عمران خان کا اعتراف 

عمران خان کا اعتراف 



 شمیم شاہد 

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بالآخر اعتراف کر لیا کہ انکے اپنے لوگ اسمبلیوں کی تخلیل سے خوفزدہ ہیں ۔ اس اعتراف سے اگر ایک طرف یہ واضح ہوگیا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں میں شامل وزرا اور حکومتی بنچوں پر براجمان ممبران اسمبلی نہیں چاہتے کہ اقتدار از خود چھوڑ کر اپنے آپ کو حریف لگ بھگ ایک درجن سے زائد سیاسی جماعتوں پر مشتمل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی مخلوط یا نگران حکومت کی رحم و کرم پر چھوڑ دیں بلکہ اس سے یہ بھی عیاں ہوگیا  کہ اپنی سیاسی زندگی میں عمران خان کسی بھی ساتھی  یا معتمد کے ساتھ مشورہ کرتا ہے نہ کسی پر اعتماد۔ وہ از خود فیصلے کرتے ہیں اور ساتھیوں یا اتحادیوں سے ان فیصلوں پر عمل در آمد بھی کرنا چاہتے ہیں۔ راولپنڈی میں چھبیس نومبر کی شام کو لانگ مارچ کے آخری جلسے میں شرکا کی مایوس کن تعداد کو دیکھ کر عمران خان نے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کرکے نہ صرف عام لوگوں کو بلکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومتوں کے اعلی عہدیداروں کو بھی حیران و پریشان کر دیا تھا  اسی وقت تو پاکستان تحریک انصاف کے بعض رہنماووں اور وزراء  بشمول پنجاب کے وزیر اعلی چوہدری پرویز الہی نے عمران خان کے ہاں میں ہاں ملا دی تھی لیکن پھر رفتہ رفتہ وہ بھی راہ راست پر آکر عمران خان کو کبھی مارچ اور اگست تک معاملے کو لٹکانے کے مشورے دیتے رہے کچھ اسی قسم کی صورتحال کا سامنا عمران خان کو خیبر پختونخوا میں بھی ہوا جب وہاں پر ایک تعداد کے ممبران صوبائی اسمبلی نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت تک گوارا نہ کیا۔ بہرحال اب یہ حقیقت بھی واضح ہو گئی کہ عمران خان تھرڈ ایمپائر کے تعاون سے محروم ہوگیا ہے اور اب انکی مقبولیت خطرات سے دو چار ہے ۔ ہر ایک بالخصوص باشعور سیاسی کارکن۔ تجزیہ کار اور سیاست کے طالبعلم جانتے ہیں کہ عمران خان نے سیاسی زندگی کا آغاز نوے کی دہائی کے وسط میں کیا تھا مگر انہیں1997اور2002کے انتخابات میں شکست کا سامنا ہوا تھا۔2008 کے عام انتخابات سے قبل وہ مرحوم قاضی حسین احمد اور محمود خان اچکزئی کے ساتھ ملکر کچھ غیبی اور پر اسرار آوازوں کے اثر میں آکر نہ صرف انتخابی عمل سے باہر ہوگئے تھے بلکہ ان تین جماعتوں نے انتخابات سے قبل اور اسمبلیوں سے باہر ایک موثر حزب اختلاف کی بنیاد رکھ دی تھی اور اس اتحاد کے ترجمان راولپنڈی کے شیخ رشید صاحب تھے جو فروری 2008 سے لیکر مارچ 2013 تک روزانہ کی بنیاد پر اسمبلیوں کی تحلیل یا مارشل لا کے نفاذ کی پیشگوئیاں کرکے لفظ پیشگوئی پر سے عوامی اعتماد تک اٹھانے کے ذمہ دار ہیں ۔ بہرحال اب یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ عمران خان کی مقبولیت اور پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کے پیچھے جنرل قمر جاوید باجوہ،جنرل فیض حمید اور جنرل آصف غفور سے قبل جنرل شجاع پاشا اور کئی ایک دیگر عسکری قیادت کے ہاتھ اور کاوشیں تھیں جو اب نہیں رہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج عمران خان کے تراشے ہوئے بت اب انکی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ۔2010سے عمران خان نے کسی بھی ایک سیاسی جماعت یا رہنما کے ساتھ کوئی اچھا سلوک ہی نہیں کیا بلکہ ہر ایک کو چور ، ڈاکو، غدار ، ڈرپوک اور دیگر غیر مہذب الفاظ سے نوازا ہے ۔ اس اہم اعتراف کے بعد اب عمران خان کا ایک قدم مزید پیچھے جا کر ھم عصر سیاسی جماعتوں اور انکے رہنماووں کے ساتھ افہام و تفہیم کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ پاکستان ایک ایسی فیڈریشن ہے جسکے چار اکائیوں میں مختلف النسل اقوام بستے ہیں اور ان تمام کو متفقہ سیاسی نظام پارلیمانی طرز حکومت ہے اس پارلیمانی طرز حکومت کو مظبوط کرنے سے فیڈریشن مستحکم اور توانا ہونے کے قوی امکانات ہیں ۔ سیاسی محاذ سے کبھی بھی نہ اقتدار حاصل ہوتا ہے اور نہ کوئی سیاسی رہنما عوامی سطح پر مقبولیت حاصل کر سکتا ہے ۔ اب بھی وقت ہے کہ عمران خان از خود اپنے  سیاسی طرز عمل پر نظر ثانی کریں۔