اسمبلیاں اگر تحلیل ہوگئیں۔۔۔

اسمبلیاں اگر تحلیل ہوگئیں۔۔۔

ساجد ٹکر

اس وقت ملک میں سیاسی طور پر عمران خان کی پنجاب اور پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کے بیان کا چرچا ہے۔ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا اسمبلیاں تحلیل کی جا رہی ہیں یا نہیں۔ اگر تحلیل کی جا رہی ہیں تو کب۔ اسی طرح یہ بھی سوال بہت اہم ہے کہ اگر عمران خان نے اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنایا تو اس کے اثرات کیا ہوں گے۔ کیا عمران خان اپنی سیاسی چال میں کامیاب ہو پائیں گے۔ کیا پی ڈی ایم حکومت عمران خان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ آیا عمران خان کے اس اقدام سے آئینی یا سیاسی بحران کا کوئی اندیشہ تو نہیں۔ یہ سارے سوالات موجودہ سیاسی حالات میں نہ صرف اہم ہیں بلکہ زبان زد عام بھی ہیں۔ سوالات اس لئے بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ 26  نومبر کو پنڈی میں عمران خان نے اچانک پختونخوا اور پنجاب اسمبلیوں سے نکلنے کی بات کی۔ لوگ حیران رہ گئے۔ لوگ کیا عمران خان کی اپنی پارٹی کے سربراہان بھی ششدر رہ گئے۔ ملک میں سیاسی طور پر طوفان مچ گیا۔ پھر لیکن کچھ وقت کے بعد باتیں سمجھ میں آنے لگیں اور عمران خان نے خود کہہ دیا کہ یہ لوگ ہماری بات سننے کو تیار نہیں ہیں اور اس لئے ہم نے اسمبلیوں سے نکلنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بارے میں ہم مشاورت کریں گے۔ اس کے بعد عمران خان کی خیبر پختونخوا کے وزیراعلی محمود خان اور پنجاب کے وزیراعلی پرویز الہی سے اس بارے ملاقاتیں بھی ہوگئیں اور ساتھ ساتھ پارٹی راہنماوں سے بھی تفصیلی ملاقات لاہور میں ہوئی۔ خبروں کے مطابق دونوں ورزاء اعلی نے اسمبلیوں کی تحلیل کا اختیار عمران خان کو دیا ہے تاہم خبریں یہ بھی ہیں کہ زیادہ تر تحریک انصاف کے راہنما اور اراکین اسمبلی اس اقدام کے حق میں نہیں ہیں۔ پرویز الہی نے تو ببانگ دہل کہا ہے کہ مارچ سے پہلے اسمبلی تحلیل کرنا مشکل ہے۔ بہر حال، عمران خان پارٹی کے سربراہ ہیں اور ظاہر ہے ہوگا وہی جو وہ چاہیں گے۔ فواد چوہدری نے20 دسمبر کی تاریخ دی ہے اور کہا ہے کہ اس دن دونوں اسمبلیاں تحلیل ہوجائیں گی۔ سوال مگر اپنی جگہ یہ ہے کہ عمران خان یہ اقدام اٹھانے جا رہے ہیں یا نہیں۔ اگر ہاں، تو کب۔ اور اگر اسمبلیاں تحلیل کی گئیں تو ملکی سیاسی صورتحال کیا ہوگی۔ پی ڈی ایم اور خود پی ٹی آئی پر اس اقدام کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق اگر عمران خان دونوں اسمبلیوں کو تحلیل کر دیتے ہیں تو اس صورت میں ان دونوں صوبوں میں عام انتخابات کا اعلان کر دیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں نئی اسمبلیاں بن جائیں گی جن کی مدت پورے پانچ سال ہوگی۔ اب مگر سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان اس کے لئے تیار ہوں گے کیونکہ یہ انتخابات وفاقی حکومت کی سرپرستی میں ہوں گے۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ فائدہ عمران خان کو ہوگا کیونکہ اب بھی عوام کا ایک بڑا حصہ ان کے ساتھ ہے تا ہم کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر عمران خان نے اسمبلیاں تحلیل کر دیں تو ان کے لئے جیتنا اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا دکھائی دے رہا ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کے ساتھ اگر صوبوں میں نئے الیکشن کرنے کا اختیار ہے تو ساتھ ساتھ گورنر راج لگانے کا بھی امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ ابھی تک تو گورنر راج کا کوئی خطرہ نہیں لیکن خارج از امکان بھی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ابھی تک وفاقی حکومت بھی عمران خان کے خلاف گھٹنے ٹیکنے کی موڈ میں نہیں۔ وفاقی حکومت نے ابھی ابھی نئے آرمی چیف لگانے کا معرکہ کامیابی کے ساتھ سر کر لیا ہے۔ آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج بھی ملے جلے آرہے ہیں۔ وفاقی حکومت کی کوشش ہے کہ کسی طرح نئے الیکشنز کو آنے والے سال کے وسط سے تھوڑا پیچھے لے جائیں۔ ان کی کوشش ہے کہ آئندہ سال بجٹ پیش کرنے کے بعد نئے انتخابات کا اعلان کیا جائے۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت معاشی مسائل پر قابو پانے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔ اس لئے یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اگر ان کو سات آٹھ ماہ مزید ملتے ہیں تو یہ معاشی مسائل کم کرکے ایک نئے نعرے اور تھوڑی بہت کارکردگی کے ساتھ انتخابات میں جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ لوگوں کے مطابق عمران خان اس وقت فیس سوینگ کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں اور مئی یا جون میں انتخابات پر شائد اکتفا کرنے پر راضی ہوں۔ ان باتوں کے علاوہ ملک کو معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ قرضے واپس کرنے ہیں۔ خزانے میں کم ترین یعنی سات یا آٹھ ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ الیکشن پر خرچہ بھی بہت آتا ہے۔ ایک طرف پی ڈی ایم حکومت کو ان مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے تو دوسری جانب عمران خان کے لئے بھی اسمبلیاں تحلیل کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ ان کی جماعت کے زیادہ تر لوگ اس اقدام کے حق میں نہیں ہیں۔ اس لئے لگ یہ رہا ہے کہ شاید عمران خان اسمبلیاں تحلیل کرنے سے گریز کر جائیں اور دوسری طرف پی ڈی ایم حکومت آئندہ سال کے وسط میں انتخابات کرانے کا اعلان کر جائے۔