جاہل قوم اور بے حس ادارے

جاہل قوم اور بے حس ادارے

تحریر: محمد سہیل مونس

مری کے واقعے پہ بہت کچھ لکھا، دکھایا اور سنایا جا چکا، میرا ارادہ بالکل بھی اس موضوع پہ لکھنے کا نہیں تھا لیکن نہ جانے کیوں لکھنے بیٹھتے ہی ذہن اسی سانحہ کی جانب گیا۔ پہلی بات تو میں اپنی قوم کی جہالت پہ کروں گا کہ ان لوگو ں نے مری میں دیکھا کیا ہے، وہاں پہ ماسوائے لٹنے کے کیا خاص بات ہے؟ دوسری بات یہ کہ اگر کسی جگہ لاتعداد قدرتی حسین نظارے ہوتے تو پھر بھی کوئی بات تھی۔ ایک دو پوائنٹس کے علاوہ سب سے مصروف جگہ مری کی مال روڈ ہے جس پہ چہل قدمی کرتے ہوئے سیاح ڈیڑھ دو کلومیٹر سے زائد آگے پیچھے نہیں جا سکتے، بندہ یکسانیت سے بور ہو جاتا ہے لیکن نہ جانے کیا بات ہے کہ لوگ مری کھچے چلے آتے ہیں ورنہ پاکستان سیاحتی مقامات سے بھرا پڑا ہے۔ ہاں ایک بات ضرور ہے کہ باقی کے جتنے بھی سیاحتی مقامات ہیں وہ خیبر پختونخوا میں ہیں جہاں کا انفراسٹرکچر نہایت ہی خراب ہے اور بات یہ نہیں کہ ان کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا بلکہ بعض جگہوں پہ قصداً انفراسٹرکچر کو اس لئے بھی خراب رکھا گیا ہے کیونکہ اس طرح خیبر پختونخوا کو فائدہ پہنچتا ہے اور اس فیڈریشن میں بمع چند حرام خور پختونوں کے کوئی یہ نہیں چاہتا کہ یہ صوبہ بھی ریونیو جنریٹ کرنے کے قابل ہو سکے چاہے وہ معدنی ذخائر کے میدان میں ہو یا پھر سیاحتی انڈسٹری سے مواقعے ہاتھ آنے کی شکل میں۔ اس کے علاوہ ایک مزید وجہ مری کے قصائیوں کی من مانیوں کو دوام بھی دینا ہے لیکن سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ ایک سیاحتی مقام پر رکنے کی جگہ نہیں، موسم خراب ہے، رخت سفر کے طور پر چند گرم جوڑے کپڑوں کے لئے ہیں، ایک ایک گرم جیکٹ اور ایک عدد سوزوکی گاڑی، خدا کو مانیں جہالت اور کیا ہوتی ہے۔ جب آپ مکمل انتظام کے بغیر نکلیں گے تو ایسا ہی ہو گا۔ اس کو تو میں خودکشی ہی کہوں گا کہ آپ خود دل سے ٹھنڈ میں جان گنوانے کسی جگہ جانے کا قصد کریں۔ اللہ تعالی نے ہر انسان کو عقل و شعور سے نوازا ہے، چند پونڈ ہی صحیح لیکن یہ دماغ استعمال کب کرو گے۔ اب ذرا آگے بڑھتے ہیں اور عقل و شعور کے استعمال کی انتہا ملاحظہ کرتے ہیں کہ جو جہاں کھڑا ہے اپنی جگہ پہ کھڑا ہی رہ گیا ہے اور اس امید پر کہ کوئی آئے گا تو راستہ کھولے گا اور ان کو بخیر و عافیت اس برف سے نکال لے گا۔ اسی مری میں دوسرے شہروں کے علاوہ اپنے پشاور میں کئی چوراہوں اور سڑکوں پہ خود گاڑی سے اتر کر ٹریفک کے فلو کو ٹھیک کر کے اپنی منزل کی جانب پہنچا ہوں بلکہ بعض ایسے چوراہوں پر بھی جہاں ٹریفک پولیس نے ہاتھ تک کھڑے کر دیئے تھے کہ ہم اس قوم کو قابو نہیں کر سکتے۔ ہم اکثر مواقع پر ہیرو تو بہت بنتے ہیں لیکن جب اصل موقع آتا ہے تو دوسروں کا انتظار کرتے ہیں کہ کوئی آئے گا تو مسئلہ حل کر دے گا۔ پھر جہالت کا ایک مزید ثبوت یہ کہ گاڑیوں میں بیٹھ کر، شیشے مکمل بند کر کے کھلے انجنوں کے دھوئیں سے اپنے آپ کو اور اپنے پورے خاندان کو موت کے گھاٹ اتارنا، اب یہ کہاں کی دانائی ہے ۔ عوام کی جہالت تو اپنی جگہ لیکن جو ظلم مری کے ہوٹل مافیا نے ڈھایا اس کی امید کسی کافر سے بھی نہیں کی جا سکتی۔ اگرچہ یہ ظلم اب کا نہیں ہے یہ سالہاسال سے ہوتا چلا آ رہا ہے جس کا کوئی نوٹس لینے والا پیدا ہی نہیں ہوا۔ یہ لوگ ایک عرصہ دراز سے عوام کو لوٹتے آ رہے ہیں اور حیرت کی بات یہ کہ عوام بھی اس لوٹ مار سے خوش ہوتے ہیں بلکہ اس کو سٹینڈرڈ اور سٹیٹس سمبل سمجھتے ہیں، خاص طور پر وہ نودولتئے جو مری سے پلٹنے پر یاروں دوستوں کو قصے سناتے ہیں کہ میں نے ایک نائٹ پچاس ہزار روپے میں فلاں والے ہوٹل میں گزاری، اتنے کا کھانا کھایا اتنے کا ناشتہ کیا۔ اس طرح کے ٹڈپونجیوں کی وجہ سے مری کے قصائیوں کے نرخ چڑھے ہوتے ہیں، وہ کسی سے سیدھے منہ تک بات بھی نہیں کرتے بلکہ اکثر جگہوں پہ دیکھا یہ گیا ہے کہ سیاحوں سے ذرا سی بات پر، ان بن پر فیملیز کے سامنے بات گالم گلوچ اور ہاتھا پائی تک پہنچ جایا کرتی ہے۔ خیر منافع خوروں کی بات کیا کریں جس ملک میں اشیائے خوردونوش پہلے غائب کئے جائیں اور بعد میں مہنگے داموں بیچے جائیں تو مری والے تو چینی اور آٹا مافیا سے بڑے چور تو پھر بھی نہ ہوئے، ہم کس کس بات کا رونا روئیں۔ اب ذرا ان بے حس اداروں کی جانب آتے ہیں جن کا کام ہی ایسے حالات میں سانحات کے تدارک یا ان سے نمٹنے کا ہوتا ہے۔ اگر محکمہ موسمیات نے خبردار کر دیا تھا کہ موسم کے طیور یہ ہوں گے تو انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ چوکنا ہو جاتی اور عوام کو گلیات اور اسلام آباد کی جانب سے داخل ہونے سے روک لیتی لیکن کسی نے اس جانب دھیان ہی نہیں دیا۔ دوسری بات یہ کہ این ڈی ایم اے کہاں سوئی ہوئی تھی، ان سے تو خصوصی طور پر یہ پوچھنا بنتا ہے کہ اس غفلت کی آخر وجہ کیا تھی؟ ہمارے ہاں بھی پی ڈی ایم اے کا ایک تازہ بہ تازہ دفتر کھلا ہے جس کے ڈی جی صاحب کا ماسوائے میٹنگز کے اور کوئی کام ہی نہیں ہوتا، درجنوں سٹاف ممبرز، نہ کوئی کام نہ کاج صبح دس بجے تک ان کے کلاس فور صاحبان کا دیدار ہوتا ہے پھر قہوے کا دور چلتا ہے، گیارہ بجے چائے کا اور بارہ بج کر تیس منٹ پر سارے وضو اور نماز واسطے اٹھ جاتے ہیں، دو بجے تک کام پر واپسی اور گھنٹہ ڈیڑھ میں ہی گھروں کی جانب روانگی۔ ان مفت خوروں میں تقریباً دو درجن سے زائد تو کلاس فور ہیں جو سارا سارا دن اپنے موبائل فونز میں گم رہتے ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کلاس فور میں سے کسی بندے کی تنخواہ چالیس ہزار روپے سے کم نہیں۔ اب عوام ذرا خود اندازہ لگائیں کہ اس طرح کے حرام خور اگر اتنی بڑی بڑی تنخواہیں لے کر بھی کام نہیں کرتے تو ان کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ جن کی غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے اتنی قیمتی جانیں چلی جائیں تو اس کیلئے جوابدہ کون ہو گا؟ یہ تو اس مری پہ قابض اتنی بڑی فوج کے ناک تلے یہ سارا کچھ ہو رہا تھا اور وہ حرکت میں ہی نہیں آئی۔ یہ تمام سوالات جواب چاہتے ہیں اور جواب ریاست اور ریاستی ادارے ہی دے سکتے ہیں کیونکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے ذمہ دار یہی ادارے ہی تو ہیں جو ہر ماہ عوام کے ٹیکسز کا خطیر حصہ تنخواہوں اور مراعات کی شکل میں وصول کرتے ہیں۔ میرے خیال میں وقت آ گیا ہے کہ عوام جہالت سے پیچھا چھڑا کر ہوش کے ناخن لیں اور سب سے اہم کام یہ کریں کہ اداروں اور حکومتوں سے سوال کرنا شروع کر دیں کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے ہرگز نہیں مانتے۔
 

ٹیگس