عمران خان اب ''حقیقی آزادی''کیلئے

عمران خان اب ''حقیقی آزادی''کیلئے

شمیم شاھد
معزول وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک بار پھر ان کے بقول ''حقیقی آزادی'' کیلئے کال دی اور پورے ملک سے اپنی پارٹی کے کارکنوں کو ہفتہ کے روز اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔ اس نئی کال سے قبل عمران خان نے پارٹی کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی کارروائی میں ان کا ساتھ دیں جہاں پر ان پر ان کے خلاف ہتک عزت کے ایک مقدمے میں فرد جرم عائد کی جا رہی ہے۔ اس کے ردعمل میں وفاقی حکومت نے جمعرات سے غیرمعمولی حفاظتی اقدامات اٹھانا شروع کر دیئے ہیں۔ احتجاج کی اس نئی کال کے حوالے سے عمران خان اور ان کی جماعت کی طرف سے جو بھی تیاری ہو سکتی ہے لیکن اس کے نتائج یا پوزیشن ماضی کے احتجاجی دھرنوں اور ریلیوں سے مختلف ہو سکتی ہے۔ تاہم امکان ہے کہ اسے پنجاب اور خیبر پختونخوا دونوں حکومتوں سے بالواسطہ حمایت حاصل ہو جائے کیونکہ دونوں صوبے ابھی تک وفاقی حکومت کے اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری کے حوالے سے مثبت جواب دینے سے گریزاں ہیں۔ پچھلے اپریل کے تیسرے ہفتے میں حکومت کے ہٹانے یا معزول کرنے کے بعد عمران خان اور ان کے معاونین نے امریکہ پر ان کی حکومت کے خاتمے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا اور اس بنیاد یا نعرے پر وہ امریکہ مخالف ذہنیت کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو گئے لیکن اب صورتحال کچھ مختلف دکھائی دیتی ہے۔ عمران خان اور ان کے معاونین نے سفارت کاروں سمیت امریکی اعلی حکام سے رابطوں کی تصدیق کی ہے اور اس بنیاد پر اب وہ وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں پی ڈی ایم حکومت کے خلاف اپنے اقدامات احتجاجی دھرنوں یا مظاہروں میں امریکہ مخالف کارڈ استعمال نہیں کر سکتے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اسلام آباد میں حکومت کھونے کے بعد تحریک انصاف کی طاقت میں وقت کے ساتھ ساتھ کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس سے قبل2011  سے اپریل2022  تک پی ٹی آئی کو کسی نہ کسی طریقے سے طاقتور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی حاصل رہی تھی لیکن اب پی ٹی آئی طاقتور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ عجیب کھینچاتانی میں مصروف ہے۔ یہ کہنے میں کوئی شک نہیں کہ طاقتور ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے جلسوں، ایجی ٹیشنز اور احتجاج کے سلسلے میں پی ٹی آئی کے ساتھ کسی نہ کسی بلکہ مخیر اور مالدار تابعداروں کے ذریعے مالی ضروریات پوری کرنے میں تعاون کیا تھا۔  اسی طرح پی ٹی آئی نے ابھی ابھی جنوبی پنجاب کے جہانگیر خان ترین کے بعد لاہور سے علیم خان جیسے اپنے چند امیر ممبران کی رفاقت کھو دی ہے جس کے نتیجے میں پارٹی کی سرگرمیوں پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا2011  سے عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کی عوامی حمایت  کا اھم مرکز رہا ہے لیکن اب ایک یا دوسرے طریقے سے پی ٹی آئی کی یہ طاقتور حمایت اور مقبولیت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ ایک طرف اسلام آباد سے محاذ آرائی کی وجہ سے خیبر پختونخوا حکومت شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ اور ایسے حالات میں خیبر پختونخوا حکومت نے عمران خان کو اسلام آباد میں جمع ہونے کی نئی کال کے حوالے سے ابھی تک کوئی واضح مثبت جواب نہیں دیا ہے جبکہ دوسری طرف مختلف حوالوں سے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف اختلافات اور تضادات کا بھی شکار ہو رہی ہے۔ جبکہ عسکریت پسندی بالخصوص وادی سوات سمیت ملاکنڈ ڈویژن اور افغانستان سے ملحقہ اضلاع میں سرحد پار روپوش عسکریت پسندوں کے منظر عام پر آنے اور سرگرمیاں شروع کرنے سے بھی اس صوبے میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف پر منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں جو یقیناً نہ صرف صوبائی حکومت بلکہ صوبے میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے لئے انتہائی پریشان کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں عمران خان نے مالیاتی قلت کی تصدیق کی ہے اور پارٹی فنڈز میں مدد کرنے پر زور دیا ھے۔ ماضی کے برعکس اس بار پارٹی کے کچھ صحت مند اور دولت مند ارکان ان حالات میں چندہ دینے سے گریزاں ہیں۔ وہ مستقبل میں ٹکٹوں کی مکمل ضمانت اور پرکشش وزارت یا دیگر سرکاری دفاتر کی ضمانت چاھتے ہیں۔ اس سے پہلے کچھ موجودہ ایم پی ایز نے لاکھوں میں چندہ دیا ہے لیکن بدلے میں انہیں وزارت اور دیگر سرکاری دفاتر میں نظر انداز کیا گیا۔ سیلاب کی تباہ کاریوں، قیمتوں میں اضافے اور معاشی بحران نے ملک بھر میں عام آدمی کو بھی متاثر کیا ہے۔ وفاقی حکومت اور عالمی برادری سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بچاؤ، مدد  اور بحالی کی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔  سیلاب کی تباہ کاریوں سے عام آدمی بھی پریشان ہے جبکہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال کی کوئی پرواہ ہی نہیں۔ عام لوگ بین الاقوامی برادری کی طرف دیکھ رہی ہے، اس ہنگامی صورتحال میں بھی عمران خان محاذ آرائی کی سیاست کو جاری رکھنے اور اسے مزید بڑھانے ہر تلا ہوا ہے۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے چند خاص علاقوں کو چھوڑ کر عمران خان نے اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ نہیں کیا ہے جس سے عام لوگوں کے رویوں میں عمران خان اور ان کی جماعت کے بارے میں تبدیلی آنا ایک قدرتی امر ہے۔ گو کہ قومی اسمبلی کی نو نشستوں کے ضمنی انتخابات کے نتائج کے بارے میں اس وقت کچھ کہنا قبل از وقت ہے جہاں سے عمران خان نے پی ڈی ایم کے امیدواروں کو چیلنج کیا ہے لیکن2018  کے عام انتخابات کے مقابلے میں ان نو حلقوں میں سے زیادہ حلقوں کے زمینی حقائق مختلف ہیں۔ ان بنیادوں پر نہ تو عمران خان اور نہ ہی ان کی پارٹی کے معاونین الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کی ان تمام نو نشستوں پر آئندہ16  اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کو ملتوی کرنے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا۔ خیبر پختونخوا کی سطح پر بھاری اکثریت کے باوجود پی ٹی آئی کی صفوں میں وسیع پیمانے پر دراڑیں، غیریقینی صورتحال اور عجیب و غریب کھینچاتانی موجود ہے۔  ابھی حال ہی میں، عمران خان نے کہا کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے ٹکٹ کارکردگی، پارٹی کی وفاداری اور ووٹرز کے ساتھ امیدواروں کے رویے کی بنیاد پر دیئے جائیں گے، اس طرح موجودہ اراکین اسمبلی کی ایک بڑی تعداد کے مستقبل کے بارے میں غیریقینی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ایم پی ایز کی اکثریت بشمول وزارتی دفاتر پر قابض اپنے مستقبل کے لیے خطرات محسوس کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے  موجودہ پارلیمانی میعاد ختم ہونے سے پہلے ہی کچھ موجودہ ایم پی ایز دوسری پارٹیوں کی طرف رواں دواں ہیں۔ اب تک دو ایم پی اے پی ٹی آئی سے علیحدگی کا اعلان کر چکے ہیں۔