے غلط اور بے بنیاد اعتراضات کئے جاتے ہیں۔ پوری کوشش کی جاتی ہے کہ نوجوانوں اور کم فہم لوگوں کے دماغ میں شیطانی وسوسے اور شکوک و شبہات پیدا کر کے انہیں اپنے دین اور مذہب سے بد ظن کیا جائے۔ پردہ، حیا اور غیرت جیسی اقدار کو قدامت پسندی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ ڈارون کے نظریہ ارتقا کو ”سائنسی نظریات“ کا نام دے کر مسلسل لوگوں کے اذہان میں ٹھونسنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جس کا واحد مقصد نسل انسانی کا تعلق حضرت آدم علیہ سلام سے کاٹ کر بے جان مالیکیولوں سے ہوتے ہوئے مختلف نباتات اور حیوانات کے ساتھ ملانا ہے۔ ہائبرڈ وار کا پہلا ہدف لوگوں کو فکری طور پر الجھا کر انہیں کنفیوژ بنانا ہوتا ہے جس کا آخری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان خدا کا منکر بن کر جہالت کی انتہا تک پہنج جاتا ہے، پھر جو سوچتا ہے اسے وہی ٹھیک لگتا ہے۔ اس ذہنیت کے حامل لوگ کبھی کہتے ہیں: خدا نے بچے پیدا کرنے کا بوجھ محض عورت پر ہی کیوں ڈالا ہے؟ کبھی کہتے ہیں: مرد و عورت ہر حوالے سے برابر ہیں، کبھی کہتے ہیں: مرد اگر بیک وقت چار شادیاں کر سکتا ہے تو عورت کیوں نہیں؟ اور کبھی کہتے ہیں: جنسی تعلق کے لئے نہ نکاح ضروری ہے اور نہ ہی اس کے لئے متضاد جنس بلکہ عورت، عورت سے اور مرد، مرد سے باہمی رضامندی کے ساتھ تعلق بنا سکتا ہے۔ عرض جو شخص خدا کا انکار کرے اس کے لئے فطرت کے تمام قوانین غلط جبکہ اپنی باتیں درست معلوم ہوتی ہیں۔ اس سے زیادہ قابل افسوس امر یہ بھی ہے کہ کوئی بھی ریاست اپنے باغی اور غدار کو تو سزائے موت دیتی ہے جبکہ دوسری طرف دنیا کی تمام ریاستیں اس کائنات کے حقیقی بادشاہ کے باغیوں کو سزا دینے کی بجائے ان کے حقوق اور ان کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے قانون سازی کر کے اس جرم عظیم میں شریک ہونے کا احساس بھی نہیں کرتیں۔ گزشتہ دنوں اسی ہائبرڈ وار کا پاکستانی خصوصاً پختون معاشرے پر ایک تازہ حملہ کیا گیا۔ ایک برطانوی فیشن میگزین نے ایک نام نہاد نوبل انعام یافتہ لڑکی سے انٹرویو لے کر اس کے مخصوص اور متنازعہ الفاظ کو پبلش کیا جس سے ایک ہنگامہ برپا ہوا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس انٹرویو کو یکسر نظرانداز کر دیا جاتا تاکہ اس کے مقاصد اپنی موت آپ مر جاتے لیکن اس میگزین کا مخصوص پیغام ’شادی نہیں پارٹنرشپ‘ کو ہم نے خود ہر آنکھ اور کان تک پہنچایا۔ ہمارے معاشرے میں موجود لبرل اور سیکولر ذہنیت کے حامل لوگ اس طرح کی صورتحال سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں اور مذہبی رجحان رکھنے والے لوگوں کا تمسخر اڑانے اور خود کو روشن خیال اور ’عقل کل‘ ثابت کرنے کیلئے طرح طرح کی تاویلات پیش کر کے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ چند چیزیں مثلاً اسلام، پختون ولی، غیرت اور حیا جیسی اقدار ہم سب میں مشترک ہیں۔ کوئی بھی شخص اگر ان اقدار کو بائی پاس کرتا ہے تو سمجھو کہ وہ پختون ہی نہیں ہے۔ اس قسم کے کسی بھی معاملے میں ہمارا معاشرہ دو انتہاؤں میں تقسیم ہے۔ ایک طرف اگر سیکولر انتہاپسند مذہبی حدود پامال کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسری طرف ان کے ردعمل میں مذہبی انتہا پسند بھی اعتدال کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمیں دونوں متضاد انتہاؤں تک پہنچنے کی بجائے زمینی حقائق دیکھنے چاہئیں اور حال اور مستقبل کا لائحہ عمل بنانے کے لئے ماضی کے واقعات کا تجزیہ کرنا چاہیے۔ میڈیا ہائبرڈ وار کا سب سے بڑا ٹول ہونے کی وجہ سے ہماری نفسیات کے ساتھ کھیلتا رہتا ہے۔ وہ ویڈیو شاید اب بھی بہت سے لوگوں کو یاد ہو جس نے سوات آپریشن کیلئے رائے عامہ ہموار کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا، سپریم کورٹ نے اس کے خلاف سوموٹو ایکشن بھی لیا لیکن ویڈیو کے جعلی ہونے کا انکشاف تب ہوا جب پانی سر سے گزر چکا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ویڈیو شوٹنگ کے پیچھے ایک این جی او ملوث تھی۔ ملالہ پر حملے کے وقت بھی مغربی میڈیا نے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گویا کہ پختون قوم لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہے، اور ملالہ کو اس تعلیم دشمنی کیخلاف ”جدوجہد کی علامت“ کے طور پر آج بھی پیش کیا جاتاہے حالانکہ یہ مغرب کا ایک بے بنیاد پراپیگنڈا ہے۔ پختون قوم لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہرگز نہیں ہے بلکہ پختون صرف ’مخلوط نظام تعلیم‘ کے خلاف ہیں۔ ہاں پختونوں میں دریا میں ایک پیالے پانی کے بقدر ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ہائبرڈ وار کے مسلسل حملوں کی وجہ سے ’مغرب زدہ‘ ہو چکے ہیں اور ان کو یونیورسٹیوں کے ماحول پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ اکثر انہی لڑکیوں کو ناخوشگوار واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی ایک مثال ’ہائبرڈ وار اور ترک ڈرامے‘ کی پانچویں قسط میں آپ پڑھ چکے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے ممکن ہی نہیں کہ ملالہ کے نام سے پختونوں کے خلاف ایک فکری اور نظریاتی منصوبہ اس وقت شروع ہوا جب بی بی سی پر ’گل مکئی‘ کے نام سے پہلی تحریر نشرا ہوئی۔ ملالہ پر حملہ اس کہانی کی اگلی قسط تھی۔ ملالہ پر قاتلانہ حملہ ہر حوالے سے قابل مذمت تھا کیونکہ وہ ایک بچی تھی اور شاید اس وقت تک اسے یہ پتہ بھی نہ تھا کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے لیکن اس واقعے کا اصل ذمہ دار اس کے باپ کو ہی ٹھہرایا جاسکتا ہے کیونکہ اپنی معصوم بیٹی کو کسی بھی منصوبے میں استعمال کرنا جہاں تہذیب اور اخلاق سے متصادم فعل ہے وہی پر ایک پختون باپ کا کام بھی ہرگز یہ نہیں ہو سکتا۔ یہاں اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں بہت سے نامعلوم اور کم ظرف لوگ پختونوں کے مختلف قبائل میں ضم ہو چکے ہیں اور وقت آنے پر وہ اپنی اصلیت دکھانے کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔ اس قسم کی مثالیں پختونوں کے تقریباً تمام قبیلوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ وہ اپنی اصلیت چپھانے کیلئے اپنے ناموں کے ساتھ آفریدی، یوسفزئی، وزیر اور دیگر قبائل کے نام بھی لکھتے رہتے ہیں لیکن موقع ملتے ہی وہ اپنی اصلیت کا پردہ خود ہی چاک کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شکیل ’آفریدی‘ اور ضیاالدین ’یوسفزئی‘ جیسے لوگ وقتاً فوقتاً سامنے آتے ہیں۔ جہاں تک ملالہ کے حالیہ انٹرویو کا تعلق ہے تو اس کے ذریعے برطانوی صہیونی لابی پاکستانیوں یا پختونوں کے دماغوں تک جو مخصوص پیغام پہنچانے کی کوشش کر رہی تھی اس میں وہ سو فیصد کامیاب رہی اور بدقسمتی سے اس ’کار خیر‘ کے پھیلانے میں سب سے بڑا کردار ہم نے خود ادا کیا۔ ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ سوشل میڈیا پر اس قسم کے منفی پیغامات کو اگر رپورٹ نہیں کر سکتے تو کم از کم اس کی تشہیر کا ذریعہ بھی نہیں بنیں گے۔ اور جو یہ کہتے ہیں کہ یہ ملالہ کے الفاظ نہیں بلکہ ان کے انٹرویو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے تو انھیں سمجھنا چاہیے کہ اس طرح کے شوشے چھوڑنا پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی اور ہائبرڈ اٹیک سے جڑی جزئیات کا باقاعدہ حصہ ہوتا ہے۔ جہاں تک مفتی پوپلزئی کے ٹویٹ پر ضیاالدین ’یوسفزئی‘ کا جواب ہے تو وہ انتہائی غیرتسلی بخش اور محض جان چھڑانے کا ایک بہانہ ہے۔ کسی شخص کا انٹرویو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنا قانوناً جرم ہے۔ اگر ملالہ کا انٹرویو واقعی سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے تو ابھی تک میگزین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز ہونا چاہیے تھا۔ میگزین کو قانونی نوٹس دینا تو بہت دور کی بات ہے ابھی تک اس حوالے سے باپ بیٹی کی جانب سے کوئی مذمتی بیان بھی جاری نہیں ہوا ہے۔ ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے جس کی میں بطور خاص مذمت کرتا ہوں کہ اس معاملے کو بھی بعض مخصوص ذہنیت کے لوگوں نے پختون پنجابی کا مسئلہ قرار دیا۔ اس ٹولے نے پختونوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ چونکہ پنجابی ملالہ کے بیان کی مذمت کرتے ہیں اس لئے پختونوں کو چاہیے کہ ملالہ کا ساتھ دیں۔ اس عمل سے پختونوں کے دماغ میں غیرارادی طور پر ملالہ کے لئے مقام بنانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ غلط کام خواہ کوئی بھی کرے اسے غلط ہی کہنا چاہیے۔ پختون اور پاکستانی خوب جانتے ہیں کہ اس لڑکی پر اتنی بڑی انوسٹمنٹ کیوں ہو رہی ہے؟ اگر یہ انوسٹمنٹ صرف ملالہ پر قاتلانہ حملے کی وجہ سے یا محض انسانیت کے ناطے ہو رہی ہے تو پھر وہ لڑکیاں بھی اتنی ہی توجہ کی مستحق ہیں جو حملے کے وقت ملالہ کے ساتھ گولیوں کا شکار ہوئی تھیں۔ اسی طرح پختونوں اور پاکستانیوں کو نوبل انعام کی حقیقت بھی معلوم ہے۔ اس ملک کے ساتھ مخلص اور قابل ترین لوگوں (جو محسن پاکستان کہلاتے ہیں) کی قسمت میں نوبل انعام تو بہت دور کی بات ہے، صرف ”نظر بندی“ اور ”بدنامی“ ہی ہوتی ہے۔ میرے نزدیک ’ملالہ پراجیکٹ‘ کے کئی مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے برطانوی صہیونی منصوبہ ساز پختونوں کے دماغ سے اصل ’ملالہ‘ کی کردار کشی کر رہے ہیں۔ وہ ملالہ جو ہر پختون کا حقیقی فخر ہے، وہ ملالہ جس نے میوند کی سرزمین پر دوسری افغان-برطانیہ جنگ میں انگریزوں کی شکست فاش میں بنیادی کردار ادا کیا تھا، وہ جنگ جس میں ہزاروں پر مشتمل انگریز فوج کے صرف25  سپاہی زخمی حالت میں سپین بولدک کی طرف فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے اور باقی ہزاروں کا لشکر پرندوں اور جانوروں کا خوراک بنا تھا۔ انگریز اپنی شکست کبھی بھی نہیں بھولتے۔ یہ ایک ہم ہیں جو کبھی ”کوہ نور“ کو یاد تک نہیں کیا ہے۔